خوش قسمت پرویزمشرف!

خوش قسمت پرویزمشرف!
خوش قسمت پرویزمشرف!

  

جنرل پرویز مشرف کی واپسی پر کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔ وہ پاکستان کے شہری ہیں، سو ان سے پاکستان کے شہری ہونے کا حق نہیں چھینا جا سکتا، مگر پاکستان ا ور اس کے عوام کے ساتھ جو کچھ انہوں نے کیا ان سے بھی پوچھا جانا چاہئے اور انہیں حساب بھی دینا چاہئے، اگر اس ملک میں بھٹو کو پھانسی دی جاسکتی ہے، نواز شریف کو جلا وطن کیا جاسکتا ہے تو پھر کسی آمر سے حساب کتاب کیوں نہیں پوچھا جاسکتا۔ جنرل پرویز مشرف کو بتانا پڑے گا کہ ایک منتخب وزیراعظم کو فرضی داستان کے ذریعے عہدے سے ہٹانا اور پھر جلاوطن کر دینا ۔ کس قانون نے یہ سب کچھ کرنے کا حق دیا تھا۔ کس قانون کے تحت وہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو وطن واپس آنے سے روکتے رہے۔ وہ کیا ایسے حالات تھے کہ انہوں نے لال مسجد کے طالب علموں پر بم برسائے۔ کس قانون کے تحت انہوں نے عدالت کے معزز ججوں کو نظر بند کئے رکھا۔ انہوں نے اکبر بگٹی کو کس جرم میں گولی کا نشانہ بنوایا۔ وہ کیا دباو¿ تھا کہ انہوںنے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے؟

جنرل پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ اگر جنرل پرویز مشرف سے حساب کتاب پوچھا گیا تو پھر بہت سارے لوگوں کے نام آئیں گے۔ نام لئے بغیر انہوں نے اپنے اس بیان کے ذریعے عدالت کے ججوں کو دباو¿ میں لانے کی کوشش کی ہے، مگر عدالت کے ایک معزز جج نے فیصلہ کن انداز میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ:”ست بسم اللہ“.... جن لوگوں کا نام آتا ہے، جو لوگ ملوث ہیں، ان کے نام بتائے جائیں تاکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ جنرل پرویز مشرف کے وکیل اصرار کرتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے جو فیصلے کئے، ان فیصلوں میں اور لوگ بھی شامل تھے۔جو لوگ شامل ہو سکتے ہیں، ان میں ظفر اللہ جمالی، شوکت عزیز اور چودھری شجاعت کے نام لئے جا سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اس قابل تھے کہ جنرل پرویز مشرف کے کسی فیصلے کے آگے سر اٹھاتے۔

ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو وردی میں ملبوس صدر کے کسی فیصلے کے خلاف جاتا۔ ایک نام آرمی چیف کا بھی ہو سکتا ہے اور ظاہر ہے اس وقت آرمی چیف وہ خود تھے، آرمی چیف کی حیثیت سے وہ اختیار کل کے مالک تھے اور کور کمانڈر یا آرمی کے دیگر افسران ممکن ہے، اپنی رائے دیتے وقت اختلافی رائے کا اظہار کرتے ہوں، مگر چیف کا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ بالفرض اگر اس وقت کے فوجی افسران کو عدالت میں بلا بھی لیا جائے تو ان میں سے زیادہ تر جنرل پرویز مشرف کے حق میں اپنی رائے نہیں دیں گے۔ جنرل پرویز مشرف اپنے کسی ایک فیصلے کی وجہ سے نہیں، بہت سے فیصلوں کی وجہ سے مختلف کیسوں میں ملزم ہیں۔ اُن پر ایک الزام پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کو قتل کرانے کا بھی ہے، جبکہ محترمہ نے خود تحریری طور پر عوامی ایف آئی آر درج کرا دی تھی، ممکن ہے کہ محترمہ کے شوہر آصف علی زرداری، بے نظیر بھٹو کے کیس میں زیادہ دلچسپی نہ لیں، کیونکہ اپنے مفاہمتی سیاسی فارمولے کے تحت وہ عملی طور پر بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے کسی قسم کی کارروائی کے حق میں ہی نہیں ہیں۔ وہ ”جمہوریت بہترین انتقام“ کے نعرے کے ساتھ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو معاف کر چکے ہیں۔

بے نظیر بھٹو کے فرزند بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ کے قاتلوں کے حوالے سے فریق بن سکتے ہیں، مگر اپنے والد کی سیاست کے اسیر بلاول بھٹو زرداری اس طرح کے کسی مقدمے میں فریق بننے سے گریز کریں گے۔ بلوچستان کے اکبر بگٹی کے بیٹوں نے ابھی تک جنرل پرویز مشرف کو اپنے باپ کے قتل کے جرم کو معاف نہیں کیا۔ طلال بگٹی نے جنرل پرویز مشرف کو قتل کرنے والے کے لئے انعام کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ ممکن ہے کہ آئندہ چند دنوں میں وہ باقاعدہ فریق بن کر عدالت جائیں۔ بہرحال جنرل پرویز مشرف اس وقت مختلف عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ فوج یہ پسند نہیں کرے گی کہ ان کے سابق چیف کے ساتھ عام ملزموں جیسا سلوک کیا جائے، مگر پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ جنرل پرویز مشرف اکیلے ہیں اور پریشان بھی ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے معاملے میں عدالت بھی قانون کی طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ کسی بھی جج نے ابھی تک کوئی ایسے ریمارکس نہیں دئیے کہ جن کی وجہ سے کہا جائے کہ عدالت ان کے ساتھ انصاف نہیں کر رہی۔ عدالت نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ نرمی بھی برتی۔ جنرل پرویز مشرف پہلے ملزم ہیں، جو پورے پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں جاتے ہیں ۔ عدالتوں میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب عدالت کسی بھی ملزم یا مجرم کی ضمانت منسوخ کرتی ہے تو وکلاءحضرات ملزم یا مجرم کو فرار کرانے میں اس کی مدد کرتے ہیں، مگر جنرل پرویز مشرف جب عدالت سے بھاگے تو ان کے وکیل کو بھی بعد میں پتہ چلا کہ ان کے ”کلائنٹ“ عدالت سے بھاگ گئے ہیں۔ میڈیا نے جب جنرل پرویز مشرف کے بھاگنے کے ٹِکر اور خبریں چلائیں تو ان کے ترجمان نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ جنرل بھاگے نہیں ہیں۔ میڈیا کے اس حقیقی خبرنامے کو پڑھنے اور سننے کے بعد پرویز مشرف کے وکیل اور ترجمان نے انہیں خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا مشورہ دیا اور وہ پولیس لائن چلے گئے۔ دوسرے روز وہ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے انہیں چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے اب وہ اپنے گھر میں قید ہیں، عدالت نے ان کے گھر کو ”سب جیل“ قرار دیا ہے۔

جنرل(ر) پرویز مشرف کے ترجمان نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو صرف دو کمرے دئیے گئے ہیں جو سراسر زیادتی ہے۔ ترجمان سے پوچھنا چاہئے کہ جب کسی ملزم کو جیل بھیجا جاتا ہے تو پھر وہ قیدی ہوتا ہے۔ یہ تو جیل والوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ان کے فارم ہاو¿س کو سب جیل قرار دے دیا۔ اگر انہیں سچ مچ کی جیل، جس میں انہوں نے جاوید ہاشمی اور دیگرسیاسی قیدیوں کو رکھا تھا، میں بھیج دیتی تو وہاں 4/4 کے کمرے میں پانچ قیدی رکھے جاتے ہیں اور قیدیوں کو اس4/4 کے کمرے میں باتھ روم بھی بنانا پڑتا ہے۔ قیدی جب ایسے کمرے میں سوتے ہیں تو پھر صبح ان کے چہروں پر ایک دوسرے کے پاو¿ں کے نشانات بھی ہوتے ہیں۔ چیونٹیوں، کیڑوں، مچھروں اور گرمی کی داستان الگ ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے ترجمان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ان کے باس ملزم ہیں اور ملزموں کو ملزموں کی طرح ملزموں کی جگہ پر ہی رہنا پڑتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جنرل سے قبل لاکھوں ملزم جیل جا چکے ہیں۔ ان میں بھٹو مرحوم کے علاوہ نواز شریف بھی ہیں، جنہیں اٹک قلعہ کے ایک کمرے 4/4 میں بند کر دیا گیا تھا اور انہیں کھانا بھی حوالاتیوں والا ملتا تھا۔ جنرل تو پھر بھی خوش قسمت ہیں کہ فارم ہاو¿س پر بند ہیں اور گھر کا کھانا بھی کھا رہے ہیں۔ کافی اور سگار بھی پی رہے ہیں۔ عدالت اس سے زیادہ کیا رعایت دے کسی ملزم کو؟

مزید : کالم