" حالیہ ملاقات سے پہلے محمد زبیر 36 سال میں کبھی آرمی چیف سے نہیں ملا"

" حالیہ ملاقات سے پہلے محمد زبیر 36 سال میں کبھی آرمی چیف سے نہیں ملا"

  

فیصل آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر کی حالیہ ملاقاتوں سے پہلے گذشتہ 36 سال میں آرمی چیف سے ان کی  کوئی ملاقات نہیں ہوئی، مولانا فضل الرحمان سے لیکر بلاول زرداری تک سب آرمی چیف سے تنہائی میں ملاقات کر چکے، مولانا فضل الرحمان بھی آرمی چیف سے ون آن ون ملاقات کر چکے،چیلنج کرتا ہوں کہ میں میری بات کو جھوٹا ثابت  کریں،مولانا فضل الرحمان ملک میں شیعہ، سنی فسادات پھیلانا چاہتے ہیں،ہرہفتے ایک سیاسی لیڈر کو بے نقاب کروں گا، نہ یہ استعفی دیں گے، نہ دھرنا دیں گے، نہ عدم اعتماد لائیں گے،اپوزیشن  اگر استعفیٰ دینا چاہتی ہے  تو دے ہم آج ہی الیکشن کرائیں گے،نوازشریف  ضیاالحق کی گود میں جوان ہوکر آج اسی فوج کو آنکھیں دکھارہا ہے،  نوازشریف نے اپنی سیاست کا گلا خود دبا کر اپنی سیاسی قبر کھود دی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ محمد زبیر کی آرمی چیف سے کوئی دوستی نہیں ہے، محمد زبیر کی 36 سال سے قمر جاوید باجوہ سے ملاقات نہیں ہوئی، ان کی اب ملاقات ہوئی ہے،  میں سوچتا ہوں کہ میں کونسی ایسی بات کی ہے جس سے ادھم مچ گیا ہے، کیا پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف سے ملنا اعزاز نہیں ہے، میرے مطابق ایک اعزاز ہے، ڈی جی آئی ایس آئی سے ملنا اعزاز ہے، مولانا فضل الرحمان سے لے کر بلاول زرداری تک سب آرمی چیف سے تنہائی میں ملاقات کر چکے ہیں اور چیلنج کرتا ہوں کہ میں جھوٹا ثابت کیا جائے،فضل الرحمان جو بڑی باتیں کرتے ہیں وہ بھی آرمی چیف سے ون آن ون ملاقات کر چکے ہیں، شہباز شریف کس بات پر لوگوں کو اکسا رہے ہیں؟ چار ماہ آل پارٹیز کانفرنس نے دیئے ہیں جنہیں میں بھی چار ماہ دیتا ہوں،عوام دیکھ لیں گے کہ ان کا کیاحال ہو گا؟ ایک تو چوری کرتے ہیں پھر اس پر سینہ زوری بھی کرتے ہیں، آج ملک میں چینی اور آٹے کی قیمت اس لئے مہنگی ہے کہ یہ چور ملک کو لوٹ کر باہر چلے گئے ہیں،فضل الرحمان اس وقت ملک میں فساد چاہتا ہے، میں اخلاق کے دائرے کوکراس نہیں کرنا چاہتا، میں ہر ہفتے ایک سیاستدان کو ایکسپوز کروں گا۔

 شیخ رشید نے کہا کہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ شیخ رشید قومی سلامتی کے اجلاس میں ہوں گے تو نہیں آؤں گا، یہ نہیں کہا کہ اب نہیں جاؤں گا،میں  بلاول کی پیدائش سے پہلے قومی سلامتی کا ممبر ہوں، بلاول اپنی تاریخ پیدائش  نکال کر دیکھ لے، نوابزادہ نصراللہ خان کے ساتھ فارن  افیئرز کمیٹی کا دو مرتبہ ممبر رہا اور امریکہ کشمیر پالیسی کا صدر رہا،بلاول کی والدہ بے نظیر زندہ ہوتی تو بتاتی شیخ رشید کون ہے؟ذوالقار علی بھٹو زندہ ہوتے تو بتاتے شیخ رشید کون ہے؟ بلاول سے پیار کرتا ہوں، وہ میرا پیارا ہے، بلاول سے پوچھیں میں نے اس کا کیا بگاڑا ہے؟ میں نے اکیلے ہی لیاقت باغ میں بھٹو کا جلسہ پلٹ دیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ جو  لوگ قوم کو بہکانا چاہتے ہیں ان کے ملازموں کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکلتے ہیں، یہ لوگ کس منہ سے احتجاج کی بات کرتے ہیں؟ اگر انہیں استعفیٰ دینا ہے تو دیں استعفیٰ اسمبلیوں  سے ہم نئے الیکشن کرواتے ہیں، قوم تیار ہیں نئے امیدوار تیار ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ استعفی دیں گے نہ دھرنا  دیں گے اور نہ ہی عدم اعتماد لائیں گے، اگر پیپلزپارٹی نے استعفیٰ دیا تو سندھ سے حکومت بھی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ میں عمران خان کے مخالف نہیں ہوں، فوج کے مخالف ہوں، آپ جندال کے ساتھ ہیں، مودی کے ساتھ ہیں، راء کے ساتھ ہیں، جن کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے، نواز شریف نے اپنی سیاست کی قبر خودکھودی ہے، جنوری میں ن سے ش نکلے گی، نکلے گی نکلے گی جبکہ آج پاکستان کی سلامتی کی ضامن پاک فوج ہے، چاہے بھاشا ڈیم ہو، نیم جہلم ہو، ٹڈی دل ہو، سیلاب ہو یا کورونا ہو ہر جگہ فوج سول حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔

مزید :

Breaking News -قومی -