فیروز شہر اور سبھراﺅں کی لڑائی،ہندوستان میں انگریزوں کا اس سے پہلے اتنا کڑا اور شدید مقابلہ نہیں ہوا تھا

فیروز شہر اور سبھراﺅں کی لڑائی،ہندوستان میں انگریزوں کا اس سے پہلے اتنا کڑا ...
فیروز شہر اور سبھراﺅں کی لڑائی،ہندوستان میں انگریزوں کا اس سے پہلے اتنا کڑا اور شدید مقابلہ نہیں ہوا تھا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:53 

فیروز شہر کی لڑائی:

یہ لڑائی مدکی اور فیروز پور سے 10 میل کے فاصلے پر 21 دسمبر1845 کو ہوئی۔ اس لڑائی میں پھر پنجابی فوج کو اس کی کمان کرنے والوں نے مروایا۔ اس لڑائی کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ خود انگریزی فوج کے ایک حصے کی کمان کر رہا تھا۔ جنگ کے بعد اس نے لکھا تھا۔”ہندوستان میں انگریزوں کا اس سے پہلے کسی لڑائی میں اتنا کڑا اور شدید مقابلہ نہیں ہوا تھا اور نہ ہمیں کبھی اتنے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔“ اس لڑائی میں انگریز بریگیڈیئر والس اور میجر بروڈفٹ مارے گئے اور گورنر جنرل کا سارا سٹاف ماسوائے کیپٹن ہارڈنگ کے زخمی ہوا۔

سبھراﺅں کی لڑائی:

یہ لڑائی فیروز پور سے 10 میل کے فاصلے پر 10 فروری1846 کو لڑی گئی۔ اس میں پنجابی فوج کی کمان کمانڈر انچیف جنرل تیج سنگھ کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے بھی اپنی فوج کے ساتھ وہی کیا جو اس سے پہلے لال سنگھ کر چکا تھا۔ پہلا حملہ ہوتے ہی تیچ سنگھ فوج کو جو بہادری سے لڑ رہی تھی چھوڑ کر فرار ہو گیا اور ستلج عبور کرکے اپنے علاقے میں جا چھپا۔ اس نے جاتے جاتے ستلج پر کشتیوں کا بنا ہوا پل بھی توڑ دیا تاکہ پنجابی فوج کی مدد کےلئے کمک نہ پہنچ سکے اور پیچھے ہٹنے کی راہ بھی نہ ملے۔ کمانڈر انچیف کی غداری کے باوجود سپاہی بے جگری سے لڑی۔ اس جنگ میں میجر جنرل سررابرٹ ڈک جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ یہ جرنیل واٹر لو کے محاذ پر نپولین کے خلاف جنگ لڑ چکا تھا اور جانا پہچانا جرنیل تھا۔ اس لڑائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کننگھم لکھتا ہے۔”لاہور دربار کی عظمت کی حفاظت کےلئے فوج کے سپاہیوں اور نچلے درجے کے افسروں نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن فوج و سول کے اعلیٰ افسروں نے ان کی کوششیں ناکام بنا دیں۔“

پہلی سکھ جنگ نے پنجاب کی فوج کی کمر توڑ کر رکھ دی اور اس کی تنظیم کو سخت نقصان پہنچا۔ اس جنگ میں8 ہزار سپاہی مارے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔ سارے توپخانے پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔

12 فروری 1846 کو انگریز فوج ستلج سے گزر کر پنجاب میں داخل ہوگئی جس کی آزادی کا سودا کیا جا رہا تھا۔ انگریزوں نے قصور پر قبضہ کر لیا۔ لاہور دربار کی جانب سے گلاب سنگھ ڈوگرا انگریزوں کے ساتھ صلح کی شرائط طے کرنے کےلئے آیا۔ 18 فروری 1846ءکو انگریز گورنر جنرل نے مہاراجہ دلیپ سنگھ کو للیانی کے مقام پر طلب کرکے اطاعت گزاری کا اعلان کرایا۔2 دن بعد انگریز گورنر جنرل نے کمانڈر انچیف سمیت میاں میر چھاﺅنی میں ڈیرے ڈال دیئے۔8 مارچ 1846ءکو لاہور دربار اور انگریزوں کے درمیان مندرجہ ذیل معاہدہ طے پایا۔

-1  ایسٹ انڈیا کمپنی مہاراجہ دلیپ سنگھ کو پنجاب کا خود مختار حکمران تسلیم کرتی ہے۔کیونکہ راجہ کم سن ہے اس لیے اس کی والدہ ایجنٹ ہوگی اور لال سنگھ وزیر ہوگا۔

-2  لاہور دربار مسلح افواج کی تعداد کم کرے گا۔ پیدل فوج 20 ہزار اور گھوڑ سوار12 ہزار سے زیادہ نہیں ہوں گے

-3وہ تمام توپیں جو انگریزوں کے خلاف استعمال کی گئی تھیں کمپنی کی تحویل میں دیدی جائیں گی۔

-4 اگر برطانوی فوج کو لاہور سے گزرنے کی ضرورت ہو گی تو لاہور دربار انگریز افواج کو سہولتیں فراہم کرے گا۔ 

-5  انگریز فوج کا ایک دستہ امن و امان قائم کرنے میں مدد دینے کےلئے سال کے آخر تک لاہور میں مقیم رہے گا اور اس کے اخراجات لاہور دربار ادا کرے گا۔ 

-7 لاہور دربار میں انگریز ریذیڈنٹ افسر قیام کرے گا۔ 

-8  لاہور دربار ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان جنگ ادا کرے گا۔ 

خزانہ بالکل خالی تھا تاوان ادا کرنے کےلئے رقم موجود نہیں تھی۔ انگریزوں نے پہلے ہی اس کا حل سوچ رکھا تھا۔ ایک کروڑ روپے کے عوض انہوں نے دوآبہ بست جالندھر جو ستلج اور بیاس کے درمیان واقع ہے لے لیا۔ اور باقی 50 کروڑ روپے کے عوض سارا کشمیر اور ہزارہ راجہ گلاب سنگھ کو عطا کر کے اسے خودمختار حاکم بنا دیا۔ مہاراجہ اب ان علاقوں کے مسائل کے بارے صرف کمپنی کو جوابدہ تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -