تھانے میں آئی خاتون سائل کے سامنے نیم برہنہ جسم لیے بیٹھے یہ پولیس اہلکار کس تھانے کے ہیں اور اب کہاں پر ہیں ؟ جانئے 

تھانے میں آئی خاتون سائل کے سامنے نیم برہنہ جسم لیے بیٹھے یہ پولیس اہلکار کس ...
تھانے میں آئی خاتون سائل کے سامنے نیم برہنہ جسم لیے بیٹھے یہ پولیس اہلکار کس تھانے کے ہیں اور اب کہاں پر ہیں ؟ جانئے 

  

جھنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن )سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر تیزی کے ساتھ وائرل ہوئیں جس میں پولیس اہلکار مدد کیلئے آنے والے سائلین کے سامنے بدتمیزی کی انتہا کرتے ہوئے نیم برہنہ ہو کر بیٹھ رہا تاہم اب اس کے خلاف سخت ایکشن لے لیا گیاہے ۔جن کی شناخت ہیڈ کانسٹیبل اورنگزیب اور کانسٹیبل ظفر دانش کے نام سے ہوئی ہے جو کہ سیٹلائٹ ٹاﺅن کے تھانے میں تعینات تھے ۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ تصاویر دراصل جھنگ کے ماڈل پولیس سٹیشن کی ہے جہاں ایک خاتون سائل اپنی فریادلے کر آئی تو پولیس اہلکار نے اسکے سامنے اپنی وردی اتارلی اور ننگے بدن خاتون کی شکایت سننے لگا جبکہ پاس بیٹھا پولیس اہلکار اسے دیکھ کر بے شرمی سے مسکراتا رہا۔

ان تصاویر نے تو سوشل میڈیا صارفین کو حیرت میں ہی مبتلا کر دیا اور بحث شروع ہو گئی ۔ ان تصاویر پر سینئر صحافی رائے ثاقب کھرل نے بھی سوالات اٹھائے اور پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” کیا یہ حراسانی نہیں ہے ؟ کہ پولیس اہلکار نیم برہنہ پولیس سٹیشن میں بیٹھا ہے ۔ صحافی نے اپنے ٹویٹ میں آئی جی پنجاب انعام غنی اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ڈیجیٹل میڈیا فوکل پرسن کو مخاطب کرتے ہوئے اس طرف توجہ دلائی ۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے ڈیجیٹل میڈیا پر فوکل پرسن اظہر مشوانی نے صحافی رائے ثاقب کھرل کی ٹویٹ کا نوٹس لیا اور کچھ دیر کے بعد انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” تمام ذمہ داران کے کوفوری طور پرمعطل کر دیا گیا ہے اور انکوائری شروع کر دی گئی ہے ۔“

اظہر مشوانی نے اس کے بعد جھنگ پولیس کی جانب سے جاری کردہ ٹویٹ کو بھی شیئر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ” متعلقہ محرران سیٹلائیٹ ٹاون ہیڈ کانسٹیبل اورنگریب اور کانسٹیبل ظفر دانش کو ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر فوری معطل کر کے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔“

مزید :

علاقائی -پنجاب -جھنگ -