تم کیا جانو اِک چٹکی نسوار کی قیمت؟؟

تم کیا جانو اِک چٹکی نسوار کی قیمت؟؟
تم کیا جانو اِک چٹکی نسوار کی قیمت؟؟

  

ایک لکھاری کواگرانصاف کیساتھ لکھناہے،سماجی مسائل پرخاص طورپرلکھتے وقت اسے معاشرے کے تمام طبقات پر نظررکھنا پڑتی ہے اور جہاں کہیں کسی کی پریشانی نظر آئے تواسےدور کرنے کیلئے قلم اٹھانی چاہیے، آج بہت دل دکھ رہاتھا جب مجھے معلوم ہوا کہ مہنگائی کے جن نے نسوارکو بھی نہیں بخشا،سب کچھ مہنگاہوگیا اوریہاں تک کہ نسوار بھی؟۔۔۔حد ہے ویسے۔۔خود ہی سوچیں کہ انسان اگر نسوار کا عادی ہے تو وہ کتنی کھاجاتاہوگا؟ذرا سوچیں۔۔۔!!

ہم فرض کرلیتےہیں کہ  آپ،یعنی جو بلاگ پڑھنے والےصاحب ہیں،روٹی سے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں تو پھرجب یہ آگ سلگتی ہے اسے بجھانے کا بندوبست کچھ نہ کچھ کرنا پڑتاہے ورنہ یہ بڑھتی جاتی ہے اور اگر بروقت کنٹرول نہ ہو توروح جسم کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے،سانسیں اُکھڑ جاتی ہیں،آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاجاتاہے،یعنی کہ زندگی کا چراغ گل ہوجاتاہے،بچنے کایہی طریقہ ہے کہ پیٹ کو خوراک سے بھردو،کیوں کہ یہ ظالم ایسے نہیں چھوڑے گا۔۔پھرانسان جائز،ناجائزسب حلال ٹھہرا لیتاہے کیوں کہ اسے زندہ رہناہے،دنیا اسے اچھی لگتی ہے اور اچھی چیز کو کوئی نہیں چھوڑنا چاہتا۔

جب جیب خالی ہوگی،جب مہنگائی کاجن بے قابو ہوگا تو پھر انسان مجبور ہوگا،انسان بے بس ہوگا،وہ محروم ہوگا اور محرومی جرائم کو جنم دیتی ہے،جرائم معاشرے کےافرادکا سکون چھین لیتے ہیں،مجرم خود بھی اپنی زندگی جہنم بنالیتاہےاور دوسروں کی بھی،یعنی یہ ایک زندگی عذاب میں نہیں ہوگی بلکہ اس سے کسی بھی طرح جڑی کئی زندگیاں کٹھن راہوں میں،اندھیروں میں اور مشکلات میں رہیں گی،معاملہ سارا پیٹ کی آگ کاہے،جب تک یہ بجھی رہے گی،سکون رہےگا ، انسان کو خود بھی اور انسان سے جڑے سبھی افراد کو۔

مجھے لگتاہے کہ جیسے عام انسان کیلئے روٹی اہم ہے،اس سے کہیں بڑھ کرعادی افراد کیلئے نسوارہے،اگرآپ نسوار کے عادی نہیں تو پھر میری طرح شاید آپ بھی نسوار کی عدم دستیابی یا اس کی قیمت بڑھنے کا اس سطح پر غم محسوس نہ کرپائیں،جتنا وہ شخص محسوس کرے گا جس کی جیب میں دو چار نسوار کی پڑیاں ہروقت دستیاب رہتی ہیں بلکہ سگریٹ کے عادی افراد کی طرح جب سگریٹ مہنگے ہوتے ہیں تو سموکرز گالیاں دیتے ہیں بالکل اسی طرح آج نسواروالوں  کی صورتحال بھی وہی ہے، میں یہ سمجھتاہوں کہ یہ سراسر زیادتی ہے،ضلع دیر کے نسوار فروشوں نےیہ جو ظلم عظیم کیاہے،اس پر نسوار کے عادی افراد میں غم وغصہ بھی یقینی طورپر پایاجارہاہوگا،تیمرگرہ سمیت دیگرعلاقوں سے البتہ ابھی تک کوئی صدائے احتجاج تو بلند نہیں ہوئی البتہ لاہور میں بیٹھے ایک لکھاری کو دیر کے بے چارے نسوار کے عادی اور ملک بھر میں بسنے والے نسوار والوں کی فکر ہورہی ہے،یہ مشورہ ضرور دوں گا کہ آپ نسوار کو سستا ہی رہنے دیں اگر ممکن ہے کیوں کہ عادی افراد کیلئے یہ نسوار بھی کسی کڑاہی گوشت سے کم نہیں۔سوچیں تو انسان ایک دن میں کتنی نسوار کھاجائے گا،یعنی سستی کردیں تو ان کے منہ کا ذائقہ بھی ان کی چوائس کے مطابق نسوار زدہ رہے گا ورنہ اک چٹکی نسوار کی خاطر وہ ڈکیتی کرنے سے تو رہے۔۔البتہ یہ ضرور کہیں گے  جیسا کہ لفٹ میں ملنے والے ایک پٹھان سے میں نے پوچھا کہ نسوار کیوں کھاتے ہو لالہ۔۔کہنے لگے۔۔تم کیا جانو،اک چٹکی نسوار کی قیمت؟۔ 

(بلاگر مناظرعلی مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز  کے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں ، آج کل لاہور کے ایک ٹی وی چینل  پر کام کررہے ہیں ، ان سے فیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -