کپتان نے کشتیاں جلانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟

کپتان نے کشتیاں جلانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟
کپتان نے کشتیاں جلانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟

  

کپتان نے خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس میں معافی مانگ لی ہے،ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اُن کی مافیا کے خلاف جنگ ہے عدلیہ کے خلاف نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اُن کے روسٹرم پر آ کر دیئے گئے  بیان پر فردِ جرم کی کارروائی موخر کر دی اور انہیں بیانِ حلفی جمع کرانے کا حکم دیا،اس موقع پر عمران خان نے یہ بھی کہا کہ وہ خاتون جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کو بھی تیار ہیں،تاہم عدالت نے اس کی اجازت نہیں دی، سیانے کہہ گئے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو، اسے آج کے عہد میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ پہلے سوچو پھر بولو،عمران خان اب سوچتے ہوں گے انہوں نے اسلام آباد کی ریلی میں آخریہ سب کہا ہی کیوں،جس کے باعث انہیں عدالت کے کٹہرے میں آنا پڑا، دہشت گردی کے مقدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا،اس سارے معاملے میں انہیں ملا کیاسوائے ندامت اور ہزیمت کے، سیاسی طور پر اس بیان کا اُس وقت بھی فائدہ نہیں تھا،جب دیا گیا اور بعد میں بھی نہیں ہوا،الٹا ہتک ہوئی اور توہین عدالت کی تلوار لٹک گئی۔چلو خان کو ایک سبق تو مل گیا اور اُن کی زبان سے عدالت میں یہ الفاظ بھی نکلے کہ آئندہ وہ ایسی کوئی بات نہیں کہیں گے،اس مسئلے کا حل بھی یہی تھا اور جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں طلب کیا تھا تو پہلی پیشی میں ہی نہیں اگر مگر کی بجائے معافی مانگ لینی چاہیے تھی، وہاں بھی غفلت اور تاخیر ہوئی تاہم تیسری پیشی پر عدالت نے انہیں روسٹرم پر بلایا تو انہوں نے سرنڈر کر دیا،اس سے عمران خان کی توقیر میں کمی نہیں آئی بلکہ یہ تاثر گیا کہ وہ قانون اور عدالت کا احترام کرتے ہیں اور اسی لیے خود کو اُس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

کپتان اِس وقت ایک مقبول ترین سیاسی شخصیت ہیں وہ ایسی الجھنوں میں پڑے بغیر آگے بڑھتے ہیں تو یہ اُن کے لیے بہتر ہے، تنازعات میں الجھ کے اپنے راستے کو خواہ مخواہ دشوار بنانا کوئی دانشمندی نہیں پہلے ہی انہوں نے حکومت کو  ٹف ٹائم دینے کے لیے ایک سخت موقف اپنا رکھا ہے اُسی تک محدود رہیں تو بہتر ہے۔وہ جب ایکس وائی کی بات کرتے ہیں تو وہ بھی اضافی لگتی ہے، جو سامنے کامنظر ہے انہیں اس پر نظر رکھنی چاہیے،آج کل وہ جلسوں میں اپنے حامیوں کو یہ درس بھی دے رہے ہیں کہ کوئی دھمکی آمیز کال آئے تو اُس کا جواب دھمکی میں دیں،اُن کی اِس بات سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے دھمکی آمیز کالوں کا تانتا بندھا ہوا ہے حالانکہ اِکا دُکا ایسی کالیں آتی ہوں گی تو اسے جلسے میں اپنا بیانیہ بنا کے پیش کرنا خواہ مخواہ ایک نیا محاذ کھولنے کے مترادف ہے۔ عمران خان خوف کا بت توڑنے کا اپنا فلسفہ بڑی تفصیل سے بیان کرتے ہیں قانون کا خوف بھی تو ایک ایسا ہی بت ہے کہیں نہ کہیں تو اس کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے،اس کا احساس عمران خان کو توہین عدالت کیس میں ہو چکا ہو گا اس لیے بے لگام آزادی کو خوف کا بت توڑنے کا نام نہیں دیا جا سکتا،کہیں نہ کہیں رکاوٹ سامنے آ ہی جاتی ہے،جس کو  ٹھوکر مار کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔

تحریک انصاف نے آج سے احتجاج شروع کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے یہ اعلان عمران خان نے چکوال کے جلسے میں کیا تھااُن کے اعلان کا اثر یہ ہوا ہے کہ اسلام آباد میں کنٹینرز لگ گئے ہیں، ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ہم عمران خان کا اسلام آباد میں استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں استقبال سے اُن کی کیا مراد ہے،سب جانتے ہیں اس کا مظاہرہ وہ25مئی کو کر چکے ہیں،اُدھر عمران خان نے بھی کہہ دیا ہے کہ رانا ثناء اللہ تیاری کر لیں اُنہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، کیا ایسے بیانات کی تکرار ہونی چاہیے،کیا یہ کوئی کھیل ہے کہ آپ لاکھوں افراد کو اسلام آباد کی طرف آنے کی کال دیں اور ان میں اشتعال کوٹ کوٹ کر بھر دیں۔ کیا وزیر داخلہ کو چاہیے  کہ وہ صرف ڈرنے والے بیانات ہی دے،کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عمران خان اگر اسلام آباد اپنے حامیوں کو لانا چاہتے ہیں تو پہلے انتظامیہ سے یہ معاملات طے کریں تاکہ کسی تصادم سے بچا جا سکے،کیا صرف یہ بیان دے کر ہم نے پوری تیاری کر لی ہے،آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، کسی انہونی کو روکا جا سکتا ہے۔لاکھوں افراد جب اسلام آباد کا رخ کریں گے تو بڑی سے بڑی فورس بھی اُن کا راستہ نہیں روک سکے گی،راستہ روکنے کے لیے بے پناہ ریاستی طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا جو حالات کو خراب کر دے گا سلجھا نہیں سکے گا۔دوسری طرف عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ اسلام آباد کو تسخیر کرنے کی نیت سے لانگ مارچ کی کال نہ دیں بلکہ ایک سیاسی احتجاج کی نیت سے اسلام آباد کا رخ کریں۔بہتر یہی ہو گا کہ اس بارے میں اسلام آباد کی انتظامیہ سے روٹ اور جگہ کے تعین کی بات کر لی جائے، اور اُس پر سختی سے عمل کیا جائے۔

عمران خان اپنی تقریروں میں بار بار کہہ رہے ہیں اس بار ہم تیاری کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے،وہ غالباً25مئی کا حوالہ دیتے ہیں جب انہوں نے جلد بازی میں کال دے دی تھی، جبکہ اسلام آباد میں شرکاء کے لیے کوئی انتظامات ہی نہیں کیے گئے تھے۔ کپتان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس بار اگر اُن کا نشانہ خطا گیا اور احتجاج ناکام ہو گیا، یا اُس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو پھر آئندہ کے لیے ان کا راستہ مسدود ہو جائے۔انہیں پہلی بات تو یہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ نئے انتخابات کا مطالبہ اتنی آسانی سے نہیں مانا جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ حکومت اس بات پر پورا زور لگا دے گی کہ تحریک انصاف کے کارکن ریڈ زون میں داخل نہ ہو سکیں اگر وہ اس میں کامیاب رہتی ہے تو مشکلات تحریک انصاف کے لیے شروع ہو جائیں گی،کیونکہ اگر وہ اسلام آباد میں دھرنا دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو شرکاء کے قیام وطعام اور ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنا ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔تحریک انصاف والے اپنے126 دِنوں کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہیں،حالانکہ اُس دھرنے کا ماجرا یہ تھا کہ رات کے وقت سوائے کنٹینر کے پنڈال میں کوئی موجود نہیں ہوتا تھا اور اگلے دن شام کو جلسہ پھر آباد ہو جاتا تھا اگر وہاں ہزاروں افراد صبح و شام موجود رہتے تو پھر یہ عقدہ کھلتا کہ دھرنے کے انتظامات کیسے ہیں؟ عمران خان اپنے جلسوں میں شرکاء سے یہ وعدہ تو لے چکے ہیں کہ آپ نے میری کال پر اسلام آباد آنا ہے مگر اسلام آباد میں اُن کی میزبانی کون کرے گا اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ تحریک انصاف کے حامی تبلیغی جماعت والے تو ہیں نہیں جو روکھی سوکھی کھا کے اور فرش نشین ہو کر گذارا کر لیں گے،اس میں تو خواتین اور بچے بھی ہوتے ہیں،اُن کے لیے اسلام آباد میں کیا بندوست ہو گا؟بہرحال ایک بات تو طے ہے کہ عمران خان کرتے وہی ہیں جو اُن کے ذہن میں آتا ہے،ذہن میں معافی مانگنے کا خیال نہ آئے تو نہیں مانگتے آ جائے تو دیر نہیں لگاتے۔اب اُن کے خیال میں اسلام آباد پر چڑھائی کا وقت آ گیا ہے تو وہ اِس خیال کو عملی جامہ ضرور پہنائیں گے اس کے لیے ساری کشتیاں ہی کیوں نہ جلانی پڑیں۔

مزید :

رائے -کالم -