نیلا گیدڑ

نیلا گیدڑ

  

    پرانے زمانے کی بات ہے کسی جنگل میں ایک گیدڑ رہتا تھا۔ایک دن گیدڑ کھانے کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔وہ دن اس کے لئے کتنا برا تھا۔اسے دن بھر بھوکا ہی رہنا پڑا۔وہ بھوکا اور تھکا ہارا چلتا رہا۔راستہ ناپتا رہا۔بالآخر دن ڈھلے وہ کھانے کی تلاش میں ایک شہر میں جا پہنچا۔اسے یہ بھی احساس تھا کہ ایک گیدڑ کے لئے شہر میں چلنا پھرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔لیکن بھوک کی شدت کی وجہ سے یہ خطرہ مول لینے پر مجبور تھا۔

    ”مجھے بہرحال کھانے کے لئے کچھ نہ کچھ حاصل کرنا ہے۔“اس نے اپنے دل میں کہا۔”لیکن کسی آدمی کا کتے سے دوچار ہونا نہ پڑے۔“

    اچانک اس نے خطرے کی بو محسوس کی۔کتے بھونک رہے تھے۔وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے۔وہ ڈر کر بھاگا۔لیکن کتوں نے اسے دیکھ لیا اور اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔کتوں سے پیچھا چھڑانے کے لئے گیدڑ تیز بھاگنے لگا لیکن کتے اس کے قریب پہنچ گئے۔

    گیدڑ جلدی سے ایک مکان میں گھس گیا۔یہ مکان ایک رنگریز کا تھا۔مکان کے صحن میں نیلے رنگ سے بھرا ہوا ایک ٹب رکھا ہوا تھا۔بھاگتے ہوئے گیدڑ کا پاؤں پھسلا اور وہ نیلے رنگ سے بھرے اس ٹب میں گر گیا۔کتوں نے گیدڑ کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی مگر اس کا کہیں پتہ نہیں چلا۔گیدڑ بری طرح گھبرایا ہوا تھا۔وہ اس وقت تک ٹب میں چھپا رہا جب تک اسے کتوں کے چلے جانے کا یقین نہ ہو گیا۔پھر وہ آہستہ آہستہ ٹب سے باہر نکل آیا۔گیدڑ نے دیکھا کہ اس کے پورے جسم پر نیلا رنگ چڑھ گیا تھا،وہ پریشان ہوا کہ اب کیا کرے۔اس نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ کوئی آدمی یا کتا دوبارہ دیکھ لے جنگل واپس چلنا چاہئے۔جلدی جلدی جنگل واپس آیا۔

    جن جانوروں نے اسے دیکھا،پہلے تو ڈر کر چھپ گئے۔انہوں نے اسے ایک نیا اور عجیب و غریب جانور سمجھا،کیونکہ آج تک انہوں نے اس طرح کا نیلا جانور نہیں دیکھا تھا۔یہاں تک کہ دوسرے گیدڑ بھی اْسے بالکل نہ پہچان سکے۔

    گیڈر بھانپ گیا کہ سب ہی جانور اس کے اس نئے روپ سے ڈر رہے ہیں۔بس پھر کیا تھا۔اس کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔وہ چیخ چیخ کر جانوروں کو پکارنے لگا۔”ٹھہرو۔دم لو۔کہاں جاتے ہو؟یہاں آؤ۔میری بات سنو۔“

    سارے جانور رْک کر گیدڑ کو دیکھنے لگے۔اس کے پاس جاتے ہوئے وہ اب بھی ڈر رہے تھے۔گیدڑ پھر چلا کر بولا۔”آؤ میرے پاس آؤ۔اپنے سب ہی دوستوں کو بلا لاؤ۔مجھے تم سب سے ایک ضروری بات کہنی ہے۔“

    ایک ایک کرکے سب ہی جانور نیلے گیدڑ کے پاس پہنچے۔چیتے، ہاتھی، بندر، خرگوش، ہرن۔غرض سب ہی جنگلی جانور اس کے چاروں طرف کھڑے ہو گئے۔انہوں نے حیران ہو کر اس سے پوچھا!”تم کون ہو؟“۔

    چالاک گیدڑ نے جھوٹ موٹ کہہ دیا کہ”میرا نام چیا چھاؤ ہے،مجھ سے ڈرو نہیں۔میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ مجھے اس جنگل میں تمام جانوروں کا بادشاہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔میں ایک بادشاہ کی طرح سب کی حفاظت کروں گا۔“

    گیدڑ کے جسم پر نیلا رنگ سورج کی روشنی میں بڑا چمک دار اور خوبصورت لگ رہا تھا۔اس کا رنگ بالکل انوکھا تھا اور ایسے رنگ کا جانور کسی نے نہیں دیکھا۔

    یہ جانے بغیر کہ وہ کس قسم کا جانور ہے سب ہی جنگل کے جانوروں نے اس کی بات کا یقین کر لیا،اسے اپنا راجہ مان لیا۔وہ اس کے سامنے سر جھکا کر بولے”ہمیں آپ کی بادشاہت قبول ہے۔ہم آپ کے حکم کے منتظر ہیں۔“

    نیلے گیدڑ نے کہا۔”تمہیں اپنے بادشاہ کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنی ہو گی۔تم مجھے ایسے کھانے کھلایا کرو جو بادشاہ کھاتا ہے۔“

    ”ضرور حضور والا۔“سبھی جانوروں نے ایک ہی آواز میں کہا۔”ہم دل و جان سے اپنے بادشاہ کی خدمت کریں گے۔فرمائیے اس کے علاوہ ہمیں اور کیا کرنا ہو گا؟“

   ”تمہیں اپنے بادشاہ کا وفادار رہنا ہے۔“نیلے گیدڑ نے جواب دیا۔”تبھی تمہارا بادشاہ تمہیں دشمنوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔“

    جنگل کے جانور اس گیدڑ کے لئے قسم قسم کے مزیدار کھانے لانے لگے اور اس کی خاطر مدارات کرنے لگے۔

    گیدڑ اب بادشاہ کی طرح رہنے لگا۔گیدڑ کو کہیں بھی جانا ہوتا تو وہ ایک ہاتھی پر بیٹھ کر جنگل میں نکلتا،اس کے دونوں طرف محافظوں کے طور پر شیر چلتے تھے۔سب جانور روزانہ اس کی خدمت میں حاضر ہو کر اسے سلام کرتے اپنی مشکلیں اسے بتاتے۔بادشاہ ان کی باتوں کو سنتا اور ان کی مشکلوں کا حل بتاتا۔

    ایک دن گیدڑ راجہ تمام جنگلی جانوروں کے ساتھ جنگل کا معائنہ کرنے نکلا اور چلتے چلتے گیدڑوں کی وادی کے قریب پہنچا تو اْسے دور سے کچھ شور سنائی دیا۔یہ گیدڑ کے غول کی آواز تھی۔

    گیدڑ کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ وہ چاند دیکھ کر چیخنا اور آوازیں نکالنا شروع کر دیتے ہیں اور دوسرے گیدڑ بھی ان کی آوازوں میں آواز ملا کر چیختے ہیں۔

    اب جب گیدڑ نے اپنے ساتھیوں کی آواز سنی تو بہت خوش ہوا اور خود پر قابو نہ رکھ سکا۔اسے اپنی بادشاہت کا بھی خیال نہ رہا اور اپنا سر اْٹھا کر اس نے بھی گیدڑوں کی طرح چیخنا اور آوازیں نکالنا شروع کر دیا۔اس کا بولنا تھا کہ جانوروں پر اس کی اصلیت کھل گئی۔انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ نیلے رنگ کا جانور کوئی اور نہیں بلکہ رنگا ہوا گیدڑ ہے۔اس نے انہیں دھوکے میں رکھا ہے۔سب جانور مارے غصہ کے اسے پھاڑ کھانے کے لئے اس پر چڑھ دوڑے۔لیکن گیدڑ نے تو پہلے ہی سے بھاگنا شروع کر دیا تھا۔وہ بھاگتا گیا تیز اور تیز اور آخرکار سب کی پہنچ سے باہر ہو گیا۔اور اس طرح اس کی جان بچی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -