اُس نے آنکھوں میں آئے آنسو چھپانے کےلئے چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپ لیا

 اُس نے آنکھوں میں آئے آنسو چھپانے کےلئے چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپ لیا
 اُس نے آنکھوں میں آئے آنسو چھپانے کےلئے چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپ لیا

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:25

اسی طرح ڈرے سہمے وہ گھر پہنچے۔ شام کو یورگس گھر آیا اور ساری کہانی سنی تو بس۔۔۔ اسے یقین تھا کہ ان کےساتھ ہاتھ ہوگیا ہے اور وہ برباد ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے بال نوچتے ہوئے پاگلوں کی طرح گالیاں بک رہاتھا اور قسم کھا رہاتھا کہ وہ آج رات ہی اس ایجنٹ کو قتل کردے گا۔ پھر اس نے وہ کاغذ پکڑا اور گھر سے باہر، یارڈز سے پرے ہالسٹڈ سٹریٹ کی طرف بھاگ گیا۔ اس نے کھانا کھاتے شو ِ یلاس کو ساتھ لیا اور دونوں ایک دوسرے وکیل کے پاس مشورے کےلئے گئے۔ بکھرے بالوں اور لال سرخ آنکوں کے ساتھ یورگس دفتر میں داخل ہوا تو وکیل اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ یورگس کے ساتھی نے صورت ِ حال بتائی تو اس نے کاغذ کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ یورگس میز کو مضبوطی سے پکڑے کھڑا تھا اور اس کے اعصاب تناؤ سے جھنجھنا رہے تھے۔

ایک دو بار وکیل نے سر اٹھا کرشو ِ یلاس سے سوال کیالیکن یورگس کو کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ کیا کَہہ رہا ہے، اس کی نظریں تو وکیل کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں جیسے اس کا ذہن پڑھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ پھر اس نے دیکھا کہ وکیل سر اٹھا کر ہنسا ہے اور اس نے شو ِ یلاس سے کچھ کہا ہے۔ یورگس نے شو ِ یلاس کی طرف دیکھا۔ اس کے دل کی دھڑکن جیسے رکنے کو تھی۔

” ہاں ؟ “ اس نے ہانپتے ہوئے استفسار کیا۔

” وکیل صاحب کَہہ رہے ہےں کہ سب ٹھیک ہے۔“ شو ِ یلاس نے بتایا۔

” سب ٹھیک ہے !“ 

” ہاں ا ن کا کہنا ہے کہ ویسا ہی ہے جیسا ہونا چاہیے۔ “

اور یورگس اطمینان کا لمبا سانس لیتے ہوئے کرسی پر ڈھیر ہوگیا۔

” آپ کو یقین ہے نا ؟“ وہ شو ِ یلاس کے ذریعے وکیل سے سوال پر سوال پوچھنے لگا۔اسے پوری بات سنائی نہیں دے رہی تھی۔ وہ ہر ہر پہلو سے سوال پوچھ چکا تھا۔ انھوں نے گھر خرید لیا تھا، واقعی انھوں نے گھر خرید لیا تھا۔اب وہ ان کا ہو چکا تھا۔ انہیں صرف پیسے ادا کرنے تھے اور باقی سب ٹھیک ہوگیا تھا۔ وہ خود کو بے وقوف محسوس کر رہاتھا۔ اس نے آنکھوں میں آئے آنسو چھپانے کےلئے چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔

وکیل نے وضاحت کی کہ کرائے کی شکل تب تک کےلئے بنائی جاتی ہے جب تک فریق ِثانی ساری قیمت ادا نہ کر دے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی پیسے ادا نہ کرے تو اسے گھر سے بے دخل کرنا آسان ہو۔ ویسے سب ٹھیک ہے اور اب گھر ان کا ہے۔

یورگس اتنا خوش تھا کہ اس نے بغیر ہچکچائے وکیل کی آدھ ڈالر فیس ادا کر دی اورگھر والوں کو خبر سنانے کےلئے دوڑ لگا دی۔ گھر پر اونا نیم بے ہوشی کے عالم میں تھی، بچے رو رہے تھے اور گھر میں قیامت مچی ہوئی تھی کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ یورگس ایجنٹ کو قتل کرنے گیا ہے۔ ان کے ہوش کو معمول پر آنے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ رات کو جب بھی یورگس کی آنکھ کھلتی اسے ساتھ کے کمرے سے اونا اور اس کی ماں کی دبی دبی سسکیاں سنائی دیتیں۔ 

انھوں نے اپنا گھر خرید لیا تھا۔ انہیں یقین نہیں آرہاتھا کہ وہ جب چاہیں نئے گھر منتقل ہو سکتے ہیں۔وہ سارا وقت یہی سوچتے رہے کہ اس میں کیا کیا ہونا چاہیے۔ چوں کہ آنٹی آنئیل کے پاس ان کا ہفتہ ختم ہونے میں 3 دن رہ گئے تھے اس لیے وہ جلدی کر رہے تھے۔نئے گھر کی کچھ نا کچھ سجاوٹ بھی ضروری تھی اور وہ اس پر لگاتار بات چیت کر رہے تھے۔

 اس کام کےلئے پیکنگ ٹاؤن جیسے علاقے میں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ بازار میں ہر دکان پر بورڈ لگا ہوا تھا۔ ضرورت کی جو چیز بھی آپ کو چاہیے جاکر وہاں سے خرید لیں۔ کوئی سگریٹ پینا چاہتا تھا تو ٹامس جیفر سن کا 5 سنٹ کا سگار’ ’پرفیکٹو“ میسر تھا جو اپنی قیمت کا حق ادا کر دیتا تھا۔وہیں سگریٹ نوشی چھڑوانے والی اشیاءبھی ملتی تھیں۔ 25 سنٹ میں 25 خوراکیں اور 10 خوراکوں میں علاج کی گارنٹی۔ اسی طرح ہر مسئلے کا حل جا بجا اعلانات کی شکل میں تحریر تھا۔ پیکنگ ٹاؤن میں اشتہارات کا اپنا انداز تھا جو مقامی لوگوں کے ذہن کو مدِنظر رکھ کر وضع کیا گیاتھا۔ مثلا ً پوچھا جاتا ” کیا آپ کی بیوی کا رنگ پیلا پڑ گیا ہے ؟ “۔۔۔مزید سوالات کیے جاتے، ” کیا وہ مضمحل رہتی ہے اور سستی کا شکار ہے ؟ کیا چڑچڑی ہے ؟ تو آپ ڈاکٹر لیناہن کی زندگی کی محافظ ادویات کیوں نہیں آزماتے ؟ “ ایک اور اشتہار میں آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا جاتا،” مایوس نہ ہوں اور گولائتھ بیونئین کی دوا استعمال کریں اور خوشگوار زندگی گزاریں۔“ تیسرے اشتہار میں سستے جوتوں کا اعلان ہوتا، وغیرہ وغیرہ۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -