شہباز،جوبائیڈن ملاقات،امریکی صدر کا پاکستان کی امداد جاری رکھنے کا عزم،گلوبل وارمنگ اور سیلاب کے باعث جو تباہی ہوئی وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گی:وزیر اعظم

   شہباز،جوبائیڈن ملاقات،امریکی صدر کا پاکستان کی امداد جاری رکھنے کا ...

  

  نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں جو مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں، جنوبی ایشیا میں امن کا انحصار مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل پر ہے، کشمیریوں کے خلاف بھارتی بربریت نے کشمیرکو دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بنا دیا ہے،بھارت مسلم اکثریت والے کشمیر کو ہندواکثریت میں بدلنے کیلئے غیر قانونی تبدیلیاں کر رہا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائے دہی یقینی بنانے تک مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوگا، ہم پڑوسی ہیں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم امن کے ساتھ رہیں یا جنگ کر کے، جنگ کوئی آپشن نہیں، صرف پر امن مذاکرات ہی حل ہے،بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن یہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں، اس وقت افغان حکومت کے ساتھ کشیدگی سے افغان عوام کو نقصان پہنچے گا،سیلاب  کے باعث  جو پاکستان میں ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔ تفصیلات کے مطابق  جمعہ کو  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب کی صورتحال  کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کوبھرپور اندازمیں اٹھا یا  اور  بھارت پرواضح کیاکہ ہم آپ کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن  یہ  مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔شہباز شریف اپنے خطاب کا آغاز قرآنی آیت سے کیا، اور اس کے فوری بعد ہی پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کا تذکرہ کیا۔وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میرا دل اور دماغ اس وقت بھی پاکستان میں ہے جو سیلاب سے متاثر ہے، کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ ہم کیسے وقت سے گزر رہے ہیں، میں یہاں سب کو بتانے آیا ہوں کہ پاکستان کن حالات سے گزر رہا ہے، 40 دن اور 40 راتوں تک ایسا سیلاب آیا جیسا دنیا نے کبھی نہیں دیکھا، 650 عورتوں نے سیلاب میں بچوں کو جنم دیا، ابتدائی اندازے کے مطابق 4 ملین ایکڑ فصل تباہ ہوئی ہے، عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ایسے اثرات پاکستان نے کبھی نہیں دیکھے، گلوبل وارمنگ نے پورے پورے خاندانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پاکستان اس وقت دنیا کا گرم ترین ملک بن گیاہے، جو پاکستان میں ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا، پاکستان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے دنیا سے موسمیاتی انصاف کی امید لگانا غلط نہ ہوگا، سیکرٹری جنرل یو این اور ان تمام رہنماوں کا شکریہ جواس مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ ہیں، پریشانی یہ ہے کہ جب کیمرے چلے جائیں گے تو ہم بحران سے نمٹنے کیلئے اکیلے رہ جائیں گے، اس بحران سے نمٹنے کیلئے اکیلے رہ جائیں گے جس کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں، اس سیلاب کی وجہ سے 11 ملین لوگ سطح غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ جس حد تک ممکن ہے اپنے اخراجات سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے وقف کیے ہیں، ہمارے پاس فنڈز اور ضروریات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 20 ویں صدی کے معاملات سے توجہ ہٹا کر 21 ویں صدی کے مسائل پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ جنگیں لڑنے کیلئے زمین ہی باقی نہیں بچے گی۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کا انحصار مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل پر ہے، کشمیریوں کے خلاف بھارتی بربریت نے کشمیرکو دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بنا دیا ہے، بھارت مسلم اکثریت والے کشمیر کو ہندو اکثریت میں بدلنے کیلئے غیر قانونی تبدیلیاں کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائے دہی یقینی بنانے تک مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوگا، ہم پڑوسی ہیں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم امن کے ساتھ رہیں یا جنگ کر کے، جنگ کوئی آپشن نہیں، صرف پر امن مذاکرات ہی حل ہے۔ بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن یہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایسا افغانستان چاہتا ہے جو اپنے آپ کے ساتھ دنیاکیلئے بھی پرامن ہو، اس وقت افغان حکومت کے ساتھ کشیدگی سے افغان عوام کو نقصان پہنچے گا۔جنرل اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے  پاکستان میں تباہ کن سیلاب کی صورتحا ل کے حوالے سے کہا کہ میں یہاں پاکستان کی اسٹوری بتانے کے لیے موجود ہوں، میرا دل اور دماغ وطن کی یاد چھوڑنے کو تیار نہیں ہے، میں اب بھی یہی محسوس ہورہا ہے کہ میں سیلاب سے متاثرہ سندھ یا پنجاب کسی علاقے کا دورہ کررہا ہوں، کوئی الفاظ صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس سے ہم دوچار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں پر موسمیاتی آفات سے تباہ کاریوں کی شدت کو بتانے آیا ہوں، جس کی وجہ سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، 40 دن اور 40 رات شدید سیلاب نے صدیوں کے موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیے ہیں، ہمیں اس آفات اور اس سے نمٹنے کے بارے میں آگہی ہے، آج بھی پاکستان کا بیشترحصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بچوں اور خواتین سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو صحت کے خطرات درپیش ہیں، 6 لاکھ 50 ہزار حاملہ خواتین خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، 1500 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں، جس میں 400 بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام پوچھتے ہیں کہ یہ تباہی کیوں ہوئی اور کیا  کیاجاسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے، ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہماری وجہ سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور ہیٹ ویو 50 ڈگری سے بڑھ گئی ہیں اور اب ہم غیرمعمولی جان لیوا مون سون کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم خطاب 

 نیو یارک(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر جو بائیڈن نے پاکستان میں سیلاب کے بعد مشکل انسانی صورتحال میں پاکستان کی مدد جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا ہے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے عالمی برادری کے نام پیغام  اور پاکستان کی حمایت پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات ہوئی،یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ملاقات میں امریکی صدر جو بائیڈن نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب میں سینکڑوں اموات پر افسوس  اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہارکیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کی طرف سے  افسوس اور ہمدردی کے اظہار پر ان کا  شکریہ ادا کیا،وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کی مددکیلئے  عالمی برادری کے نام پیغام اور پاکستان کی حمایت پر امریکی صدر کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) کی سربراہ کے دورہ پاکستان اور امداد بھجوانے پربھی  امریکی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں بلوم برگ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا  کہ بین الاقوامی ڈونرز سے قرضوں میں ریلیف اور ملک کے سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے خصوصی پروگرام کے لیے فوری مدد کی ضرورت ہے، پاکستان کوموسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تباہ کن سیلابوں سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ قرضوں میں خاطر خواہ ریلیف کے بغیر اس بے مثال تباہی کے ساتھ ہماری معیشت کو بحال کرنا نا ممکن ہے، ہمارے پاس حال ہی میں آئی ایم ایف کا معاہدہ بہت سخت شرائط کے ساتھ ہوا ہے جو ہمیں بجلی اور پٹرولیم مصنوعات پر ہر ماہ ٹیکس لگانے پر مجبور کرتا ہے، اس حوالے سے پیرس کلب اور آئی ایم ایف سے بات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک پہلے ہی معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے، بے مثال سیلاب نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو تباہ کرنے کے علاوہ ہزاروں مکانات کو تباہ کر دیا، اب ہمیں ان لاکھوں لوگوں کی بحالی، انہیں محفوظ رہائش، طبی سہولیات فراہم کرنی ہیں، موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر بنانا ہے اور سیلاب سے تباہ ہونے والی زرعی زمینوں کو بحال کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس سال اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم بھی درآمد کرنا پڑے گی کیونکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی سیلاب کی وجہ سے زیر آب آ گئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف صفر اعشاریہ آٹھ فیصد ہے لیکن یہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے دس سب سے زیادہ کمزور ممالک میں شامل ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پوری عالمی برادری نے تباہ کن صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔روس سے تیل کی درآمد سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے صدر ولادی میر پیوٹن سے بات کی ہے لیکن ابھی تک کچھ طے نہیں ہوا۔بھارت سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر بھارت بات کرنا چاہتا ہے تو پاکستان کشمیر کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہے جو ایجنڈے میں سرفہرست ہے، دونوں ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم ہمیشہ کے لیے پڑوسی ہیں اور اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے لوگوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ تمام جماعتیں سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اس مشکل وقت میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے ہاتھ بٹائیں۔

شہباز بائیڈن ملاقات

مزید :

صفحہ اول -