کراچی کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے کوئی امید نہیں:مصطفیٰ کمال

کراچی کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے کوئی امید نہیں:مصطفیٰ کمال

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی والوں کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے پہلے ہی کوئی امید نہیں ہے، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس آف پاکستان کی کراچی آمد اور مسائل کے حل میں دلچسپی لینے سے جو امید جاگی ہے وہ مایوسی میں تبدیل نہیں ہونی چاہئے، نئے واقعات کے رونما ہوتے ہی حکمران کراچی کو بھول گئے، وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ 1150 ارب روپے کے پیکج کا کچھ پتہ نہیں۔ کراچی کے مسائل حل کرنے کے بجائے دوبارہ نئے سانحے کا انتظار کیا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو  پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی اور اراکینِ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ مصطفی کمال نے  کہا کہ کراچی کو پیکج دینا ایسا ہے کہ مزدور سے اس کی تنخواہ چھین کر بریانی کی تھیلی تھما دی جائے اور ساتھ ساتھ تصویر بھی کھنچوائی جائے کہ ہم نے مظلوم کی مدد کی۔ کراچی کو اسکی تنخواہ دے دو، وہ خود بھی کھانا کھالے گا اور سارے ملک کو پہلے بھی کھلا رہا ہے اور اب بھی کھلائے گا۔ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے اور کراچی کی بربادی پاکستان کی بربادی ہے۔ پی ایس پی کے پیش کردہ 6 نکات میں ہی کراچی سمیت پورے پاکستان کے مسائل کا حل ہے، مقتدر حلقوں کو پاکستان کی ترقی کی خاطر آج نہیں تو 50 سال بعد بھی ہماری یہی بات ماننی پڑے گی کیونکہ اسکے علاہ کوئی حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں مسائل حل نہیں ہوئے تو لوگ اداروں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ ہمارے ملک کی المناک حقیقت یہ ہے کہ جب بھی بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات دیئے گئے وہ آمروں نے دیئے جبکہ نام نہاد جمہوریت کے دعویداروں نے ہمیشہ عوام کے حقوق غضب کر کے رکھے حتی کہ بلدیاتی انتخابات تک سپریم کورٹ کی مداخلت سے ہوتے ہیں، دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں بلدیاتی حکومتوں کو ایک دن کیلئے بھی غیر فعال نہیں کیا جاتا۔ اہم سے اہم مسائل کو لسانی سیاست کی نظر کر دیا گیا ہے، سندھی ہمارے بھائی اور انصار ہیں لیکن پیپلز پارٹی اپنی تعصب زدہ اور کرپٹ حکومت کو طول دینے کے لیے صوبے میں خونی سیاست کرتی ہے، جس کی وجہ سے نفرتوں میں اضافہ ہوتا ہے، دھرتی ماں کو بچانے کی باتیں کرنے والوں نے دھرتی ماں کے دل کراچی کو 7 حصوں میں کاٹ ڈالا ہے۔ انگریز یہاں سے چلے گئے لیکن اپنا بنایا ہوا غلامی کا نظام یہیں چھوڑ گئے، پیپلز پارٹی کمشنرز کے ذریعے اسی نظام کو چلا رہی ہے جبکہ مہاجروں کے نام نہاد نمائندے پیپلز پارٹی کی تعصب زدہ سیاست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے کا نعرہ لگا کر اپنی کرپشن کو چھپانے کی خاطر مہاجروں کو سندھیوں کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اندرون سندھ آباد لاکھوں مہاجروں کو نیا صوبہ نہیں چاہیے۔ 

مزید :

صفحہ آخر -