پاکستان کے قرضے ری شیڈول کیے جائیں:بلاول بھٹو

  پاکستان کے قرضے ری شیڈول کیے جائیں:بلاول بھٹو

  

        نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان سمیت متاثر ہ ممالک کے معاشی سہارے کیلئے قرضوں کو ری شیڈول کیا جائے، ترقی پذیر ممالک کو برآمدات بڑھانے کیلئے ترجیحی مراعات دینی ہونگی،پاکستان کیساتھ تعاون کرنے پر عالمی برداری کے شکر گزار ہیں،احتجاج اور مظاہروں کے حوا لے سے ایران کی اپنی ایک تاریخ ہے، اسلام نے خواتین کو ان کے حقوق دیئے،صرف افغانستان ہی نہیں پوری دنیا میں خواتین کو حقوق ملنے چاہئیں،فلسطین کے مسئلہ پر پاکستان کا موقف واضح ہے۔نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاماحولیاتی تبدیلیوں کا قصور وار پاکستان نہیں، سیلابی صورتحال کے پیش نظر فلیش اپیل کی گئی،پاکستان کا ایک تہائی حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے،متاثرہ علاقوں کی بحالی میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، متاثرہ علاقوں کیلئے فوری خوارک کی ضرورت ہے،موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ علاقوں کی مدد کی جائے،ترقی پذیر مما لک عوامی فلاح کیلئے ترقی یافتہ ممالک کی مدد کریں۔ سیلاب سے 3کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے،قبل ازیں جمعہ کو نیویارک میں جی77 اور چین کے وزارتی اجلاس 2022 سے سربراہی خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش مسائل اور بحرانوں کے حل کے حوالہ سے سات نکات پر مشتمل تجاویز پیش کرتے ہو ئے کہا ہمیں ایک ایسے عالمی ڈھانچے اور پالیسیوں کو فروغ دینا ہوگا جن سے دنیا سے عدم مساوات کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے، عالمی معاشی نظام کو ترقی کے اہداف کیساتھ منسلک کرنا ہو گا جبکہ عالمی موسمیاتی تبدیلیو ں کے تناظر میں یکساں پالیسیوں کا دیانتداری سے نفاذ کرنا ہوگا، ترقی پذیر ممالک کیلئے دنیا کے تجارتی نظام کو دوبارہ وضع کیا جائے تاکہ یہ دنیا میں ترقی کے اہداف کی تکمیل میں معاو ن ثابت ہوسکے۔ انہوں نے کہا بڑھتے ہوئے تنازعات، مہنگی اشیائے ضرور یہ، موسمیاتی تبدیلی اور وباؤں کیساتھ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک ایک سخت دور سے گزررہے ہیں۔ ان مسائل کے حل کیلئے وزیر خارجہ نے سات نکات پر مشتمل تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی دباؤ کا شکار دنیا کے 50 سے زائد ترقی پذیر ممالک کی معاشی مدد کے لئے عالمی برادری کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری کو ترقی پذیر ممالک میں غذائی بحرا ن کا شکار دنیا کے 250 ملین افراد کو فوری طور پر کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی ممکن بنانا ہوگی، ہمیں ترقی پذیر ممالک کا توانائی کی درآمدات کا بوجھ کم کرنے کیلئے راستے تلاش کرنا ہونگے۔ پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیرِ آب ہے جو پورے برطانیہ کے رقبہ کے برابر ہے، تین کروڑ 30 لاکھ افراد براہ راست متاثر ہوئے جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے 6کروڑ پاکستانیوں کو متاثر کیا ہے۔ 50 لاکھ ایکڑ فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، تقریباً 30 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ہم گروپ 77 کے ممالک سمیت عالمی برادری کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی سے ہونیوالی تباہی سے آنیوالے بحران میں مدد کی۔ وزیر خارجہ نے کہا ہمیں ایک ایسے عالمی ڈھانچے اور پالیسیوں کو فروغ دینا ہوگا کہ دنیا سے عدم مساوات کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے بالکل درست کہا ہے کہ موجودہ عالمی معاشی نظام اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے، دنیا کے عالمی معاشی نظام کو ترقی کے اہداف کیساتھ منسلک کرنا ہوگا، اگر دنیا کو ایک مستحکم عالمی معیشت چاہئے تو اس کیلئے توانائی، ٹرانسپورٹ، رہائش، صنعت اور زراعت کے شعبوں میں سالانہ ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ممکن بنانا ہوگا۔ ترقی پذیر ممالک کیلئے دنیا کے تجارتی نظام کو دوبارہ وضع کرنا ہوگا تاکہ یہ دنیا میں ترقی کے اہداف کی تکمیل میں معاون ہوسکے، ترقی پذیر ممالک کی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کے لئے سڑکوں کے منصوبے اہم ہیں، چین کا اقتصادی راہداری کا منصوبہ اس کی اہم مثال ہے۔ ہمیں دنیا میں عدم مساوات اور غربت کو فروغ دینے والے نظام کو اب تبدیل کرنا ہوگا۔ قبل ازیں نیویارک میں کونسل برائے امور خارجہ سے خطا ب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال اور تباہی کو بیان کرنے کیلئے طوفان نوح کا حوالہ دیا اور طوفان نوح میں 40دن اور40راتیں پانی برسا تھا، پاکستان میں جون کے وسط سے جاری بارشیں اگست کے آخر تک جاری رہیں، جب بارشیں رکیں تو پاکستان کے وسط میں سو کلومیٹر کی جھیل وجود میں آچکی تھی، جھیل کاپانی اپنے پیچھے تباہی چھوڑتا ہوا سمندر کی طرف جارہا ہے۔ پاکستان میں ہر سات میں سے ایک شخص سیلاب سے متاثر ہوا۔ خدشہ ہے دو ماہ بعد گندم کی بوائی بھی نہیں ہوسکے گی، ہمیں اپنے لوگوں کیلئے موسمیاتی انصاف چاہیے۔ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ 0.8فیصد ہے، میں اپنے لوگوں کیلئے امداد کی نہیں انصاف کی بات کروں گا۔

بلاول بھٹو

مزید :

صفحہ اول -