وزیر اعطم کی قائم کردہ ریلیف کمیٹی کا خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت اجلاس

وزیر اعطم کی قائم کردہ ریلیف کمیٹی کا خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت اجلاس

  

        کراچی (سٹاف رپورٹر)وزیر اعظم کی قائم کردہ ریلیف کمیٹی کا وفاقی وزیرسید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ، سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ، سابق گورنر سندھ محمد زبیر، ایم این اے عامر مگسی شریک ہوئے۔سندھ حکومت کی جانب سے چیف سیکرٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت، صوبائی مشیر زراعت منظور حسین وسان، متعلقہ سیکرٹری اورکمشنرزشریک ہوئے۔اجلاس میں چیف سیکرٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے متعلق آگاہی دی۔انہوں نے بتایاکہ منچھر جھیل سے پانی کا دباؤ کم ہوکر اب 119 فٹ ہو گیا ہے۔اس وقت مزید کسی بھی علاقے کو پانی سے خطرہ نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 5 لاکھ 76 ہزار 762 ٹینٹ اور ترپال دیئے گئے ہیں۔اب تک 7,77,120 راشن بیگ دیئے گئے ہیں جبکہ1,11,550 راشن بیگ کا آرڈر بھی دیا گیا ہے۔چیف سیکریٹری سندھ نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ کو 2 ارب اور پی ڈی ایم اے کو 8 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔اجلاس میں محکمہ آبپاشی نے صوبے سے پانی کے نکاس کا پلان پیش کیا۔سیکرٹری محکمہ آبپاشی نے کہاکہ پانی قدرتی گریوٹی اور ڈی واٹرنگ پمپ کے زریعے نکالا جا رہا ہے۔دادو اور جامشورو اضلاع سے پانی کے نکاس کو 60 سے 90 روز لگیں گے۔ وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبے سے آئندہ ایک ماہ تک پانی نہ نکالا گیا تو بہت بڑا نقصان ہوگا۔پانی کھڑا ہونے سے گھر تباہ ہو رہے ہیں جب کے ملیریا اور دیگر بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔پاکستان بری طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور وفاقی حکومت کو اعتماد میں لے کر فلڈ پر کام کیا جائے۔آئندہ آنے والے سالوں میں سیلاب کی تباہی سے بچنے کے لئے لانگ ٹرم پلان بنانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ فلڈ کمیشن، وفاقی حکومت سندھ اور بلوچستان حکومت آئندہ کے لئے پلان بنائیں۔خورشید شاہ نے کہاکہ کمیٹی کی سفارشات وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی۔وزیر اعظم کو سفارش کریں گے کے کاشتکاروں کے لئے زرعی قرضہ ایک سال تک موخر کیا جائے۔صوبائی مشیر زراعت منظور حسین وسان نے کہاکہ پانی کے نکاس کے لئے مزید پمپ لگائے جائیں۔ خیرپور میں کھجور کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔اجلاس میں  ڈی جی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے آگاہی دی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 11 غلط ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مزید 12 لاکھ افراد شامل کئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ کے 18 لاکھ لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقم دی جا رہی ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے اجلاس کو بتایا کہ سیلاب متاثرین کی رقم سے کٹوتی کرنے والوں کے خلاف پورے سندھ میں ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔سیکرٹری محکمہ صحت حکومت نسھ نے اجلاس کو بتایا کہ پانی کے وجہ سے ملیریا گیسٹرو اور دیگر بیماریوں کا خطرہ ہے۔صوبے میں دواؤں کی کوئی کمی نہیں ہے کابینہ نے 6 ارب دواؤں کی خریداری کے کئے منظوری دی ہے۔عالمی صحت کے اداروں سے ملیریا کی ادویات اور کٹس بھی مل رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ 2500نئے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کو بھرتی کرنے جا رہی ہیں۔سیکرٹری صحت نے کہاکہ غیر حاضر45 ڈاکٹروں کو ملازمت سے نکالا گیا ہے جبکہ 100 کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -