پنجاب کے علم دوست وزیراعلیٰ!

 پنجاب کے علم دوست وزیراعلیٰ!
 پنجاب کے علم دوست وزیراعلیٰ!

  

 پنجاب کے عوام کے لئے چودھری پرویز الٰہی نے جو کارہائے نمایاں اپنی سابقہ وزارت علیا کے دور میں انجام دیئے، صوبے کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، اب جب چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ دوبارہ بنے تو صوبے بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ چودھری پرویز الٰہی نے صوبے کی ترقی اور عوام کی بہبود کے لئے جہاں اور بہت سی خدمات انجام دیں، وہاں ”پڑھا لکھا پنجاب“ کے خواب کی عملی تعبیر کے لیے میٹرک تک تعلیم مفت کرنے کے ساتھ درسی کتب کی مفت فراہمی کو بھی یقینی بنایا، اساتذہ کرام کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لیے وزیراعلیٰ پیکیج کا اعلان کیا جس سے اساتذہ کرام کو معاشرے میں عزت و احترام ملا، اب دوبارہ وزیر اعلیٰ بنتے ہی گریجویشن تک مفت تعلیم کرنے اور اساتذہ کرام کے جملہ مسائل کے حل کو یقینی بنانے کے عملی اقدامات کے حوالے سے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے، کم ہے۔ 

چودھری پرویز الٰہی کے سابقہ دور میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا جو نظام رائج ہوا، اس میں محکمہ تعلیم کے وہ تعلیمی ادارے جو حکومت پنجاب کے زیر انتظام تھے، انہیں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ماتحت کر دیا گیا، یہ جنرل کیڈر کے اساتذہ کہلاتے تھے، جبکہ میونسپل کارپوریشن کے اپنے تعلیمی ادارے بھی تھے، جنہیں  میونسپل کیڈر کے اساتذہ کہا جاتا ہے، اختیارات کی تقسیم کے  دوران جنرل کیڈر کے اساتذہ کرام، میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام پر حاوی ہو گئے، ان اختیارات کے نتیجے میں میونسپل کیڈر کے درجنوں سکول اور سینکڑوں اساتذہ کی اسامیاں ختم کردی گئیں، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جنرل کیڈر کے اساتذہ کرام جنرل کیڈر اور میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام میونسپل کیڈر ہی میں رہتے اورحکومت کی جانب سے جو مراعات اساتذہ کرام کو دی جاتیں، دونوں کیڈرز کے اساتذہ کرام ان سے مستفید ہوتے اور میونسپل کیڈر کی خالی ہونے والی آسامیوں پر میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کی ہی بھرتی کی جاتی، لیکن ہوا اس کے برعکس یعنی میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کو اس عرصے میں پروموشن دی گئی نہ ہی دیگر مراعات سے نوازا گیا۔ میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کی خالی ہونے والی آسامیوں پر جنرل کیڈر کے اساتذہ کرام تعینات کئے گئے،انہیں گزشتہ 14، 15 سال سے پروموشن کے انتظار کی سولی پر لٹکایا ہوا ہے، جس سے ہزاروں اساتذہ مالی مشکلات کا شکار ہیں، میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کو چیف منسٹر پے پیکیج، 2009ء کے بعد سے نہیں دیا گیا جبکہ جنرل کیڈر کے اساتذہ کرام کو یہ پیکیج 2008ء کے بعد سے 2017ء تک ہر سال دیا گیا،اسی طرح میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کی ریگولر پروموشن بھی منظور شدہ سنیارٹی لسٹ  ہونے کے باوجود 2008ء  سے نہیں کی گئی۔

پنجاب بھر میں میونسپل کیڈر کے تعلیمی ادارے ہزاروں میں ہیں جن میں لاکھ کے قریب اساتذہ کرام قوم کے نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔صرف لاہور شہر میں ان تعلیمی اداروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ میونسپل کیڈر کو جنرل کیڈر کے اساتذہ کرام کی ملی بھگت سے  ڈائنگ کیڈر ڈکلیئر کیا جا رہا ہے جو قانونی طور پر ممکن نہیں یا  یہ اسی صورت ممکن تھا جب بلدیاتی نظام سرے سے ختم کر دیا جاتا۔2007ء  میں میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کا صدر دفتر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کے ماتحت کر دیا گیا، یہیں سے مسائل نے جنم لیا جب تک میونسپل کیڈر کا صدر دفتر الگ رہا میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کے تمام معاملات احسن طریقے سے حل ہوتے رہے۔جب میونسپل کیڈر کا صدر دفتر 27 آسامیاں ختم کر کے سیکرٹری سکولز کے ماتحت کیا گیا تب سے میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ خاص طور پر پروموشن، پے پیکیج و ایڈجسٹمنٹ کے حوالے  سے ان اساتذہ کرام کے مسائل بڑھ گئے اور میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کے ساتھ ناانصافیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ محکمہ تعلیم کے افسر جو جنرل کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں، وہ جان بوجھ کر سیکرٹری سکولز کی پالیسی 2014ء کی شق نمبر 3 سمیت عدالت عالیہ کے واضح احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

جنرل کیڈر کے اساتذہ کرام کو SIS کے ذریعے دھڑا دھڑ ایڈجسٹ کر کے میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کی پروموشن و پے پیکیج کے مواقع ختم کئے جا رہے ہیں، اس طرح میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کی  پی ایس ٹی سے ای ایس ٹی، ای ایس ٹی سے ایس ایس ٹی، اور ایس ایس ٹی  سے بطور ہیڈ ماسٹر ترقی گزشتہ 15 سال سے رکی ہوئی ہے، میونسپل کیڈر کے ریٹائرڈ اساتذہ کرام کو بروقت پنشن و مراعات بھی کئی سال رسوا کر کے دی جاتی ہیں، میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کا صدر دفتر 2001ء  کی پوزیشن پر  تمام آسامیوں اور  میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کی آسامیوں سمیت ان کے تمام تعلیمی اداروں کو بحال کرنے کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے نیز ان تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کی موجودہ تعداد کے پیش نظر قانون کے مطابق جو نئی آسامیاں بنتی ہیں، وہ بھی دی جائیں، 2008ء سے جن اساتذہ کرام کی ترقی جس دن سے بنتی ہے، اسی دن سے انہیں ترقی دے کر بقایاجات ادا کئے جائیں۔ نیز میونسپل کیڈر کے تعلیمی ادارے جو 1988ء میں ہائی کئے گئے،ان میں گزشتہ 32،33سال سے میونسپل کیڈر کے انچارج ہیڈ ماسٹر میٹرک کے بہترین رزلٹ دے رہے ہیں، جو گزشتہ 14، 15 سال سے بطور ہیڈ ماسٹر ترقی  کے منتظر ہیں، ان کا حق تسلیم کرنے کے باوجود بھی انہیں نہیں دی جا رہی، اس کے ساتھ میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کو بینولی ونٹ فنڈ کی مد میں بچوں کی پڑھائی اور شادی وغیرہ کے وظائف اور سب سے بڑھ کر ریٹائرمنٹ پر سرکاری گھر کی فراہمی سے بھی محروم رکھا گیا،  اسی طرح چار درجاتی فارمولے کے تحت جو ترقی دی جاتی ہے،یہ اس سے بھی محروم ہیں۔ پنجاب کے علم دوست وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی ذاتی دلچسپی لیکر میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کے جملہ مسائل ترجیحی اور مستقل بنیادوں پر حل کروانے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کروائیں تاکہ میونسپل کیڈر کے اساتذہ کرام کے ساتھ ہونے والی حق تلفیوں، نا انصافیوں اور محرومیوں کا ازالہ ہو اور یہ اساتذہ کرام مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری  رکھ سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -