غذا کی صحیح تجویز سے مریض کو دوا کی ضرورت نہ ہوگی

 غذا کی صحیح تجویز سے مریض کو دوا کی ضرورت نہ ہوگی
 غذا کی صحیح تجویز سے مریض کو دوا کی ضرورت نہ ہوگی

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:23

 انسان پر تیزی سے آنے والی بیماری کے علاوہ عام بیماریوں میں بھی غذا اور پرہیز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے طبیب کچھ غذائیں اور پرہیز تجویز کر سکتا ہے یعنی ایسی غذا جو مریض کے مزاج اور جسم کی خلطوں کے مطابق نہ ہو اس سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ مثلاً ایک ایسا مریض جس کے جسم میں بلغم کی زیادتی ہو اُسے ان جیسی تمام غذاﺅں سے پرہیز کرنا ہوگا جو بلغم کی زیادتی کا سبب بنتی ہیں۔

 اسی طرح شراب اور کھانے میں احتیاط نہ کرنا اور زیادہ مقدار میں ان چیزوں کا استعمال مریض یا تندرست شخص کو بیمار یا مزید بیمار کر سکتا ہے۔ اس لیے ایک ماہر طبیب کا فرض ہے، بلکہ اس کے پیشے کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنے مریض کو ان تمام غذاﺅں کے بارے میں آگاہ کرے جو اس کےلئے نقصان دہ ہیں یا اس کےلئے فائدہ مند ہیں۔ غذا کی صحیح تجویز سے مریض کو دوا کی ضرورت نہ ہوگی اور مریض صرف غذا کی لطیف طاقت سے ہی تندرست ہو جائے گا لیکن مریض کو ان غذاﺅں سے پرہیز کرنا ہوگا جو کہ طبیب اس کےلئے تجویز نہ کرے۔

 اس کتاب کا عربی میں ترجمہ” کتاب الغذائ“ کے نام سے کیا گیا ہے لیکن یہ تراجم انتہائی ناقص ہیں اور بقراط کے قواعد غذا کے نظام کو پوری طرح واضح نہیں کرتے۔ غذا کی اہمیت اس قدر ہے کہ جدید دورمیں علاج بالغذا پر بے شمار تحقیقی مقالاجات لکھے گئے ہیں۔

 اس لیے بقراط نے غذا کی اہمیت اور پرہیز کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ سب کچھ ایک فطری نظام کو مدنظر رکھ کر لکھا گیا تھا۔ اس طرح آج کے جدید دور میں بھی غذا اور پرہیز مریض اور عام صحت مند لوگوں کےلئے اتنے ہی اہم ہیں جتنے کہ بقراط کے دور میں تھے۔

ہوائیں، پانی اور مقامات

(On Airs, Waters, and Places)

 یہ بقراط کی بہت ہی اہم اور بنیادی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں طلباءطب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ علم طب کے حصول کےلئے بنیادی طور پر اس علاقے کے ماحول اور آب و ہوا وغیرہ کو اچھی طرح سمجھیں۔ جس علاقے میں انہوں نے اپنا کام شروع کرنا ہو۔

 اس طرح اس مخصوص علاقے کے موسموں اور موسموں کی ہواﺅں کے حوالے سے اس مخصوص علاقے کے لوگوں کے مزاج اور اس ماحول میں پیدا ہونے والے امراض کی کیفیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

 اس کے علاوہ اس مخصوص علاقے میں پینے کے پانی کے ذرائع اور پانی سے پیدا ہونے والے طبی اثرات جو کہ کئی قسم کے امراض پیدا کر سکتے ہیں، کو بھی طب کے طلباءکےلئے سمجھنا نہایت لازمی ہے۔ جبکہ اس مقام یا شہر میں وبائی امراض جو موسموں کی شدت یا کمی سے پھیلتے ہیں ان کو سمجھنا اور ان کے متعلق مقامی معلومات کا حصول بھی بہت ضروری ہے۔

یہ بہت ہی حساس اور لازمی معلومات طبیب کو بیماریوں کی وجوہات، اسباب اور متعلقہ امور فراہم کرتی ہیں۔ ان اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے طبیب اپنے مریضوں پر آنے والی بیماریوں کی تشخیص بہت آسانی سے کر سکتا ہے اور اپنے مریضوں کو ادویات اور پرہیز وغیرہ کا پابند کرکے اس کا کامیاب علاج کر سکتا ہے۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -