متاثرین کی امداد میں تاخیر،جماعت اسلامی کے سندھ  بھر میں مظاہرے

  متاثرین کی امداد میں تاخیر،جماعت اسلامی کے سندھ  بھر میں مظاہرے

  

       کراچی (اسٹاف رپورٹر) سیلاب متاثرین کی امداد میں کرپشن و تاخیری حربوں کیخلاف جماعت اسلامی سندھ کی جانب سے جمعہ کو کراچی تا کشمور احتجاجی مظاہرے کئے گئے، کراچی، جیکب آباد، شکارپور،کندھ کوٹ،قمبر، میرپورخاص،سکھر، لاڑکانہ، شہدادکوٹ،نوشہروفیروز،ٹھٹھہ نواب شاہ،ٹنڈوآدم، میرپورخاص، بدین، گولارچی، تلہار،ٹنڈوباگو اور شادی لارج سمیت سندھ کے مختلف ضلعی اور تحصیل ہیڈکواٹرز کے پریس کلب و اہم مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں بارش اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی،احتجاجی مظاہروں سے جماعت اسلامی کے مرکزی، صوبائی اور مقامی رہنما?ں نے خطاب کیا،کراچی میں صوبائی امیر محمد حسین محنتی نے منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے آج لاکھوں لوگ سڑکوں پر دربدری کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں،تیل،کوئلے اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال سندھ کے لوگ نااہل قیادت کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہیں، جماعت اسلامی سیلاب متاثرین کیلئے ملکی اور بیرونی امداد میں کرپشن کی اجازت ہرگز نہیں دے گی اور متاثرہ بھائیوں کو اپنے جائز حقوق دلوانے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، اگر حکومت نے ہمارے احتجاج پر مسائل حل نہ کئے تو اے پی سی، سیمینار سمیت احتجاج کے دیگر راستے اختیار کریں گے۔صوبائی امیر نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کیلئے آنے والے امداد کی تقسیم میں شفافیت لانے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن میں سول سوسائٹی، صحافیوں اور علماء کو بھی شامل کیا جائے، عوام کو بھکاری بنانے کی بجائے انہیں کاروبار اور کاشتکار بھائیوں کو زمینیں آباد کرنے کیلئے بلا سود قرضے، سستے داموں پر کھاد، بیج  و زرعی مشینری فراہم کی جائے تاکہ ملکی معیشت بحال اور متاثرین کے مسائل بھی حل ہوسکیں۔لاڑکانہ:جماعت اسلامی کے تحت لاڑکانہ میں صوبائی جنرل سیکریٹری کاشف سعید شیخ، ضلعی امیر قاری ابو زبیر جکھرو کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کاشف سعید شیخ نے کہا کہ صوبائی حکومت سندھ بھر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، لاکھوں کی تعداد میں متاثرہ افراد کھلے آسمان تلے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت نہ تو انہیں علاج اور نہ ہی خوراک کی سہولیات فراہم کرپارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آدھے سے زیادہ سندھ سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا ہے ایک ماہ گزر جانے کے باوجود حکومت پانی کی نکاسی نہیں کرسکی ہے جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں ایک طرف تو بیماریاں پھیل رہی ہیں تو دوسری جانب متاثرہ افراد کا مال و متاع تباہ وبرباد ہوگیا ہے۔ لیکن انہیں کوئی ریلیف فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے، بیرون ممالک سے آنے والی امداد بھی ان پریشان حال افرا دتک نہیں پہنچ پارہی، فلاحی اور رفاعی تنظمیں اور مخیر حضرات اپنے طورپر ان پریشان حال متاثرہ افراد کی کسی حد تک داد رسی کررہے ہیں جو ناکافی ہے۔ محکمہ موسمیات نے کئی روز پہلے شدید بارشوں کی پیش گوئی کردی تھی اس کے باوجود صوبائی حکومت نے کسی طرح کے پیشگی اقدامات نہیں کیے جس کی وجہ سے آدھے سے زیادہ سندھ پانی میں ڈوب گیا اور لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی اس سیلابی پانی کی نظر ہوگئی ہے۔صوبائی حکومت محض فوٹو سیشن کی حد تک محدود ہے عملی طورپر ریلیف کے کام کہیں نظر نہیں آرہے ہیں، سرکاری اور بیرونی ممالک سے آنے والی امداد آئے روز کسی نہ کسی وڈیرے یا پیپلزپارٹی کے کسی عہدیدار کے گھروں، اوطاقوں یا فیکٹریوں سے برآمد ہورہی ہے جو شرمناک عمل ہے، سیلاب زدگان کی لاشوں کا سودا کرکے مال جمع کیاجائے گا اور پھر وہ مال باہر کے بینکوں میں جمع کرایاجائے اب سندھ کے عوام کو نااہل، نالائق اور کرپٹ حکمرانوں سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیکر اپنی آنے والی نسل کی بہتری اور ملک کی ترقی کیلئے ووٹ سے ایسے لوگوں کو شکست دینا ہوگی۔کندھ کوٹ: جماعت اسلامی ضلع کندھ کوٹ کی جانب سے مظاہرہ منعقد کیا گیا جس سے صوبائی نائب امیر حافظ نصراللہ عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سیلاب کے بعد مرکزی اور سندھ حکومت نے عوام کو بے یارومددگار چھوڑدیا گیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -