فنکاروں کو اپنے شائقین کے سامنے مثال قائم کرنے کےلئے مضبوط نظر آنا چاہئے

فنکاروں کو اپنے شائقین کے سامنے مثال قائم کرنے کےلئے مضبوط نظر آنا چاہئے
فنکاروں کو اپنے شائقین کے سامنے مثال قائم کرنے کےلئے مضبوط نظر آنا چاہئے

  

مترجم:علی عباس

قسط:86

 جب میں سٹیج پر ہوتا ہوںتو یہ مختلف تجربہ ہے۔ تاہم جب میں پرفارم کرتا ہوں تو میں بے خود ہوجاتا ہوں۔ میں سٹیج کے قبضے میں ہوتا ہوں۔ میں کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچتا۔ میں اُس لمحے سے یہ جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں جب میں وہاں قدم رکھتا ہوں اور مجھے اس کے ہر منٹ سے پیار ہے۔ دراصل میں سٹیج پر پُرسکون ہو جاتا ہوں۔ مکمل طو رپر پُرسکون۔۔۔ یہ بہتر ہے۔ میں سٹوڈیو میں بھی طمانیت محسوس کیا کرتا ہوں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے اگرکچھ درست محسوس ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتاتو میں جانتا ہوں کہ اسے کیسے بہتر کرنا ہے۔ ہر چیز اپنی جگہ پر ہونی چاہئے، اگر ایسا ہے تو آپ بہتر محسوس کرتے ہیں، آپ کو طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ لوگوں کو بطور گیت نگار میری صلاحیتوں کو کم تر کرنے کی عادت ہے، وہ مجھے گیت نگار تصور نہیں کیا کرتے، چنانچہ جب میں نے گیت تخلیق کرنا شروع کئے انہوں نے میری جانب یوں دیکھا: ”انہیں کس نے تحریر کیا ہے؟“ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا سوچتے ہیں۔۔۔ کیا میں اپنے پیچھے گیراج میں کسی کو چھوڑ کر آیا ہوں جو انہیں میرے لئے لکھتا ہے؟ لیکن وقت نے ان سب غلط فہمیوں کو دور کر دیا ہے۔ لوگوں کے سامنے خود کو منوانا ہوتا ہے اور اُن میں سے بہت سارے اس پر یقین نہیں کرنا چاہتے۔ میں نے والٹ ڈزنی کے سٹوڈیو جانے کی داستانیں سن رکھی ہیں جب اُس نے پہلی بار کام شروع کیا تھا، وہ اپنا کام فروخت کرنے کی ناکام کوششیں کر رہا تھا اور مایوس ہو گیا تھا۔ جب بالآخر اُسے موقع ملا، ہر ایک نے سوچا کہ اُس نے بہترین کام کیا ہے۔

اکثر اوقات جب آپ کے ساتھ درست طور پر پیش نہ آیا جائے تو یہ آپ کو مضبوط اور زیادہ پختہ ارادے کا بناتا ہے۔ غلامی ایک خوفناک چیز ہے لیکن جب امریکہ میں سیاہ فام قوم اس استحصالی نظام کے پنجے سے نکلی تو وہ طاقت ور تھے۔ وہ ایسا دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔ میں اس نوعیت کی صلاحیت کی قدر کیا کرتا ہوں۔ وہ لوگ جو اس صلاحیت کے حامل ہیں، وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے اور انہوں نے تن من دھن کی بازی لگا دی۔

لوگ اکثر مجھ سے استفسار کیا کرتے ہیں کہ میں کیا پسند کیا کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب ان سوالات میں سے کچھ کے جواب دے سکتی ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ چیزیں بھی مددگار ہوں۔ میری پسندیدہ موسیقی الیکٹک مکس ہے۔ مثال کے طور پر مجھے کلاسیکی موسیقی پسند ہے۔ مجھے ڈیبسی جنون کی حد تک پسند ہے اور اُس کی تخلیق "Prelude to the Afternoon of a Fawn" اور "Clair De Lune" متاثر کن ہے۔ اور پروکوفیو بہترین ہے۔ میں"Peter And The Wolf"بارہا سن سکتا تھا۔ کوپ لینڈ میرے پسندیدہ کمپوزرز میں سے ایک ہے۔ آپ اس کے گٹار کی انفرادی موسیقی کو فوراً پہچان سکتے ہیں۔ ”بلی دی کڈ“ لاجواب ہے۔ میں نے تچائیکوفسکی کو بہت زیادہ سنا ہے۔” دی نٹ کریکر سوئیٹ“ میرا پسندیدہ ہے۔ میرے پاس شو ٹیونز کی بڑی کولیکشن موجود ہے۔۔۔میںارونگ برلن، جانی مرسر، لرنر اینڈ لوئیوے، ہیرلڈ آرلن، راجرزاینڈ ہیمرسٹین اور عظیم ہولنڈ ڈوزیئر ہولنڈ کا قدردان ہوں۔مجھے میکسیکن کھانے بہت زیادہ پسند ہیں۔ میں سبزی خور ہوں، چنانچہ خوش قسمتی سے تازہ پھل اور سبزیاں میری مرغوب ترین غذا ہیں۔

مجھے کھلونے اور گیجٹ پسند ہیں۔ مجھے مختلف کمپنیوں کی طرف سے پیش کی گئی جدید ترین اشیاءپسند ہیں۔ اگر کوئی چیز حیران کن ہو تو میں اُسے خرید لیتا ہوں۔مجھے بندر اور خاص طور پر چیمپنری بہت پسند ہے۔ میرا چمپینزی ببلز مجھے بہت محظوظ کرتا ہے۔ میں اُسے اپنے ساتھ دوروں اور تفریح پر لے جا کر لطف اندوز ہوتا ہوں۔ وہ حیران کن حد تک بدحواس ہے اور میرا پسندیدہ پالتو جانور ہے۔

مجھے الزبتھ ٹیلر سے محبت ہے۔ میں اُس کی بہادری سے متاثر ہوں، اُس نے طویل جدوجہد کی تھی اور وہ کامیاب رہی ہے۔ اُس عورت نے بہت کچھ دیکھا ہے اور اُسے دو پیروں پر روندتی ہوئی آئی ہے۔ میں اپنے چائلڈ سٹار کے تجربات کے باعث اُس سے بہت زیادہ مماثلت رکھتا ہوں۔ جب ہم نے پہلی بار فون پر بات چیت کا آغاز کیاتو اُس نے مجھے بتایا کہ اُس نے محسوس کیا تھا کہ جیسے وہ مجھے برسوں سے جانتی ہے۔

کیتھرین ہیپبرن بھی میری بہت پیاری دوست ہے۔ میں اُس سے اولین ملاقات میں ڈرا ہوا تھا۔ ہم نے کچھ دیر بات کی تھی جب میں پہلی بار "On Golden Pond"کے سیٹ پر آیا تھا جہاں میں جین فونڈا کا مہمان تھا۔ اُس نے اگلی رات مجھے اپنے ساتھ رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ میں خود کو خوش قسمت محسوس کر رہا تھا۔ تب سے ہم ایک دوسرے سے ملاقات کرتے رہے ہیں اور ہماری دوستی گہری ہوئی ہے۔ یہ کیتھرین ہیپبرن ہی تھی جس نے گریمی ایوارڈز کی تقریب میں میرے سن گلاسز اُتروائے تھے۔ اُس کا میرے اوپر بہت زیادہ اثر ہے۔ وہ ایک اور مضبوط عورت ہے۔

میرا یقین ہے کہ فنکاروں کو اپنے شائقین کے سامنے مثال قائم کرنے کےلئے مضبوط نظر آنا چاہئے۔ یہ حیرت انگیز ہے کہ ایک شخص اسے کوشش کرکے ممکن بنا سکتا ہے۔ اگر آپ دباﺅ کا شکار ہیں تو اس دباﺅ کے ساتھ کھیلئے اور جو کچھ بھی آپ کررہے ہیں، اُسے بہتر بنانے کےلئے اسے استعمال کریں۔فنکار بہتر اور مضبوط آنے کےلئے لوگوں کے مقروض ہیں۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -