کراچی کے تمام محکموں کو ایک سسٹم کے ماتحت کیا جائے:حافظ نعیم

کراچی کے تمام محکموں کو ایک سسٹم کے ماتحت کیا جائے:حافظ نعیم

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی شہر اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کی بلدیہ کے پاس اختیارات نہ ہوں، کراچی میں قائم تمام سرکاری محکموں کو ایک سسٹم کے ماتحت کیا جائے، شہر کا سب سے بڑا مسئلہ درست مردم شماری ہے، اگر شہر کی درست مردم شماری ہی نہ کی گئی ہو تو منصوبہ بندی کیسے کی جاسکتی ہے، کراچی کی مردم شماری درست کرلی جائے تو صوبائی اسمبلی میں کراچی کی نشستیں 62ہوجائیں گی اور مسائل حل ہونے میں مدد ملے گی، ایم کیو ایم نے پہلے مسلم لیگ (ن)کے ساتھ مل کر کوٹہ سسٹم میں 20سال کو توسیع کی اور اب پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر کوٹہ سسٹم کو غیر معینہ مدت تک بڑھادیا ہے، کراچی کے نوجوانوں کو روزگار ملنا چاہیے، شہر کے بچے، بزرگ،نوجوان، وکلاء، دانشور،اساتذہ سمیت تمام طبقہ فکر سے وابستہ افراد جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق 27 ستمبر کو شاہراہِ قائدین پر خصوصی خطاب کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں جے آئی یوتھ کے تحت ”حقوق کراچی تحریک“اور 27ستمبر کو شاہراہ قائدین پر عظیم الشان ”حقوق کراچی مارچ“ کے سلسلے میں با اختیار شہری حکومت۔۔۔ناگزیر کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے نائب امیرجماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی،این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر رضاعلی خان، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک،ایڈیٹر روزنامہ جسارت مظفر اعجاز، صدر جے آئی یوتھ کراچی ہاشم یوسف ابدالی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ جماعت اسلامی کراچی نے حقوقِ کراچی کی تحریک تیز کردی ہے، جماعت اسلامی کراچی نے شہر کراچی کوتعمیر کیا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک کے عوام کی رائے پر قبضہ کرنے کا عمل شروع ہوا، شہر کراچی کو ہمیشہ سے طالع آزما قوتوں نے ترقی سے روکے رکھا، سابق سٹی نعمت اللّٰہ خان شہر میں مثالی اور ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے، شہر میں پینے کے صاف پانی کے لیے ”کے تھری“کا منصوبہ بنایا اور ”کے فور“کا منصوبہ پیش کیا،نعمت اللہ خان کے بعد سے اب تک کے فور منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، ماس ٹرانزٹ بھی نعمت اللہ خان نے پیش کیا جسے بابر غوری اور فاروق ستار نے پروجیکٹ کو مکمل نہیں ہونے دیا۔انہوں نے کہاکہ آج شہری پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، سیوریج جیسے بے شمار مسائل سے دوچار ہیں۔مردم شماری کے 5 فیصد بلاکس کھولنے کا فیصلہ کیا گیا جودوبرسوں میں کسی پارٹی نہیں کیا، وڈیرے اور جاگیردار طاقت کے بل بوتے پر سندھ کے ہاری اور کسانوں کو غلام بنا کے رکھتے ہیں، صوبے میں وڈیروں کے ذریعے سے ہی نمائندگی حاصل کی جاتی ہے۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہاکہ شہر کراچی آج جن مسائل سے دوچار ہے، اس کی تمام تر ذمہ داری حکومتی جماعتوں کے نمائندوں پرعائد ہوتی ہے جنہوں نے ہمیشہ کراچی کے عوام کا استحصال کیا،کبھی قومیت اور کبھی عصبیت کے نام پر ووٹ لیے اور کراچی کو کچھ نہیں دیا،حالیہ بارشوں نے کرپٹ اور نااہل حکمرانوں کے چہروں کو بے نقاب کردیا اور واضح کردیا کہ شہر کا انفراسٹرکچر ٹھیک کرنے والی کوئی جماعت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نفرتوں کے مقابلے میں محبت کی سیاست کرنا چاہتی ہے اور نیشنل ازم کے مقابلے میں ایمان کی طاقت رکھتے ہیں۔صوبوں میں جاگیردار اور وڈیروں کی حکومت ہے جسے شہر کے ایک فیصد شہریوں کی بھی حمایت حاصل نہیں ہے،آج اکیس ویں صدی کے دور میں بھی وڈیروں اور جاگیرداروں نے کسان اور ہاریوں کو غلام بنارکھا ہے،سندھ اسمبلی جاگیرداروں اور وڈیروں کے ہاتھوں یرغمال ہے اور یہ لوگ اپنی مرضی سے شہری اضلاع بناکر فیصلے مسلط کرتے ہیں،ایم کیوایم جو کہ گزشہ 30سالوں سے پیپلزپارٹی کے ساتھ حکومت میں شریک رہی ہے انہوں نے سندھ حکومت کے ساتھ کراچی کے عوام کا سودا کیا ہوا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -