پاکستان میں مسائل کا حل

 پاکستان میں مسائل کا حل
 پاکستان میں مسائل کا حل

  

 اقبال شاہد ایک منجھے ہوئے صحافی، صاحب ِ فکر تجزیہ نگار اور ہمارے اچھے دوست ہیں، کار زارِ صحافت میں وارد ہونے سے پہلے کارِ سرکار میں مصروف تھے ذمہ دار پوزیشنوں پر ذمہ داریاں نبھاتے نبھاتے سیاست اور اقتدار کے کھیل کا بھی مشاہدہ کرتے رہے پھر ایک حساس اور ذمہ دار پاکستانی کے طور پر حق و سچ کا جھنڈا اٹھائے صحافت میں آئے اور اپنا آپ منوانے میں مصروف ہو گئے۔گزشتہ روز انہوں نے ہمیں ایک ٹیلی ویژن چینل پر گفتگو کے لئے مدعو کیا، موضوع مکمل طور پر غیر سیاسی اور علمی تھا کہ ”پاکستان کا مسئلہ کیا ہے، ہمارے مسائل کیا ہیں، اور ان کا حل کیا ہے“؟

بنیادی طور پر پاکستان مسائلستان ہے یہاں ایک نہیں کئی مسائل ہیں، بہت سے مسائل ہیں۔ لاینحل مسائل ہیں فکری و نظری مسائل بھی ہیں، انتظامی مسائل بھی ہیں،شعبہ جاتی کمزوریاں بھی ہیں،معاشرتی مسائل بھی ہیں، انصاف فراہم کرنے والے ادارے، صحت و صفائی سے متعلق محکمے، تعلیم و تربت کے لئے قائم کردہ ادنیٰ و اعلیٰ اداروں کی کارکردگی، غرض جس ادارے کی بات کریں مایوسی ہوتی ہے، انفرادی معاملات میں بھی ہم شدید پستی اور بداعمالیوں کا شکار ہیں۔ مسائل ہی مسائل، مشکلات ہی مشکلات نظر آتی ہیں، کارکردگی اور تعمیر کا خانہ خالی نظر آتا ہے، ہم بحیثیت قوم قدم بڑھاتے نظر آتے ہیں، محو ِ سفر ہیں، حرکت کر رہے ہیں لیکن راستہ ہے کہ کٹنے کا نام نہیں لے رہا،منزل کہیں نظر نہیں آ رہی،دور دور تک دھند ہی دھند ہے، مایوسی ہی مایوسی ہے۔ ریاست عوام کو بنیادی آئینی حقوق دینے میں بھی ناکام نظر آتی ہے، عوام کے ووٹوں سے عوام کے لئے قائم ہونے والی حکومتیں بھی اس حوالے سے ناکام ہو چکی ہیں۔ دوسری طرف عوام جو اپنے حقوق کے لئے تو بہت شور مچاتے رہے ہیں اور ہمارا میڈیا بھی ان کے حقوق کی باتیں کرتا ہے،لیکن وہ اپنے بنیادی فرائض، شہری ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اوروہ بغیر فرائض ادا کئے اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

عمران خان نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد، اپنے چاہنے والوں کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے،انہیں تبدیلی کے لئے تیار کر لیا ہے، نوجوان مرد و زن کی ایک معقول تعداد ان کے عزائم کی تکمیل کے لئے صف آرا بھی ہو چکی ہے۔ریاست ِ  مدینہ کے قیام کا جھانسہ بھی دیا ہے،انصاف کی فراہمی کا بھی ذکر کیا ہے اور سب سے اہم کرپشن کے خاتمے کے ذریعے پاکستان کے مسائل کے حل کے لئے یکسو ہوتے نظر آنے لگے ہیں یہ الگ بات ہے کہ2018ء میں جب وہ بڑے زور و شور کے ساتھ اقتدار میں لائے گئے تو 44ماہ تک انہوں نے بطور ”سربراہِ مملکت“ جس پست کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ بن گیا ہے۔عمران خان نے بڑی حد تک اپنے فینز کو یقین دلا دیا ہے کہ پاکستان کا مقتدر طبقہ بشمول شریف، زرداری اور دیگر طاقتور خاندان کرپٹ ہیں چور ہیں اور پاکستان کے مسائل کے ذمہ دار ہیں۔عمران خان44 ماہ تک ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکے،  ان ”کرپٹ“ مافیا سے وہ ایک پائی بھی برآمد نہیں کر سکے، بلکہ اپریل2022ء میں جب عمران خان تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ایوانِ اقتدار سے رخصت ہوئے تو اس کے بعد ان کے خلاف کرپشن اور بدانتظامی کے حیران کن قصے منظر عام پر آئے،ان  کے گرد قائم کردہ ”پارسائی کا حالہ“ تار تار ہونے لگا ہے اب عمران خان پاکستان کے مسائل کے حل کے لئے ”فوری انتخابات“ کا  چورن بیچ رہے ہیں وہ اپنے مداحین کو یقین دِلا چکے ہیں کہ فریش مینڈیٹ کے ذریعے نومنتخب حکومت پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالے گی اس حوالے سے وہ آج(بروز ہفتہ) سے تحریک شروع کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں،ان کے ماننے والے یقین کر چکے ہیں کہ فوری الیکشن ہی ہمارے مسائل کا حل ہیں کیونکہ انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو لینڈ سلائیڈ وکٹری ملے گی اور عمران خان ایک بار پھر اقتدار میں آئیں گے اس دفعہ بھر کم بلکہ مینڈیٹ کے ساتھ آ کر قوم کو مسائل سے نجات دلائیں گے۔

واقعاتی پوزیشن یہ ہے کہ اس طرح کے انتخابات اگر ہر مہینے بھی ہوتے رہیں اور عمران خان یا اور کوئی لیڈر، پی ٹی آئی یا کوئی بھی اور سیاسی جماعت2/3 اکثریت کے ساتھ پاکستان میں عنانِ اقتدار سنبھال بھی لے تو پھر بھی کسی قسم کی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں ہو گی۔ہم گزری کئی دہائیوں سے ایسا ہی کر رہے ہیں،پانی میں جتنی مرضی مدھانی چلاتے رہیں مکھن نہیں نکلے گا۔ جاری نظام ریاست اور سیاست کے تحت نئے اور انوکھے نتائج ہر گز نہیں حاصل ہو سکیں گے،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سب مل جل کر بیٹھیں اور مسائل کا حل نکالیں وگرنہ پاکستان سری لنکا بننے جا رہا ہے۔ عمران خان کا 44 ماہی دورِ حکمرانی پاکستان پر بھاری پڑا ہے اور موجودہ اتحادی حکومت نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ دیو قامت، بلائے ناگہانی، سیلاب نے مستقبل قریب میں کسی قسم کی بہتری کے امکانات کا خاتمہ کر دیا ہے،ہمارے معاشی مسائل بالخصوص خرابی کی طرف جاتے رہیں گے، سیاست  پہلے ہی بند گلی میں داخل ہو چکی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ کیا ہے؟ ہمارے دانشور حلقے، صحافتی حلقے،جن مسائل کا ذکر کرتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں وہ بالکل درست ہیں،لکھتے ہیں، لیکن وہ سب کچھ بے نتیجہ ہیں مسئلہ کچھ اور ہے ہم نے جس بربادی کا ذکر کیا ہے اس بات کا نتیجہ ہے کہ یہاں حقیقی نظام ہی قائم نہیں ہے۔ہمارا سیاسی نظام ہو یا معاشی اور معاشرتی نظام وہ خالص نہیں ہے مبنی برحقائق نہیں ہے۔اصل مسئلہ ”مقتدر اعلیٰ“ کا ہے یعنی ”Sovereignty“ کا ہے ہم گزرے75 سالوں میں یہ طے نہیں کر سکے کہ یہاں مقتدر اعلیٰ کون ہے ”حاکم“ کون ہے آئین کہتا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ عملاً ایسا نہیں ہے، یہاں کا نظام سیاست عوامی نمائندگی کے اصول پر مبنی نہیں ہے،یہاں لارڈز ہیں، سرمایہ دار ہیں، وڈیرے ہیں، بڑے چھوٹے مافیا ہیں، الیکٹ ایبلز ہیں، مقتدر خاندان ہیں، جاگیردار ہیں جو ریاستی و حکومتی اداروں پر قابض ہیں، دہائیوں سے قابض ہیں اور ان سب مقتدر قوتوں پر ریاست کے نام پر ایک بڑی قوت سایہ فگن ہے جس کی لامحدود طاقت کے سامنے سب بے بس ہیں۔ وہ قوت کبھی سکندر مرزا کی شکل میں،کبھی جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور کبھی جنرل پرویز مشرف کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور کبھی نواز شریف، بے نظیر، آصف علی زرداری، عمران خان اور شہباز شریف  کی شکل میں سامنے لے آتی ہے۔ اقتدار کا یہ کھیل  جب تک جاری رہے گا ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ہمیں حتمی طور پر یہ بات طے کرنا ہو گی کہ یہاں پاکستان میں Sovereign کوئی اور ہے حق حکمرانی کس کو ہے اور وہ کیسے استعمال کیا جائے گا۔ بنیادی سوال، بنیادی مسئلہ حل کیے بغیر ہم 100الیکشن بھی کروا لیں ہم تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکیں گے۔حاکمیت ہی ہمارا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کے بغیر ہم ترقی کی شاہراہ پر سفر کا آغاز نہیں کر سکیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -