سابق آرمی چیف کا ٹرائل (3)

سابق آرمی چیف کا ٹرائل (3)
سابق آرمی چیف کا ٹرائل (3)

  

حاضر سروس فوجیوں میں اضطراب اور اضمحلال کی تفصیلات کی ایک ہلکی سی جھلک مَیں نے اس لئے پیش کی ہے کہ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ ملک کے مختلف گیریژنوں میں پاکستان آرمی کا مورال متاثر ہو رہا ہے، جس کے نتائج ملک اور قوم کے لئے خوش آئند نہیں ہو سکتے۔ کل کلاں اگر فوج کو بیرونی دشمن سے لڑنا پڑے تو مورال کی یہ کیفیت ہمارے ٹروپس کی کارکردگی پر منفی اثرات ڈالے گی۔

فوج، سول معاشرے سے ایک مختلف معاشرہ اور ادارہ ہے.... جو بھی کیڈٹ یا رنگروٹ پی ایم اے یا کسی ٹریننگ سنٹر میں جاتا ہے تو سب سے پہلے اسے نظم و ضبط کا پابند ہونا سکھایا جاتا ہے۔ یہی ڈسپلن اس کی ساری زندگی میں اس کے ساتھ جاتا ہے۔ ڈسپلن کی یہ ہمرکابی اسے سکھلائے ہوئے راستے سے اِدھر اُدھر ہونے نہیں دیتی۔ ہماری ساڑھے چھ لاکھ آرمی میں سے6لاکھ کی تعداد وہ ہے جو جونیئر کمیشنڈ افسروں،نان کمیشنڈ افسروں اور سولجرز پر مشتمل ہے، جنہیں ہم بالترتیب JCOs،NCOs اور Sepoy کہتے ہیں۔

ماضی میں کئی برسوں سے فوج کے زیریں رینک میں بھرتی ہونے کا کم سے کم تعلیمی معیار میٹرک ہو چکا ہے۔ لیکن ایک تو ملک میں بیروز گاری کے سبب اور دوسرے آرمی میں بہتر مستقبل، بہتر تنخواہ اور بہتر مراعات کی وجہ سے ملک کا ایک کثیرالتعداد تعلیم یافتہ طبقہ ¿ آبادی، پاکستان کی مسلح افواج جوائن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جو امیدوار کمیشنڈ آفیسر نہیں بن سکتے اور اس کے مطلوبہ معیاروں پر پورے نہیں اترتے، وہ نچلے رینک میں بھرتی ہو جاتے ہیں۔ آرمی ، نیوی، ائر فورس کے بھرتی دفاتر کے باہر، بھرتی کے ایام میں بہت ہجوم ہوتا ہے۔ چونکہ مقابلہ سخت ہوتا ہے اس لئے میٹرک کے علاوہ ایف اے، بی اے، بی ایس سی، ایم اے اور ایم ایس سی تک بہت سے امیدوار نچلے رینک میں بھرتی ہونے کے لئے رضاکارانہ اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں.... روٹی، کپڑا، مکان، بیوی بچوں اور والدین کے لئے مفت طبی سہولتوں کی کشش، ملک کے ایک کثیر لکھے پڑھے طبقے کو افواج ِ پاکستان کی طرف کھینچتی ہے۔ چونکہ فوج کی نوکری سخت اور مشکل ٹریننگ، کڑے قواعد و ضوابط، مختلف آب و ہواﺅں، موسموں اور علاقوں میں گردش کرتے رہنے سے عبارت ہوتی ہے اس لئے نوجوان پڑھا لکھا طبقہ اپنے مہماتی ذوقِ طبع کو آزمانے کے لئے بھی ملٹری کا رُخ کرتا ہے، لیکن اس شمولیت کی ایک وجہ اور بھی ہے جو مفادات کی جانب ہر گز نہیں دیکھتی۔

یہ نادیدہ وجہ ملک اور قوم کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے کا وہ ورثہ ہے جو ہماری نوجوان نسل کو اپنے آباﺅ اجداد سے عطا ہوا ہے۔ تقریباً70فیصد ریکروٹ وہ ہوتے ہیں جو گاﺅں سے آتے ہیں، جن کی تھوڑی بہت زمین بھی ہوتی ہے اور چھوٹا موٹا کاروبار بھی ہوتا ہے۔ وہ اگر چاہیں تو فوج کی ان مالی اور مادی سہولیات سے بہتر سہولتوں سے اپنے گاﺅں یا شہروں میں رہتے ہوئے بہرہ یاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان نوجوانوں کو یقین ہوتا ہے کہ فوج میں شامل ہونا جذبہ ¿ جہاد اور شوق شہادت کے علاوہ معاشرے میں عزت و افتخار کا باعث بھی ہوتا ہے۔

کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب لوگ فوجی وردی پر ناز کیا کرتے تھے۔ ان کی چال ڈھال میں ایک بانکپن اور ایک تمکنت ہوتی تھی جو بعض اوقات غرور کی حدوں کو چھونے لگتی تھی.... یہ لوگ سول سوسائٹی سے کٹ کر شہروں کی بجائے چھاﺅنیوں میں رہتے تھے۔ یہ تنہائی (Isolation) اگرچہ اب کم ہوتی جا رہی ہے، با ایں ہمہ اب بھی سول اور فوجی آبادیوں کو باہمی انٹرایکشن کے وہ مواقع کم کم ملتے ہیں جو غیر فوجی حضرات کو ہر آن دستیاب ہیں۔ یہ تنہائی اور تفاخر دونوں فوج کی پیشہ ورانہ ضروریات اور اس کے کلچر کا حصہ ہیں۔

مجھے یاد ہے جب مَیں نے پاک آرمی میں کمیشن حاصل کیا تھا تو تب نیم لفٹین کی تنخواہ500 روپے ماہانہ ہوتی تھی، فل لفٹین کی550روپے اور کپتان کی 650 روپے.... ایک ریکروٹ یا سپاہی کے مشاہرے کا اندازہ آپ خود لگا لیجئے۔ لیکن کیا افسر اور کیا جوان صرف ان چند روپوں کے لئے نوکری نہیں کرتا تھا.... اپنی 29 سالہ نوکری میں، مَیں ڈیڑھ درجن سے زیادہ مقامات پر پوسٹ رہا۔ کبھی کوئٹہ، مری اور گلگت کے یخ بستہ موسموں کا ، کبھی سکھر، میرپور، کھاریاں کی چلچلاتی دھوپ کا ،کبھی خضدار اور باقی بلوچستان کے ریگ زاروں کا اور کبھی ایبٹ آباد، اسلام آباد اور راولپنڈی کی نسبتاً آرام دہ لوکیشنوں کا دو دو، تین تین سال کا تلخ و شیریں تجربہ کرنا پڑا۔ بچے کبھی کسی سکول میں اور کبھی کسی سکول میں.... ان کو اوپر تلے بار بار زیادہ تر اُردو میڈیم اور کم کم انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کے نشیب و فراز سے گزرنا پڑا، جس سے ان کی تعلیم و تربیت متاثر ہوئی۔ کئی ایسی جگہوں پر پوسٹنگ ہوئی جہاں پورے ایک برس بعد گھر ملا اور بچوں کو ننھال یا ددھیال میں رہنا پڑا۔ میرے والد مرحوم کا جب انتقال ہوا تو مَیں کوئٹہ میں تھا، اس روز فلائٹ نہ ملی اور جب اگلے روز ملی تو اپنے شہر (پاکپتن) میں پہنچا ضرور لیکن والد کا آخری دیدار بھی نہ کر سکا۔ والدہ کی وفات پر بھی یہی سانحہ پیش آیا.... صرف مَیں ہی نہیں، پاکستان کی مسلح افواج کی اکثریت کو اِن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ میری کور نان کمبٹنٹ کور تھی اور وہ لوگ جو کمبٹنٹ (Combatant) کوروں کا حصہ ہوتے ہیں، ان کو تو کسی بڑے شہر یا قصبے میں شاذ ہی کوئی ایک دو برس فیملی کے ساتھ گزارنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ کبھی کوئی قریبی عزیز، بستر ِ مرگ پر بھی پڑا ہو تو فوجی اس سے سینکڑوں میل دور، میدانِ کارزار میں دشمن سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ گزشتہ پورا ڈیڑھ عشرہ فوج کو (خاص طور پر آرمی کو) ملک کے شمال مغربی حصوں میں ایک غیر روایتی دشمن کا سامنا رہا (اور آج بھی ہے) جس کی وجہ سے فوج نے ہزاروں جوانوں اور افسروں کی قربانی دی.... کیا یہ سب کچھ ایک معمولی سی تنخواہ یا دوسری معمولی سہولتوں کے لئے کیا گیا؟

ہمارے ملک کے امراء و روسائ، جاگیرداروں، کارخانہ داروں، ججوں اور سیاست دانوں کے خاندانوں کا سروے کریں اور دیکھیں کہ ان متمول اور مقتدر طبقات کے کتنے لوگ ہیں، جن کے بچے پاکستان کی مسلح افواج کا حصہ ہیں۔.... فوج کی زندگی بے شمار اور اَن گنت چیلنجوں سے عبارت ہے۔ یہ جو افسروں کو زمینوں اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے طعنے دیئے جاتے ہیں تو ان طعنہ زنوں سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر فوج میں اتنے ہی عیش و آرام اور مراعات ہیں تو پھر آپ اپنی اولادوں کو فوج میں کیوں نہیں بھیجتے؟

جز قیس کوئی اور نہ آیا بروئے کار

صحرا مگر بہ تنگی ¿ چشم ِ حسود تھا

میرا پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان آرمی ایک ایسی ٹرین ہے جس کے کمیشنڈ افسر گویا انجن (لوکو موٹو) ہیں اور باقی لوگ (JCOs،NCOs،ORs) گویا اس گاڑی کی بوگیاں ہیں۔ انجن ٹرین کو جس طرف لے جائے گا، بوگیاں اِسی طرف جائیں گی۔ ٹرین اور انجن دونوں کی سپیڈ، انتظام و انصرام، سفر کی سمت، نظام الاوقات جس ایک ہموار ریلوے ٹریک کے مرہون منت ہیں، اس کا نام ڈسپلن ہے۔

اس ٹرین کو وقت پر اور باقاعدگی سے چلانے کے لئے نہ صرف ریل کی پٹڑی، مضبوط انجن، آرام دہ بوگیاں، چاق و چوبند کانٹے والے، گارڈز، ڈرائیورز، سٹیشن ماسٹر اور دوسرا سٹاف درکار ہوتا ہے، بلکہ اس بات کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ٹرین کو آپریٹ کرنے والوں کی فرض شناسی، پابندی ¿ اوقات، مسافروں کے ساتھ کمٹمنٹ اور سٹاف کے مورال کا از بس خیال رکھا جائے.... اگر کوئی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ(ریلوے) اپنے آرام دہ دفتر میں بیٹھ کر ٹرین کے آپریٹنگ سٹاف کو مورد الزام ٹھہراتا رہے، انجن ڈرائیوروں کو بُرا بھلا کہتا رہے اور خیال کرے کہ یہ سرزنش آپریٹنگ سٹاف کو ”سیدھا“ کرنے کے لئے ضروری ہے تو وہ دن دُور نہیں ہو گا، جب ڈرائیونگ عملہ یا تو کوئی حادثہ کر کے سارے مسافروں کو مار دے گا یا زخمی کر دے گا یا پھر ٹرین سروس ہی بند ہو جائے گی....

یکے بعد دیگرے بہت سے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹوں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے باعث پاکستان ایکسپریس پہلے ہی پھٹیچر قسم کی پسنجر ٹرین بن چکی ہے۔ اس کی بوگیاں توڑ پھوڑ کا شکار ہیں، پٹڑی جگہ جگہ سے اکھڑ چکی ہے۔ لے دے کے انجن اور اس کا عملہ بچا ہوا ہے جو اس لٹی پٹی ٹرین کو کھینچے چلا جا رہا ہے۔ ایک عرصے سے بعض لوگ ڈی ایس(DS) کی شہہ پر اس انجن کے عملے پر پتھر پھینک رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پچھلے ڈرائیور نے یہ کیا تھا اور وہ کیا تھا.... چنانچہ سارے آپریٹنگ سٹاف میں بے چینی پھیلتی جا رہی ہے۔ ڈی ایس(ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ) اور اس کا وہ عملہ جو ائرکنڈیشنڈ کوچز میں بیٹھا ہے اس کو خیال کرنا چاہئے کہ1947اپ پاکستان ایکسپریس اب 2013 ڈاﺅن پسنجر بن چکی ہے۔ منزل دور ہے، راستہ پُرخطر ہے، ایک ایک میل پر Sniping کا اندیشہ ہے، اس لئے ہوش اور صبر سے کام لیں۔.... مغل پورہ ورکشاپ صرف15کلو میٹر دُور رہ گئی ہے!

قارئین کرام! مجھے جو کچھ کہنا تھا، استعارے کی زبان میں عرض کر دیا.... کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آئندہ پندرہ روز تک میڈیا اور وابستہ مفادات والے سیاستدان سنگ زنی سے باز رہیں، جنرل پرویز مشرف کہیں بھاگے نہیں جا رہے۔ وہ یہیں رہیں گے، فاضل جج صاحبان بھی11مئی کا انتظار کر لیں۔ 11مئی تک اگر صبر کر لیا جائے تو ہنگامہ ہائے ہاوہو کے لئے جنرل صاحب بھی آپ کے سامنے ہوں گے اور نئی قیادت بھی سامنے ہو گی، پاک آرمی بھی یہیں ہو گی۔ .... عین ممکن ہے آپ کی آرزوئیں رنگ لے آئیں۔ اس لئے فوج کو مزید امتحان میں نہ ڈالیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کا کوئی غلط اقدام پہلے سے بھڑکنے پر تیار بارود، میں کسی فلیتے کو آگ دکھا دے! (ختم شد)  ٭

مزید : کالم