کیا واقعی 49 صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمات درج کیے ہیں؟ حقیقت جانئے

کیا واقعی 49 صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمات درج کیے ہیں؟ حقیقت جانئے
کیا واقعی 49 صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمات درج کیے ہیں؟ حقیقت جانئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بعض ٹی وی چینلز پر جمعرات کے روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ 49 صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے خلاف ایف آئی اے نے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے ہیں تاہم اب خبر کی صداقت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق ایف آئی اے اسلام آباد اور ایف آئی اے راولپنڈی کے دفاتر نے صحافیوں کے خلاف اس قسم کی کسی کارروائی سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ نہ تو کسی صحافی کے خلاف کوئی شکایت آئی ہے اور نہ ہی کوئی مقدمہ درج ہوا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق 49 لوگوں کے خلاف مقدمات کے حوالے سے خبر دراصل ایک وائرل واٹس ایپ میسج کے ذریعے مختلف میڈیا ہاؤسز تک پہنچی۔ ایف آئی اے کی جانب سے جن افراد کے خلاف مقدمات درج کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ان میں کالم نویس عمار مسعود، صحافی اعزاز سید، اسد طور، ابتیاہم افغان، مرتضیٰ سولنگی اور عمر چیمہ سمیت دیگر شامل ہیں۔ 

اس واٹس ایپ میسج کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزام تراشی کرنے والے صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے خلاف شواہد کی بنیاد پر مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف شواہد کی بنیاد پر سخت ایکشن لیا جائے گا، سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزام تراشی کرنے والے سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔

صحافی عمر چیمہ نے ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  " کسی میڈیا کے دوست نے مجھے بتایا کہ تمام میڈیا کے دفاتر میں بھی یہ میسج جاری کیا گیا اور ہدایت جاری کی گئی کہ اسے ٹی وی پر بھی چلایا جائے۔ اب اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ میسج کس نے بھیجا اور کہاں سے آیا؟ اگر میڈیا کوریج کے لیے ایک میسج جاری کیا گیا ہے تو کسی سرکاری سطح سے ہی اسے جاری کیا گیا ہو گا کیونکہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ کوئی بھی میسج ٹائپ کرکے گروپس میں ڈال دے اور وہ ٹی وی پر بھی چل جائے۔"

عمر چیمہ کے مطابق گزشتہ 4 سے 5 مہینے سے ایک انکوائری چل رہی ہے اور ثبوت اکٹھے کیے جارہے ہیں تاکہ جو صحافی پسند نہ آئے تو اس کے خلاف کیس بنایا جاسکے۔

مزید :

قومی -