پاکستان میں سائنس کی صورت حال اور فکری انتشار

پاکستان میں سائنس کی صورت حال اور فکری انتشار
پاکستان میں سائنس کی صورت حال اور فکری انتشار

  

سائنس اورٹیکنالوجی پاکستان میں ایک ترقی پذیر فیلڈ ہے اور اس نے اپنے قیام کے بعد سے ہی ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں سائنس دانوں، انجینئروں، ڈاکٹروں، اور تکنیکی ماہرین کا ایک بہت بڑا تالاب موجود ہے جو سائنس اورٹیکنالوجی میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ لیاقت علی خان نے اعلی تعلیم اور سائنسی تحقیق میں بہتری لانے کے لئے مختلف اصلاحات کیں۔ پاکستان میں سائنس کے جسم میں روح 2002 میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد پھونکی گئی۔ ہائیر کمیشن نے سائنس کو بڑے پیمانے پر سپورٹ کیا۔1960 اور 1970 کی دہائی کو پاکستان کی سائنس کا ابتدائی عروج قرار دیا جاتا ہے، اس وقت پاکستان نے دنیا کی مختلف سائنس برادریوں میں بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ اس عرصے کے دوران، سائنس دانوں نے خاص طور پر قدرتی مصنوع کیمیاء اشیاء، نظریاتی، ذرہ، ریاضی، جوہری طبیعیات، کیمسٹری اور طبیعیات کے دیگر بڑے اور ذیلی شعبے میں کام کیا۔ تاہم، سائنسی پیداوار میں بڑی ترقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد ہوئی ہے جس میں سائنس کے لئے فنڈز میں 60 گنا اضافہ ہوا تھا۔

پاکستان میں سائنس کی اصل نمو 2000-2008 کے دوران پروفیسر عطا الرحمن کی سربراہی میں ہوئی جب وہ وفاقی وزیر برائے عہدے کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر اور بعد میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین تھے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے چیئرپرسن نے پروفیسر عطا الرحمن کی سربراہی میں ایچ ای سی کے پہلے 6 سالوں کا اعلان ''پاکستان کے سنہری دور'' کے طور پر کیا۔ تھامسن رائٹرز نے، بین الاقوامی مطبوعات میں پاکستان کی پیشرفت کے آزادانہ جائزے میں، اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ دہائی میں بین الاقوامی اشاعتوں میں چار گنا اضافہ ہوا ہے اور انتہائی حوالوں سے لکھے گئے کاغذات میں دس گنا اضافہ ہوا ہے، اعداد و شمار جو برک ممالک سے بہتر تھے۔

مارچ 2002 میں سکول اساتذہ کو تربیت دینے کے لئے ایک ملک گیر پروگرام شروع کیا گیا تھا،جس کے نتیجے میں پاکستان کے 70 اضلاع اور شہروں میں 220،000 سکول اساتذہ کی تربیت حاصل ہوئی ہے۔ سائنسی پیداوار میں پاکستان کی ترقی کو اس حقیقت سے دیکھا جاسکتا ہے کہ 1990 میں پاکستان نے 926 علمی دستاویزات شائع کیں جبکہ 2018 میں یہ تعداد بڑھ کر 20548 ہوگئی۔ سائنس کے میدان میں موضوعات کی بات کی جائے تو کیمسٹری ملک میں سب سے مضبوط موضوع ہے جس میں کیمیاوی اور حیاتیاتی علوم کے بین الاقوامی مرکز میں ملک کے سب سے بڑے پوسٹ گریجویٹ ریسرچ پروگرام نے مرکزی کردار ادا کیا ہےاور اس میں پی ایچ ڈی کے لئے 600 طلباء داخلہ لے چکے ہیں۔

طبیعیات (نظریاتی، جوہری، ذرہ، لیزر، اور کوانٹم طبیعیات)، مادی سائنس، دھات کاری (انجینئرنگ)، حیاتیات، اور ریاضی، کچھ دوسرے شعبوں میں ہیں جن میں پاکستانی سائنسدانوں نے حصہ ڈالا ہے۔ 1960 کی دہائی اور اس کے بعد سے، پاکستان کی حکومت نے سائنس کی ترقی کو قومی ترجیح بنایا اور اعلی سائنسدانوں کو اعزاز سے نوازا۔ پاکستانی سائنس دانوں نے بھی ریاضی اور جسمانی سائنس کی متعدد شاخوں، خاص طور پر نظریاتی اور ایٹمی طبیعیات، کیمسٹری اور فلکیات میں تعریف حاصل کی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں تعلیم کی شرح بلندیوں کی طرف گامزن ہے۔ کہ ہر پاکستانی نوجوان دو سے تین ڈگریوں کا مالک ہےتاہم حیران کن امریہ ہے کہ ہر شخص کے ہاتھ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ ہے۔ بورڈز کے امتحانات میں طلباء 1100/1097 نمبروں کے ساتھ کامیاب ہو رہے ہیں لیکن ناجانے اس ملک کو کس کی نظر کھا گئی کہ سائنس کے دوڑ میں کافی پیچھے ہیں۔ پاکستان کی یہ صورت حال دیکھ کر اس بات کا تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ڈگریاں کبھی بھی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔

ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی نسل کو نمبروں کی ریس میں ڈال دیا ہے۔ اس خطے کا بچہ صرف نمبروں کے لیے سکول کی خاک چھانتا ہے۔ اس ملک کے والدین نمبروں کے لیے اپنے بچوں کی بھاری بھرکم فیسوں کو جمع کرواتے ہیں،اس ملک کا استاد اچھے نمبر حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اس ملک کا سیاستدان اندرونی، بیرونی کے حالات کے لیے پریشان ہے اس بات سے سب خوش ہیں کہ تعلیم عام ہورہی ہےمگر افسوس اس تعلیم کا کیا فائدہ جو ہمارے لیے سوائے کاغذ کے سرٹیفکیٹ دینے کے سوا کچھ بھی نہیں؟ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی؟ دور نہ جائیں اپنے ہمسایہ ممالک کو ہی دیکھ لیں روز با روز سائنس کی دنیا میں ترقی کرتے جا رہے ہیں۔ بالخصوص چائنہ سائنسی اعتبار سے دنیا میں اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔لیکن۔۔۔! ہم ہیں کہ اپنے سیاسی مسائل پر الجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے سے ہی فرصت نہیں۔

سائنس کی ہر فیلڈ کی ڈگری پاکستان میں دی جارہی ہے۔ ہمارے ہاں تجرباتی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم تب تک ترقی نہیں کر سکتے جب تلک ہم سائنسی اعتبار سے ترقی نہ کرلیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک میں تجرباتی کام کو فروغ دیں۔ اپنے نوجوان کو اس ریس سے نکالیں اور پریکٹیکل کام کی ترغیب دیں۔ کسی ملک کی سائنس کی حالت کا اندازہ لگانے کا ایک طریقہ یہ ہوگا کہ اس کے سائنس دانوں کی حالت کا اندازہ لگایا جائے اور معلوم کیا جاسکے کہ کیا اس کے ادارے معاشرے میں عقلی ذہنیت کو فروغ دے رہے ہیں؟۔

بدقسمتی سے پاکستان ایک سیکیورٹی ریاست ہونے کے بعد اس کی سائنس اور ٹیکنالوجی اپنی سیاست اور قومی دفاع کے تابع رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں، پاکستان میں بیشتر تحقیقی ادارے جوہری / اعلی توانائی کی طبیعیات اور خلائی / فوجی ٹیکنالوجی کی طرف راغب ہیں۔ در حقیقت، ان تمام شعبوں میں ان تمام پاکستانی سائنس دانوں کی شراکت کی گئی ہے جنھیں انتہائی مشہور شہری ایوارڈز (نشانِ امتیاز، ہلالِ امتیاز اور ستارہ امتیاز) سے نوازا گیا ہے۔ کچھ مستثنیات کو چھوڑ کر، زیادہ تر پاکستانی سائنس اورٹیکنالوجی اپنے دفاعی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا ایک مصنوعہ ہے،اگرچہ ایٹمی طبیعیات اور میزائل ٹیکنالوجی کے پاکستانی محققین سائنس کی طرف اس مارشل اپروچ کے منطقی فائدہ اٹھانے والے تھے لیکن قومی سماجی و اقتصادی ترقی کے کلیدی شعبے (توانائی، صحت کی دیکھ بھال، ماحولیات اور شہری بنیادی ڈھانچے) کو بڑی حد تک نظرانداز کیا گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں، ہم ہمیشہ یہ سنتے ہیں کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں اور میزائل ٹکنالوجی کی ترقی میں کس طرح بھارت سے بہتر تر ہے لیکن جو ہم نہیں سنتے وہ یہ ہے کہ ہندوستان پاکستان کے مقابلے میں کس سے دوگنا بجلی پیدا کرتا ہے،جس کے معیشت اور عام آدمی کی راحت کے بہت دور رس نتائج ہیں۔ پاکستانی میڈیا نےاپنے سامعین کو واقعات دیکھنےکےغیر معقول طریقوں پر اور غیر مستحق ہیرو بنا کر سائنس کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔مباحثے کے ان غیر سائنسی طریقوں نے عقلی مسئلے کو حل کرنے کے خلاف پاکستان میں فکری انتشار پیدا کرکے سائنس کو بری طرح متاثر کیا ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے لئے وسائل کے مختص رقم میں اضافہ سائنسی ثقافت کو تقویت بخش اور برقرار رکھنے کے لئے کافی نہیں ہوگا۔ سائنسی رویہ اور روشن خیال سلوک کو فروغ دینے کے لئے مزید ”جدید ترین“ یونیورسٹیوں کی تعمیر اور مصنوعی سیاروں کو مدار میں رکھنے سے زیادہ بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

سائنس کو گلے لگانے کے لئے صرف پیشے کی بنیاد پر، پیسہ کمانے والے راستے پر عمل کرنے کی بجائے، سوچے سمجھنے اور بولنے کی آزادی کو فروغ دینے اور زندگی بھر سیکھنے کی وابستگی ظاہر کرنے، تعصبات کو ترک کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سائنس کو ان کی تنقیدی صلاحیتوں کی نشوونما اور اعلی سائنسی نظریات کو فروغ دینے کے بغیر طلباء کو تکنیکی علم دینے میں کوئی کمی نہیں کی جانی چاہئے۔ اساتذہ کو اپنے طلبا میں یہ خیال پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ سائنسی طریقوں کا مطلب فطری طور پر انکولی اور خود تنقید کرنا ہے اور ان کا واحد مقصد تعصبات سے قطع نظر حقیقت کا حصول ہے۔

(رابعہ سلطان نوجوان لکھاری ہیں جو مختلف سوشل ایشوز پر بڑے دبنگ انداز میں اخبارات اور ویب سائٹس پر وقتا فوقتا لکھتی رہتی ہیں ، فیڈ بیک کے لئے ان سے rabiamalik78112@gmail.com  پر  براہ راست رابطہ کیا جا سکتا ہے)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -