قریبی ساتھی کی گرفتاری پر مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں آگئے،حکومت اور نیب کو للکارتے ہوئے ایسی بات کہہ دی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکے

 قریبی ساتھی کی گرفتاری پر مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں آگئے،حکومت اور ...
 قریبی ساتھی کی گرفتاری پر مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں آگئے،حکومت اور نیب کو للکارتے ہوئے ایسی بات کہہ دی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نیب نے آج مجھ پر پہلا حملہ کیا ہے اور میرے ساتھی کے والد کو گرفتار کیا ہے  لیکن یہ جمعیت کے کارکن ہیں کسی خوشامدی ٹولے کے لوگ نہیں، گیڈر بھبکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں، ماضی میں بھی الزامات لگائے گئے تھے ، آج بھی لگائے جارہے ہیں، نیب کے حوالے سے روز اول سے یہ مؤقف ہے کہ یہ ادارہ انتقام کیلئے بنایا گیا ہے،آرمی چیف نےپارلیمانی رہنماؤں کوگلگت بلتستان کےحوالےسےمدعوکیاتھالیکن قوم کو یہ تاثر دیا جارہا ہےجیسےسیاستدانوں نےملاقات کی خواہش کااظہارکیاہو،اے

پی سی کے فوری بعد ان خبروں کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ تیر ٹھیک نشانے پہ لگا ہے،عمرکا ایک طویل عرصہ سیاست میں گذاراہے،ان باتوں سے گھبرانے والا نہیں،بلا خوف اپنے مشن کو جاری رکھیں گے ۔

تفصیلات کے مطابق جے یو آئی کی مرکزی شوری سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نیب کی گرفتاریوں  سے ہمیں نہیں ڈرایا جا سکتا بلکہ یہ ہم سے ڈریں،میرے نام پر تم نے جو کچھ لکھا ہے وہ سب تم سے پورا کریں گے،نیب نے آج پہلا حملہ مجھ پر آج کیا ہے اور میرے ساتھ موجود طارق خان کےوالدکو نیب نے بلا کر گرفتار کیا ہےلیکن یہ جمعیت کے کارکن ہیں کسی خوشامدی ٹولے کے لوگ نہیں ہیں ،تم نے خوردبین بھی لگا کر دیکھ لی ہے تمہیں کچھ نہیں ملا،ہمیں کوئی خوف نہیں ،ہم تو اس چیز کے انتظار میں تھے کہ تم ہمیں چھیڑو تو سہی تاکہ دو دو ہاتھ کرنے کا موقع مل جائے،مجھ پرماضی میں بھی الزامات لگائے گئے تھے اورآج بھی لگائے جارہے ہیں، تم نے 1994،95 میں بھی میرے خلاف بہت کچھ لکھا ،کتنے پلازے ، کتنی فیکٹریاں ،کتنے ہوٹل اور کتنے جہان ،آج بھی تم آدھا پاکستان میرے حوالے کردو جو میری ملکیت ہے،یہ گیڈر بھبکیاں اپنے گھروں میں رکھو ،میں گیڈر بھبکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں،نیب کے حوالے سے روز اول سے یہ مؤقف ہے کہ یہ ادارہ انتقام کیلئے بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کےپارلیمانی رہنماؤں کوگلگت بلتستان کے حوالے سے مدعو کیا تھا،وہاں تمام پارلیمانی رہنماؤں نے بالاتفاق ان کی تجاویز کو مسترد کیا ،وہ خبریں کیوں نہیں چلائی جا رہیں؟ یہاں قوم یہ تاثر دیا جارہا ہے جیسے سیاستدانوں نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہو ،میں ایک ذمہ دار آدمی ہوں اس طرح کے لوگوں کی باتوں پر تبصرہ نہیں کیا کرتالیکن فوج کی قیادت اتنی وضاحت کردے کہ یہ اپنی طرف سے بول رہے ہیں یا انکے ترجمان بن کر بول رہے ہیں؟اگر یہ ان کے ترجمان بن کر بول رہے ہیں تو پھر ہمیں بھی حق حاصل ہوگا کہ ہم تمام حقائق قوم کے سامنے لائیں۔

مزید :

قومی -