انتخابات سے پہلے دہشت گردی کے مقاصد ؟

انتخابات سے پہلے دہشت گردی کے مقاصد ؟

کوئٹہ میں خود کش دہشت گرد حملے کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق اورسینتس زخمی ہوگئے ،جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم کے دفتر کے باہر بم دھماکے میں دو افراد جاں بحق اور پچس زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد متحدہ کے قائد الطاف حسین نے اپنے انتخابی دفاتر بند کر دینے کے لئے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آج یوم سوگ منائے گی۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعدد دوسرے مقامات پر بھی دہشت گرد حملے کئے گئے ہیں۔خیبر پختونخوا میں اے این پی اپنی انتخابی سرگرمیوں کو جلسے جلوسوں کے بجائے چار دیواری کے اندر اور گھروں تک محدود کر چکی ہے۔پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی عوامی جلسوں سے اجتناب کیا جا رہا ہے ۔بہت سے سیاسی رہنماﺅں نے ان دہشت گرد حملوں کو انتخابات سبوتا ژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

ادھر وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ عوام افواہوں پر دھیان نہ دیں انتخابات گیارہ مئی کو ہوں گے۔جہاں تک افواہوں کا تعلق ہے وہ ہمارے ملک میں ہر سطح پر اس کثرت سے پھیلائی جاتی ہیں کہ ان کو عوام کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔اب ان میں یہ شعور پیدا ہو چکا ہے کہ جب تک میڈیا یا حکومت کے معتبر ذرائع سے کوئی بات ان کے سامنے نہ آئے وہ کسی بات پر کان نہیں دھرتے۔ ویسے بھی انتخابات کے دنوں میں سیاسی جماعتوں کی پراپیگنڈا مشینری کی طرف سے گلی گلی اور محلے محلے افواہ سازی کی فیکٹریاں کھل جاتی ہیں۔ ان کا کام ہی عوام کو اپنے ڈھب پر لانے کے لئے دن رات افواہ سازی ہے۔افواہیں پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ کسی بڑے معاملے میں معتبر ذرائع سے عوام تک حقائق کا نہ پہنچنا ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں ماضی میں منتخب حکومتوں پر جس طرح شب خون مارا جاتا رہا ہے،جس طرح طالع آزما اچانک نمودار ہو کر ایک بہت بڑی واردات کے مرتکب ہوتے رہے ہیں، اس کی وجہ سے لوگ مسلسل اس طرح کے اقدامات کی توقع کرتے ہیں۔ پھر یہ کہ جمہوری حکومتوں نے ماضی میں جس طرح کے غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات اور بالخصوص میگا کرپشن کی جو بڑی بڑی وارداتیں کی ہیں، جن کے متعلق حقائق سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران سامنے آتے رہے اور جن کے مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے سپریم کورٹ کی طرف سے زور دیا جاتا رہا ہے،لیکن سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیںہوتا رہا،میمو گیٹ سیکنڈل جیسے سنگین معاملات کے سلسلے میں بھی قوم نے کسی بڑے اَپ سیٹ کی توقع کی۔پھر ڈاکٹرعلامہ طاہر القادری کے ملک میں آکر لانگ مارچ اور دھرنا دینے کے پروگرام کو بھی شک کی نظر سے دیکھا گیا۔اب پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں آکر انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش اور ان پر قائم مقدمات کی سماعت پر لوگ اُن کے سابقہ ادارے کی طرف سے کسی بڑے رد عمل کے متعلق متفکر ہوئے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی کے ساتھ ان کے ادا کردہ انکم ٹیکس ، آمدنی، جائیداد، بنک قرضوں اور دوہری شہریت وغیرہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے اور پارلیمانی کمیٹی کے منفی رویئے کے باوجود اپنے تیار کئے ہوئے کاغذات نامزدگی کی پرنٹنگ اور امیدواروں سے ریٹرننگ افسروں کے سوالات سے ایک بار پھر لوگوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ اس طرح کی سختی سے شاید بہت بڑی تعداد میں سابق ارکان اسمبلی انتخابات سے باہر ہو جائیں گے جس کے بعد بڑی سیاسی جماعتوں سے اگر کسی ایک یا زیادہ جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا، تو پھر انتخابات کا سارا عمل مخدوش ہو جائے گا۔اسی طرح کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کرنے اور ووٹر فہرستوں کی گھر گھر جا کر جانچ پڑتال کے سپریم کورٹ کے حکم پر ایم کیو ایم کے شدید رد عمل سے بھی انتخابات میں کسی بڑی رخنہ اندازی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔

یہ سارے خدشات اس لئے غلط ثابت ہوئے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے آنکھیں بند کر لی گئیں۔بنکوں کے بیسیوں نادہندگان، قرضے معاف کرانے والے، انکم ٹیکس ادا نہ کرنے والے، بجلی اور گیس وغیرہ کے بل جمع نہ کرانے والے اور جعلی ڈگریوں کے حاملین کے کاغذات نامزدگی متوقع جانچ پڑتال کے بغیر قبول کر لئے گئے۔حتی کہ 40 کے لگ بھگ ایسے افراد جن پر ماضی میں دہشت گردی کے سنگین الزامات تھے وہ بھی امیدوار بن کر میدان میں آ گئے۔ (وجہ یہی ہے کہ مقدمات کا فیصلہ نہیں ہو سکا) کراچی کے سلسلے میں بھی نئی حلقہ بندیوں اور ووٹر فہرستوں کی فوج کی نگرانی میں تفصیلی جانچ پڑتال کا معاملہ محدود کر دیا گیا، جس سے وہاں حکومت میں شامل رہنے والی جماعتوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ اس طرح کسی کو نہ چھیڑنے کی پالیسی سے مسائل کا حل تلاش کر لیا گیا۔اپوزیشن کی آواز دب کر رہ گئی، کسی کا بھی احتجاج یا انتخابات کے بائیکاٹ کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

اب دیکھا جائے تو صورت حال یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔ 98 فیصد عوام بھی آزادانہ ، غیر جابندارانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے حق میں ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ پُرامن ماحول میں انتخابات کا بروقت انعقاد ملکی سلامتی اور قومی خوشحالی کے لئے ضروری ہے، اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ فوج کی طرف سے بھی جمہوریت اور منصفانہ اور بروقت انتخابات کی دو ٹوک الفاظ میں حمایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ بار بار واضح کر چکی ہے کہ کسی کو انتخابات سبوتاژ کرنے یا ان کے التواکی اجازت نہیں دی جائے گی۔چھوٹی، بڑی سب سیاسی جماعتیں انتخابات میں اپنی شاندار کامیابی کی امید لئے بیٹھی ہیں اِس لئے کسی التواکے بغیر انتخابات چاہتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ عدلیہ ، فوج، حکومت، الیکشن کمیشن، سیاست دان اورعوا م سب کے سب اگر بروقت انتخابات چاہتے ہیں، تو پھر انتخابات نہ چاہنے والے آخر کس طرح اپنے ارادوں میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟ دہشت گردی کا سلسلہ ضرور ایسا ہے، جس پر یقینا تشویش کا اظہار کیا جانا چاہئے۔ ہر روز قیمتی جانوںکا نقصان اور بے شمار افراد کا شدید زخمی ہوجانا، معمولی بات نہیں۔ دہشت گردی پر قابو نہ پایا جانا اور ہماری ایجنسیوں اور محافظ اداروں کا مسلسل عوام کے جان ومال کی حفاظت میں ناکام رہنا اس سے بھی بڑھ کر تشویش کی بات ہے۔

دہشت گردی اور دشمن کی تخریب کاریوں کے خلاف پوری قوم متحد ہے، لیکن بھر بھی دشمن ہم ہی میں سے اپنے ایجنٹ آخر کہاں سے اور کس طرح ڈھونڈ لیتا ہے؟ پوری قوم کی آنکھوںمیں دھول جھونک کر آخر یہ دہشت گرد کس طرح اتنی بڑی تعداد میں ہمارا جانی نقصان کرتے رہتے ہیں؟ یہ غداروں کی نسل آخر کہاں پیدا ہوتی ہے؟ کون بدبخت ہیں، جو ہمارے اپنے بچوں کی برین واشنگ کے بعد انہیں اپنے ناپاک ارادوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں؟ وہ کون سے منافقین ہیں جو ہماری صفوں میں گھس کر ان درندہ صفت لوگوں کی تنظیموں کو سیاسی تحفظ دینے کی کوشش میں ہیں؟ آخر یہ دہشت گرد پکڑے جانے کے بعد کن لوگوںکی کمزوری کی وجہ سے پھر آزاد ہوجاتے ہیں؟ انہیں شکنجے میں جکڑنے اور عبرت ناک انجام کو پہنچانے کے لئے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ ان کی یرغمال بنائی ہوئی پوری قوم کو ان کے چنگل سے کیسے نکالا جانا ہے؟ ان کے سرپرستوں سمیت ان سے آہنی ہاتھ سے کس نے نمٹنا ہے؟ حکومتوں سیاسی جماعتوں اور ایجنسیوں سے ان کی ہر طرح کی حمایت قطعی طور پر ختم کر کے ان کے خلاف کارروائی اپنی جگہ،لیکن اب وقت آن پہنچا ہے کہ عوام اور بالخصوص نوجوان بھی گلی گلی، محلے محلے اور گاﺅں گاﺅں میں اُن کی بزدلانہ کارروائیوں کو روکنے کے لئے سخت نگرانی اور حفاظت کا اپنا نظام قائم کریں،اُن کا گھیرا اس طرح سے تنگ کریں کہ اُن کے لئے نکل بھاگنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔ حکومت اور این جی اوز کو بھی چاہئے کہ نوجوانوں کی رضا کار تنظیموں کے لئے دہشت گردی سے حفاظت کے لئے تربیت کے مختصر مدت کے پروگراموں کا انتظام کریں ۔اگر اس جذبے اور وسعت کے ساتھ دہشت گردوں کو روک دینے کا کام شروع نہیں کیا جاتا تو پھر دہشت گردوں کی یرغمال بنی ہوئی قوم انتخابات سمیت اپنے کسی بھی پروگرام پر عمل درآمد نہیں کرسکے گی۔ ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس وقت صرف اور صرف دہشت گردی کا مسئلہ ہی ہمارے تمام قسم کے مسائل کی بنیاد ہے۔اسے دشمن کی بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہے ،جس کے بہت سے شواہد قوم کے سامنے آچکے ہیں۔قوم کی تباہی کے درپے ان لوگوں سے کھلی جنگ کب کی شروع ہوچکی ہے۔ ان کا مقابلہ قوم نے 1965ءکی جنگ کے جذبے سے کرنا ہے۔اس جنگ میں فتح کے بغیر قوم کا سر نیچا ہوتا چلا جائے گا اور لاقانونیت عام کرنے والی قوتوں کو روز بروز قوت حاصل ہوتی جائے گی۔ ان کے ٹھکانے برباد کرنے اور ان پر آخری وار کرنے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ قوم کے ہرفرد نے اس کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔(آمین

مزید : اداریہ