پولیس کا بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، ایک گداگر یونیورسٹی طالب علم ، ایک کے خلاف 132 مقدمے،187 جعلی معذور نکلے، تہلکہ خیز انکشافات

پولیس کا بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، ایک گداگر یونیورسٹی طالب علم ، ایک کے ...
پولیس کا بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، ایک گداگر یونیورسٹی طالب علم ، ایک کے خلاف 132 مقدمے،187 جعلی معذور نکلے، تہلکہ خیز انکشافات

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران پکڑا گیا ایک گداگر یونیورسٹی طالب علم، ایک کے خلاف 132 مقدمات کا انکشاف اور 187 جعلی معذور نکلے۔ خواتین گداگروں کے بارے انکشاف ہوا ہے کہ وہ 200 روپے روزانہ کی بنیاد پر نومولود بچوں کو کرائے پر لیکر بھیک مانگتی ہیں۔

روزنامہ نوائے وقت  کے مطابق پولیس نے کریک ڈاؤن کے دوران خواجہ سراؤں کو پکڑنے کی کوشش کی تو احتجاج کے پیش نظر ان کی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی اور ان کو ویسے ہی چھوڑ دیا گیا۔پکڑے گئے ایک گداگر فیضان بارے انکشاف ہوا ہے کہ وہ ورچوئل یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔تاہم فیضان کا کہنا ہے کہ وہ گداگر نہیں پولیس نے اسے زبردستی گرفتار کیا،پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بھیک مانگنے کی ویڈیوز موجود ہیں۔ایک بھکاری کے خلاف گداگری ایکٹ کے 132 مقدمات نکلے تاہم اس نے تمام مقدمات میں اپنی ضمانت کروائی اور گداگری کو نہ چھوڑا۔ پکڑے گئے 187 گداگر جعلی معذور نکلے،یہ تمام گداگر اپنے کپڑوں میں بازو اور ٹانگیں چھپا کر خود کو معذور بناتے تھے۔بھکارن خواتین کے بارے انکشاف ہواکہ وہ نومولود بچوں کو 200 روپے روزانہ کرائے پر لیکر آتی ہیں۔ بھکاریوں نے اپنے علاقے بانٹ رکھے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے علاقے میں بھیک مانگنے نہیں جاتے۔

مزید :

قومی -