چیف جسٹس کا تحریک انصاف کو مشورہ

چیف جسٹس کا تحریک انصاف کو مشورہ

  

پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی کے استعفے ایک ساتھ منظور کرنے کی درخواست پر چیف جسٹس نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو اسمبلی واپس جاکر کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عوام نے انہیں پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے، پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ میں کردار ادا کرنا ہی اس کا اصل فریضہ ہے، سیلاب سے کروڑوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، اُن کے پاس پینے کا پانی ہے نہ کھانے کو روٹی، بیرون ملک سے لوگ اُن کی مدد کے لیے آ رہے ہیں، تحریک انصاف ملک کی معاشی حالت بھی دیکھے،پی ٹی آئی کو اندازہ ہے کہ 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہوں گے؟ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سپیکر کے کام میں مداخلت عدالت کے لیے کافی مشکل کام ہے، استعفوں کی تصدیق پروسیجرل مسئلہ ہے اور پارلیمان کا احترام عدالت کا فرض ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ استعفوں کی منظوری کے لیے جلدی نہ کریں، ایک بار پھرسوچ لیں، چیف جسٹس عمر عطا ء بندیال اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل کو عمران خان سے ہدایات لینے کی مہلت دے دی۔ 

چیف جسٹس نے جہاں تحریک انصاف کی توجہ سیاسی جماعتوں کے کردار اور فرائض کی جانب مبذول کرائی وہیں پی ٹی آئی کو موجودہ ملکی حالات کو مدنظر رکھنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ موجودہ حالات یہ ہیں کہ سیلاب سے ملک کے 84 اضلاع بری طرح متاثر ہیں  اور ان میں سے پانچ تو ایسے ہیں جو پانی میں ڈوب کر نظر تک نہیں آ رہے تھے، سیلاب کے نقصانات کا تخمینہ30 ارب ڈالر سے تجاوز کرتا نظر آ رہا ہے تاہم مکمل اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے ملک بھر کی انتظامیہ عالمی اداروں کی مدد کے ساتھ 15اکتوبر تک رپورٹ جاری کرنا چاہتی ہے کہ سرد موسم سیلاب متاثرین کے سر پر تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ صرف سیلاب کی وجہ سے رواں سال ملک کی اقتصادی شرح نمو پانچ فیصد سے کم ہو کر دو فیصد تک آ سکتی ہے،صرف ریلوے کی بحالی کے لیے ہی دو سے ڈھائی ارب ڈالر درکار ہوں گے جبکہ غیر ملکی امداد کے علاوہ سالانہ وفاقی ترقیاتی پروگرام سے بھی 300 ارب روپے تک بحالی اور تعمیر نو کے لیے استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔ سیلاب  سے کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے ملکی برآمدات پر ممکنہ منفی اثرات کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ سندھ میں گندم کی بوائی بہت سے اضلاع میں ہوتی نظر نہیں آ رہی،آئندہ سال خوراک کا بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے،مہنگائی ساتویں آسمان کو چھو رہی ہے،عام آدمی بجلی کے بلوں اور پیٹرول کے اخراجات تلے دب کر رہ گیا ہے اور کسی قسم کا ریلیف دیوانے کا خواب بن چکا ہے۔ اِن حالات میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے احتجاج شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ پرائے اِس وقت پاکستان کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے امداد کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ پاکستان کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے فرانس اس سال کے اختتام سے پہلے بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس بلانے کا اعلان کر چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے احتجاج سے دنیا بھر میں جو تاثر پیدا ہو گا  اور اس کے نتائج اپنی جگہ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ملکی معیشت اس وقت کسی احتجاج کی متحمل ہو سکتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کی دعویدار ہوتے ہوئے اِسے ہر حال میں اپنے ووٹروں کو دینا پڑے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ وقت اجازت دیتا ہے کہ ایک تہائی ملک سیلاب کی تباہی سے دوچار ہو اور باقی ماندہ ملک کو دھرنوں اور احتجاج کی نذر کر دیا جائے؟ کیا یہ وقت نہیں کہ سیاسی رہنما ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے سر جوڑ کر بیٹھیں اور سیلاب کے متاثرین کی طرف اجتماعی طور متوجہ ہوں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے حوالے سے چیف جسٹس پاکستان کی رائے کو آئین سے متصادم قرار دتے ہوئے دلیل دی ہے کہ عوام موجودہ اسمبلی کو نمائندہ نہیں سمجھتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی نئی اسمبلی ہے، نئے انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی ہے؟ کیا یہ وہی اسمبلی نہیں جسے عوام نے منتخب کیا اور جس  کے ذریعے عمران خان وزیراعظم بنے؟ چیف جسٹس کی یہ رائے کہ ریاست کے معاملات میں وضع داری اور برداشت سے چلنا پڑتا ہے، کون سے دستور کی کس دفعہ کے خلاف ہے؟ کیا تحریک انصاف ریاست کے معاملات میں مطلوبہ وضع داری اوربرداشت دکھا رہی ہے، کیا پاپولر پالیٹکس سے ملکی حالات درست کیے جا سکے ہیں؟  کیا پی ٹی آئی آئندہ انتخابات میں ملک کے 22 کروڑ عوام کو اپنے آئینی و سیاسی کردار بارے مطمئن کر پائے گی؟ عوام نے تو تحریک انصاف کے لوگوں کو پانچ سال کے لیے منتخب کیا تھا، کیا پی ٹی آئی کو عوام کی امنگوں کی ترجمانی ویسے نہیں کرنی چاہئے جیسی عوام اِس سے توقع کرتی ہے اور کیا وہ قومی اسمبلی میں بیٹھ کر اپنا کردار ادا کرنے سے پوری ہو گی یا اسمبلی سے باہر احتجاج کرنے سے؟ 2013 ء سے 2018 ء کے دوران بھی تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں نے زیادہ تر وقت اسمبلی سے باہر رہ کر احتجاج کرتے ہی گزارا تھا لیکن اس کا کیا نتیجہ نکلا تھا؟ کیا عمران خان احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات پورے کروا سکے تھے؟ سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکا تھا۔ نتیجہ صرف اپنے وقت پر ہونے والے انتخابات کے ذریعے ہی نکل سکا تھا اور عمران خان اس کے نتیجے ہی میں وزیراعظم بن پائے تھے۔ تحریک انصاف کو حالیہ تجربے سے بھی سیکھنا چاہئے کہ خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو آخرکار اسلام آباد ہائی کورٹ میں معافی مانگنا پڑی کیونکہ بظاہر اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، وہ ایسا نہ کرتے تو ان کی اور ان کی جماعت کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا تھا۔ اُمید ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان چیف جسٹس عمر عطا ء بندیال کے مشورے پر بھی غور کریں گے اور ریاستی معاملات میں لچک کا مظاہرہ کریں گے کہ چاروں صوبے وفاق کے ساتھ مل کر سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کام کریں۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں اور ماہرین پر مشتمل سٹیئرنگ کمیٹی سیلاب کے نقصانات کے تخمینے اور تصدیق کے عمل کے ساتھ ساتھ ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ  17 شعبوں کی بحالی کا جائزہ لینے میں مصروف ہے، ایسے میں اگر تحریک انصاف کی دو صوبائی حکومتیں اورانتظامی مشینری عمران خان کے احتجاج کو کامیاب بنانے میں اپنی توانائیاں صرف کرنے میں لگ جائیں گی تو  نقصان سب کا ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -