ایک عجیب معاہدہ

ایک عجیب معاہدہ

  

  بچو!یہ ایک جنگل کی کہانی ہے۔جس کے بڑے حصے پر بھیڑیوں کی حکومت قائم تھی اور ایک چھوٹے سے حصے پر بھیڑوں کی۔ دونوں میں موقع بہ موقع کسی نہ کسی بات پر لڑائی ہو جاتی۔بھیڑیے خونخوار اور طاقتور تھے۔

    لیکن بھیڑوں نے اپنی حفاظت کے لئے کتے پال رکھے تھے۔جب بھیڑیے ان پر حملہ کرتے تو یہ کتے ان کا مقابلہ کرتے اور ان کو بھگا دیتے۔کتوں کی وجہ سے بھیڑیں محفوظ تھیں۔جب بھیڑوں اور بھیڑیوں کو آپس میں لڑتے لڑتے ایک مدت گزر گئی تو جنگل کے چند دوسرے بڑے جانوروں نے بیچ میں بڑھ کر دونوں میں صلح کرا دی۔

    طے پایا کہ دونوں طرف سے ایسی ضمانت دی جائے کہ امن قائم رہے۔بھیڑیوں نے تجویز پیش کی کہ وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز بچے ضمانت کے طور پر بھیڑوں کے سپرد کریں گے اور بھڑیں اپنے کتے ہمارے حوالے کر دیں۔    یہ بات بھیڑوں کو پسند آئی اور معاہدہ طے پا گیا۔

    بھیڑوں نے اپنے کتے بھیڑیوں کو دے دیئے اور بھیڑیوں نے اپنے بچے بھیڑوں کے حوالے کر دیئے۔

    ابھی تو تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بھیڑیوں کے بچوں نے اپنی ماؤں کو یاد کرکے رونا دھونا اور چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ان کی آواز سن کر بھیڑیے دوڑے دوڑے آئے اور غصے میں بھیڑوں سے کہا کہ تم صلح کی خلاف ورزی کر رہی ہو۔آخر ہمارے بچوں کو کیوں مار رہی ہو؟بھیڑوں نے ایک زبان ہو کر کہا نہیں۔جناب ایسا نہیں ہے،یہ تو خود ہی چیخ پکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہماری نیندیں حرام کر دی ہیں۔بھیڑیوں نے چیخ کر جواب دیا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟یہ تو جبھی چیخیں چلائیں گے جب انہیں تکالیف پہنچائی جائے گی۔یہ کہہ کر انہوں نے فوراً معاہدہ توڑ دیا اور مل کر بھیڑوں پر حملہ کر دیا۔کتے ان کے پاس نہیں تھے کہ حفاظت کرتے ذرا سی دیر میں بھیڑیے ساری بھیڑوں کو مار کر کھا گئے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -