عمران خان رہا ہو چکے ہیں؟

     عمران خان رہا ہو چکے ہیں؟
     عمران خان رہا ہو چکے ہیں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 دو دن قبل ہماری ملاقات الیکٹریشن عبدالجبار سے ہوئی جس نے یہ ہوشربا انکشاف کیا کہ نہ صرف عمران خان رہا ہو چکے ہیں بلکہ بنی گالا اپنی رہائش گاہ پر بھی جا چکے ہیں۔ ہم نے قدرے چونکادینے والے انداز میں پوچھا کہ تمھیں یہ بات کس نے بتائی؟ کہنے لگا کہ ایک بندے نے بتایا ہے اور کہا ہے کہ آگے کسی سے بات نہیں کرنی ہے۔ ہم نے کہا کہ بات تو تم نے آگے کردی ہے۔ اس پر ذرا کھسیانا ہوگیا اور کہنے لگا کہ بس ایسے ہی ہے، مجھے کسی نے بتایا اور میں نے آپ کو بتادیا۔ ہم نے اندازہ لگاتے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا اس نے یہ بات سوشل میڈیا سے سنی ہے، جھٹ سے مان گیا اور کہنے لگا کہ ہاں وہیں سے سنی ہے اور پھر تفصیل بتانے لگا کہ میں شام کو گھر پہنچتا ہوں اور جونہی منہ ہاتھ دھو کر چارپائی پر بیٹھتا ہوں تو میری بیوی کھانا لے آتی ہے۔ اس کے بعد ایک ہاتھ سے روٹی کھاتا جاتاہوں اور دوسرے ہاتھ سے موبائل پر اپ لوڈ ہونے والے تمام کے تمام وی لاگ ایک ایک کرکے دیکھتا جاتا ہوں۔ ہم نے پوچھا کہ کس کس کا وی لاگ دیکھتے ہو؟ بتانے لگا کہ وہ رات گیارہ بجے تک سارے وی لاگ دیکھتا رہتا ہے۔ ہم نے عرض کی کہ کیا تم اپنے بیوی بچوں کو وقت نہیں دیتے ہو، کیا ان سے گپ شپ نہیں لگاتے ہو؟ کہنے لگاکہ ان کے پاس اپنا موبائل ہے، وہ اس پر ڈرامے دیکھتی رہتی ہے۔ پھر خود ہی بتانے لگا کہ اس نے ہمسائے سے وائی فائی کا پاس ورڈ لیا ہوا ہے اور مفت میں وہ اور اس کی بیوی سوشل میڈیا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ تو کیا تم ٹی وی نہیں دیکھتے ہو؟ کہنے لگا کہ اس کی کیا ضرورت ہے، میں نے ایل سی ڈی کو ڈبے میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔

ایک عبدالجبار الیکٹریشن ہی نہیں، عمران خان کا ہر پیروکارموبائل کی دنیا میں جی رہا ہے۔ وہ جو کچھ سوشل میڈیا پر دیکھتا اور سنتا ہے اس پر یقین کرلیتا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر counter checkنہیں ہوتا جس کا الیکٹرانک میڈیا میں عموماً اور پرنٹ میڈیا میں خصوصاً اہتمام کیا جاتا ہے۔ اب اگر عبدالجبار سوشل میڈیا دیکھ کر سمجھتا ہے کہ عمران خان بہت پاپولر ہے اور اگلا الیکشن جیت لے گا۔ کل کو انتخابات میں اگر پی ٹی آئی کو عبرت ناک شکست ہوئی تو اس کے لئے سوشل میڈیا پر اس وقت چلائے جانے والے دھاندلی کے پراپیگنڈے پر ایمان لانا کتنا مشکل ہوگا، اس کا اندازہ اس ایک بات سے ہی کیا جا سکتا ہے!

عمران خان کے پیروکار ہر وقت موبائل فون ہاتھ میں تھام کر گھنٹوں پی ٹی آئی سے متعلق وی لاگ دیکھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اچانک ایک دن ان کے بازو میں شدید درد جاگ اٹھتا ہے۔ یہی نہیں آپ کہیں بھی چلے جائیے، کسی بھی آفس میں نظر دوڑائیے، چپراسی سے لے کر بڑے صاحب تک ہر کوئی موبائل ہاتھ میں تھامے سکرین پر انگوٹھا یوں گھماتا پایا جاتا ہے جس طرح کبھی تسبیح کے دانوں کو گھمایا جاتا تھا۔ ان کو دیکھ کر یہی پوچھنے کو دل کرتا ہے کہ جناب کتنی تسبیح پڑھ لی ہے!

یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے پی ٹی آئی کے متاثرین پاکستانی عمران خان سے کم اور سوشل میڈیا پر ان کے حوالے سے چلائی جانے والی پراپیگنڈہ کمپین سے زیادہ متاثر ہیں۔ اب آپ اس الیکٹریشن کا حال ہی دیکھ لیں جو اس یقین کے ساتھ زندگی کر رہا ہے کہ عمران خان رہا ہو کر بنی گالا پہنچ چکے ہیں اور اس کے الٹ کچھ بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ ہم نے اس کو باور بھی کروایا کہ عمران خان کون سا بنی گالا میں کک لگے ہوئے ہیں کہ جن کے آنے جانے کی کسی کو خبر نہ ہو، وہ تو عوام کے لیڈر ہیں اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ لیڈر کسی جگہ موجود ہو اور عوام کو پتہ نہ چلے کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ کہیں امید کی شمع روشن ہو اور لوگوں تک اس کی روشنی نہ پہنچے لیکن وہ اس بات پر توجہ دینے کی بجائے اس وی لاگ پر زیادہ یقین رکھتاہے جو اسے بتارہا ہے کہ عمران خان رہا ہو چکے ہیں اور ان دنوں بنی گالا میں ہیں۔ 

کچھ ایسا ہی معاملہ مرحوم جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہوا تھا جو یہ دیکھ کر کہ فیس بک پر ان کے فالوئرز کی تعداد 25لاکھ ہو چکی ہے، نجات دہندہ بن کر کراچی ایئرپورٹ پر اترے تو پتہ چلا کہ ان کا فین کلب ان کا استقبال کرنے کے لئے آنے کی بجائے فیس بک پر اس کی لائیو کوریج پر اکتفا کئے ہوئے ہے۔ انہیں مایوس ہو کر واپس لوٹنا پڑا تھا۔اس کے بعد ہی عمران خان کو ایک پراجیکٹ کے طور پر لانچ کیا گیا تھا تاکہ نواز شریف کا توڑ کیا جا سکے، نواز شریف کو تو نہ توڑا جا سکا البتہ عمران خان کی توڑ مروڑ شروع ہوگئی ہے، وہ کیا کہا تھا شہباز شریف نے کہ ڈانگ تو آپ کو پھرنی ہے!

ویسے یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ نواز شریف کا نام سنتے ہوئے پی ٹی آئی کی ماں کیوں مر جاتی ہے، اس کے حلقوں میں ایک ہی بات ہوتی ہے کہ نواز شریف واپس نہیں آئے گا۔ شہباز شریف کو نواز شریف نے واپس لندن بلایا تو قیاس آرائیوں کے قلابے ملائیجانے لگے۔ کہا گیا کہ فوج نواز شریف کو وزیر اعظم نہیں بنانا چاہتی ہے شہباز شریف قابل قبول ہے۔ یہ تجزیے تب تک ہوتے رہے جب تک کہ نواز شہباز ملاقات کے بعد لندن سے بیان سامنے نہیں آگیاکہ نواز شریف واپس آ رہے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -