”ابھی نندن“ اور”ابھی لندن“

 ”ابھی نندن“ اور”ابھی لندن“
 ”ابھی نندن“ اور”ابھی لندن“

  

 بھارتی ایئر فورس نے پاکستان پر حملے کے دوران لڑاکا طیارے سے گرنے اور زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے ونگ کمانڈر ’ابھی نندن‘کو وقت سے پہلے ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی ایئر فورس کا یہ فیصلہ 27 ء فروری 2019 ء کو ابھی نندن کا طیارہ پاکستان میں گرنے اور بعد ازاں پکڑے جانے کے تقریباً ساڑھے تین سال بعد سامنے آیا ہے۔

گزشتہ روز ”پاکستان“ اخبار کے صفحہ اوّل پر تین کالم شائع ہونے والی یہ خبر نظر سے گزرتے ہی مجھے سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ”میم“ یاد آ گئی جس میں بھارتی فوجی افسر کی تصویر پر ”ابھی نندن“ لکھا تھا اوراس کے ساتھ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی تصویر جوڑ کر نیچے ”ابھی لندن“ لکھ کر ایک دلچسپ پوسٹ بنائی گئی تھی۔ میاں نواز شریف آج سے تقریباً تین برس قبل پانامہ ریفرنس میں عدالت سے اجازت ملنے کے بعد 18 نومبر 2019 ء کو علاج کی غرض سے چند ہفتوں کے لئے لندن روانہ ہوئے تھے۔ تاہم چار ہفتے کی مدت میں جب اُن کی واپسی نہ ہو سکی تو کسی سوشل میڈیا ”سائنٹسٹ“ نے یہ پوسٹ بنائی ”ابھی نندن، ابھی لندن“۔ 

اب ستمبر 2022 ء میں پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کی خبریں ایک بار پھر گرم ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماء اور وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ نواز شریف رواں ماہ ستمبر میں پاکستان واپس آ رہے ہیں لیکن تاحال ایسی کوئی نوید سُنائی نہیں دی یہی وجہ ہے کہ ابھی نندن کی خبر نظر سے گزرتے ہی فوراً میاں نواز شریف اس طرح ذہن میں آئے ”ابھی لندن“۔

 موجودہ حالات میں اہم سوال یہ بنتا ہے کہ کیا اب بھی میاں نواز شریف وطن واپسی پر قومی سیاسی اُفق پر اسی انداز میں جلوہ افروز ہو پائیں گے اور انہیں عوامی سطح پر اس طرح کی پذیرائی کی توقع ہے جو کہ اپریل 2022 ء سے پہلے تک کی صورتحال میں کی جاسکتی تھی۔علاوہ ازیں وطن واپس لوٹتے ہی نواز شریف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے یا پھر پہلے انہیں قانونی جنگ کا سامنا کرنا ہوگا۔

وطن واپسی پر میاں نواز شریف کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ماہرین قانون میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں، جن میں ایک خیال یہ ہے کہ میاں نواز شریف چونکہ سزا یافتہ سیاسی رہنماء ہیں اور انہیں مفرور بھی قرار دیا جا چکا ہے لہٰذا جب وہ پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر اُتریں گے تو ایف آئی اے ان کے پاسپورٹ پر ٹھپہ لگاتے ہی انہیں گرفتار کرنے کی پابند ہو گی لہٰذا میاں نواز شریف کو وطن واپسی کے لئے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنا پڑے گی۔ قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف کی سزاء معطل ہو گئی تھی اور پھر وہ عدالت کی اجازت سے ملک سے باہر گئے تھے لیکن یہ مدت صرف چار ہفتے کی تھی لہٰذا تین برس بعد وطن واپسی کی صورت میں انہیں عدالت کو زیادہ عرصہ ملک سے باہر رہنے کی وجوہات بتاکر مطمئن کرنا پڑے گا کہ وہ لمبا عرصہ کس وجہ سے غیر حاضر رہے۔ بعض سینئر وکلاء کے مطابق نواز شریف ایک قانونی منصوبے کے تحت ملک سے باہر گئے تھے اور ان کی واپسی بھی ایک قانونی پلان کے تحت ہو گی۔

قانونی الجھنوں کے علاوہ ملک کے اندر پائے جانے والے حالیہ سیاسی عدم استحکام اور عوام دشمن اقدامات کے باعث مسلم لیگ(ن) کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ شہباز شریف بھی وزارت عظمیٰ کا اعلیٰ منصب پا کر اس فارم میں نظر نہیں آئے جیسے وہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔علاوہ ازیں کمر توڑ مہنگائی،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈاضافہ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پھر ہوشرباء بلوں، روپے کی نا قدری اور بے قابو ہوتی ہوئی ڈالر کی قیمتیں کنٹرول نہ کر سکنا ایسے اقدامات ہیں جس سے پاکستان کا عام آدمی شدید متاثر ہو کر رہ گیا،یہی وجہ ہے کہ دو ماہ قبل ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کا گڑھ سمجھے جانے والے پنجاب میں انہیں شکست ہو گئی جس کے بعد پی ٹی آئی ایک مرتبہ پھر صوبہ میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔مسلم لیگ (ن) کی شکست کی اصل وجہ مہنگائی تھی کیونکہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام مسلم لیگ (ن) کو امید کی کرن سمجھ کر انہیں ووٹ دیتے تھے تاہم اقتدار میں آنے کے بعد اعلیٰ پائے کے ایڈمنسٹریٹر ہونے کے باوجود میاں شہباز شریف مقبول عوامی فیصلوں کی اپنی سپرٹ برقرار نہ رکھ سکے اور نتیجہ سب نے دیکھ لیا۔

 بعض اندرونی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی ساکھ کوتباہ کرنا ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، عمران خان کا ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا لیکن چوتھے سال اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر انہیں سیاسی شہید بنا دیا گیا  اور ان کے لئے عوام میں ہمدردی پیدا ہو گئی جبکہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ سے اترکر عوام میں جو بیانیہ تشکیل دیا اسے لوگوں نے قبول کیا اور اس قبولیت میں بڑا ہاتھ شہباز شریف حکومت آتے ہی ڈالر، پٹرول اور بجلی کی بے تحاشا مہنگائی جیسے عوام دشمن فیصلے بنے۔حالانکہ مسلم لیگ(ن) کی جانب سے کئے گئے تمام مشکل فیصلے اتحادیوں کی مشاورت سے ہوئے اور ان جماعتوں کو بھی وزنی فیصلوں کا بوجھ اٹھانا چاہیے تھا لیکن ان کے حصے میں وہ عوامی ناپسندیدگی نہیں آئی جس کا سامنا مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو کرنا پڑ رہا ہے۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں موجود چند سینئرز کا خیال ہے کہ اگر میاں نواز شریف پاکستان ہوتے تو شاید اس قسم کے حالات پیدا نہ ہوتے۔خیر بات بھارتی فوجی ابھی نندن کی ریٹائرمنٹ کی خبر سے ذہن میں آنے والی اس سوشل میڈیا ”میم“ سے شروع ہوئی تھی۔تاہم موجودہ حالات میں بھی یہی لگ رہا ہے کہ نواز شریف کچھ عرصہ مزید ”ابھی لندن“رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -