حواری

حواری

  

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان بارہ ساتھیوں کو حَواری کہا جاتا ہے جنھوں نے حضرت عیسٰیؑ کی مدد کا وعدہ کیا تھا۔ اس کا ذکر قرآنِ مجید کی سورۃ النساء میں بھی ملتا ہے۔ حواری کے معنی ساتھی یا خالص سفیدی کے ہیں۔

    حضرت زبیر ؓ بن العوام کو حواریئ رسول کہا جاتا ہے۔یہ نبی ئ کریمؐ کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکرؓ کے داماد تھے۔ انھوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی عمر صرف سولہ سال تھی۔ آپؓ  عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں۔ وہ کئی احادیث کے راوی ہیں۔

پانی پت کے ہیرے

قاضی ثناء اللہ پانی پتی بلندپایہ عالمِ دین تھے جنھوں نے عربی زبان میں سات جلدوں پر مشتمل تفسیرِ مظہری لکھی۔

    ان کے استاد مرزا مظہر جان نے ایک مرتبہ ان کے بارے میں کہا تھا:”اگر اللہ تعالیٰ نے روزِ محشر پوچھا کہ ہماری بارگاہ میں کیا تحفہ لائے ہو تو میں عرض کرو ں گا کہ ثناء اللہ پانی پتی کو لایا ہوں۔

    اسی طرح کا ایک اور تاریخی جملہ سرسید احمد خاں کا ملتا ہے۔

    انھوں نے بڑے اصرار اور محبت سے مولانا الطاف حسین حالی سے”مسدسِ مدو جزرِ اسلام“ لکھوائی،جسے مسدسِ حالی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایک بار سر سید احمد خاں نے کہا تھا کہ روزِ محشر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے سوال کیا کہ میرے لئے کیا لائے ہو تو میں کہوں گا کہ حالی سے مسدس لکھوا کر لایا ہوں۔

    اتفاق سے مولانا الطاف حسین حالی کا بھی تعلق ہندوستان سے مشہور علاقے پانی پت سے تھا جہاں ماضی میں کئی جنگیں برپا ہو چکی ہیں۔

تختِ سلیمان اور تختِ طاؤس

    یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا وہ تخت ہے جسے ہوا اْڑا کر لے جاتی تھی۔

    اسی نام سے ایک پہاڑ سری نگر میں ہے جسے تخت سلیمان کہا جاتا ہے۔ سری نگر مقبوضہ کشمیر کا علاقہ ہے۔ اسی طرح تخت طاؤس بھی مشہور ہے جسے مغل بادشاہ شاہجہاں نے خطیر رقم خرچ کر کے بنوایا تھا۔ بعد میں اسے نادر شاہ ہندستان سے ایران لے گیا۔

اَحد، اْحد

    عربی زبان کا لفظ ”اَحد“ ہے (زبر کے ساتھ) جس کے معنی ایک کے ہیں۔ یہ اللہ تعالی کی صفت ہے کہ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اگر اس کو پیش کے ساتھ ”اْحد“ پڑھا جائے تو یہ مدینے میں مشہور پہاڑ کا نام ہے جہاں نبی کریم نے کفار کے ساتھ جنگ کی تھی۔

    اسی پہاڑ کے بالکل سامنے ایک چھوٹی پہاڑی ہے جسے جبل ِرماۃ کہتے ہیں۔ اسی کے قریب نبی کریم کے چہیتے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور جنگِ اْحد کے دوسرے شہدا دفن ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -