عباس اطہر....” اُٹھو اور دیکھو، کہاں سے چلے تھے“

عباس اطہر....” اُٹھو اور دیکھو، کہاں سے چلے تھے“
عباس اطہر....” اُٹھو اور دیکھو، کہاں سے چلے تھے“

  

سی ایم ایچ ہسپتال لاہور کینٹ، آفیسر وارڈ کے کمرہ نمبر7میں عباس اطہر بیماری کے دن گزار رہا ہے۔ روزنامہ ”ایکسپریس“ لاہور کا گروپ ایڈیٹر، تحیر ّ میں لے جانے والا شاعر، بے ساختہ کالم نگار اور رزم گاہ صحافت کے جنگجو اخبار نویس عباس اطہر کے بارے میں گزشتہ دنوں عہد ساز غزل گو ظفر اقبال نے لکھا:” جن لوگوں کی شاعری صحافت نے نگل لی اُن میں عباس اطہر کا نام فراموش نہیں کیا جا سکتا“۔ جونہی مَیں نے اُن کا یہ جملہ پڑھا مجھے عباس کی آزاد نظم کے دو مصرعے یاد آ گئے،

”سارا گاﺅں اُس سے ڈرتا ہے

اُس کے چھ بھائی ہیں“!

بہن بھائی کے رشتے کا یہ وژن، اس انسانی رشتے کی عزت و تکریم کا اتنا بلیغ اظہار کم از کم میرے مطالعہ سے نہیں گزرا، آپ اس کی شاعری پڑھیں، وہ واقعی متحیر ّ کر دیتا ہے۔ عباس اطہر کی شاعری کا ایک ہی مجموعہ ”دن چڑھے دریا چڑھے“ کے نام سے شائع ہوا، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ظفر اقبال کے اس تذکرے میں حسن نثار کا نام بھی شامل تھا۔

اخبار نویسوں، دانشوروں، لکھاریوں اور تخلیق کاروں میں بیسیوں ناموں کی یاد سے دل کی دُنیا آباد رہتی ہے۔ مجیب الرحمن شامی ، خالد حسن،حسین نقی، نذیر ناجی، محمد ادریس، عبداللہ ملک، حمید اختر، آئی اے رحمن، ہارون الرشید، عبدالقادر حسن، اظہر جاوید، اظہر زمان، قدرت اللہ چودھری، ستار طاہر، ناصر زیدی، وارث میر کس کس کا ذکر کروں اور کس کس کو بھول جاﺅں ممکن نہیں، مَیں نے1960ءاور1975ءکی ڈیڑھ دہائی سے بھی پہلے، یوں سمجھو1950ءسے1975ءتک، سیاست دانوں، تخلیق کاروں اور علماءکی جس رہنما نسل کو دیکھا اور سنا، وہ ایک داستان ہوشربا، جس کی تفصیل آپ کو کسی الف لیلیٰ کے جہان حیرت میں پھینک دیتی ہے۔ آپ اس حیرت کدہ سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ ضیاءالحق کی آمد اور عہد نے پاکستان کی دھرتی کو سیم اور تھور میں بدل دیا۔ مذہب آیا اور اُس نے انسانوں کی روحیں کسی بے آب و گیاہ زمین میں اُگے درختوں کی خشک ٹہنیوں میں تبدیل کر دیں۔ شجر حیات کے پتے گرتے چلے گئے، آج صرف ٹنڈ منڈ باقی رہ گیا ہے جسے طالبان کی دیمک کھوکھلا کر کے گرانے کے در پے ہے!

ضیاءالحق کا عہد عباس اطہر کی زندگی سے بھرپور متحرک کہانی کا بے حد پُر آشوب زمانہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت میں بالآخر وہ شاہی قلعہ لاہور کے عقوبت خانے سے ہوتا ہوا براستہ کیمپ جیل لاہور ایک روز پاکستان سے ہجرت کر گیا۔ یادداشت کنفیوژ نہ ہو، تب یہ80ءیا81ءکے دن رات تھے۔ دبئی پہنچ کر اُس نے وطن سے اپنی ہجرت کا نوحہ بیان کیا 

محتاج قوموں کے

کمزور ملکوں کے بیٹے ہوئے

ہم کہ مجبور بہنوں کے بھائی ہوئے

ہم کہ مفتوح ماﺅں کے بیٹے ہوئے

ہم کہ کچھ نہ ہوئے

آﺅ دور ہو جائیں

درد کی زمینوں سے ، خوف کے مکانوں سے

اتنی دور ہو جائیں

نہ جہاں صدا آئے

اور نہ ظالموں کے اس شہر کی ہوا آئے

عباس اطہر کہ اپنی شخصی ساخت میں پاکستان کی دھرتی میں اُترا ہوا فرد، ضیاءکے اس بے برکت وقت میں وطن سے وچھوڑے نے عباس کو روحانی تعذیب کی کرچیوں میں بکھیر کر رکھ دیا، اس ہجرت نے اُس کی ذات کو مرثیے میں ڈھال دیا، جب ٹیپ ریکارڈ پر اُس کی آواز سنائی دیتی

سفر بھی کڑے ہیں، اُدھر تم اِدھر ہم

اکیلے کھڑے ہیں، اُدھر تم اِدھر ہم

بچھڑتے ہوئے تم نے سوچا نہ ہم نے

اندھیرے بڑے ہیں، اُدھر تم اِدھر ہم

اُٹھو اور دیکھو، جہاں سے چلے تھے

وہیں پر کھڑے ہیں، اُدھر تم اِدھر ہم

بُلاتے تھے ہم چاند کو جس زمین پر

اُس میں گڑے ہیں، اُدھر تم اِدھر ہم

مصیبت کے صحراﺅں کی ایک ٹھوکر

ہوا سے لڑے ہیں، اُدھر تم اِدھر ہم

اب کون صبحوں کو آواز دے گا

کہ سوئے پڑے ہیں، اُدھر تم اِدھر ہم

وہ پتھر ہیں جن کو جہاں چومتے تھے

رہ میں پڑے ہیں، اُدھر تم اِدھر ہم

عباس اطہر سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی حمایت میں اُس کا ”شریک جرم“ (مظفر الحسن) بھاگا، وہ یہ کیسٹ اپنے ساتھ لے گیا، راتوں کی تنہائیوں میں سنتا، روتا، پاکستان کی یاد میں بلبلاتا

شالا کوئی نہ پردیسی تھیوے

ککھ جنہاں تھیں بھارے

سی ایم ایچ ہسپتال لاہور کینٹ میں بیماری کے جاں سوز سفر کے اس مسافر کا یہ مرثیہ ہے، تو ضیاءالحق کے بے ثمر لمحوں کا احتجاجی سوگ، پھر بھی سوچتا ہوں ایک تو وہ پاکستان تھا جس میں ضیاءکے نیک اژدہی کلچر نے عام پاکستانی کی کھلی ڈھلی زندگی تاراج کر کے رکھ دی، اس پر تو ترقی پسندوں، بلکہ کہنا چاہئے انسان دوستوں نے ”لکھ لکھ وین“ آنسوﺅں کے دریا بہا دیئے۔ آج کا پاکستان تو ضیاءکے نیک اژدہی کلچر کا دُنیا میں سب سے بڑا پیدائشی گڑھ ہے، اب تو ترقی پسندوں کی تخلیقی قوت کا وجود بھی نظر نہیں آتا، چنانچہ میرا دل چاہا عباس سے کہوں

اُٹھو اور دیکھو، جہاں سے چلے تھے

وہیں پر کھڑے ہیں، اُدھر تم اِدھر ہم

نیکوں کے پاکستان میں اب پہلے اپنے ہم وطنوں کا صفایا کیا جائے گا، پھر وہ پوری دُنیا کے ”کفار“ کا صفایا کریں گے، تمہیں معلوم نہیں، پاکستان پورے عالم اسلام، انڈونیشیا، ملائیشیا سمیت، نیکی کا اصل ”محافظ“ ہے اور ”نیکی یہ ہے کہ سوائے ان نیکوں کے کوئی باقی نہ رہے“۔

42سال ہوتے ہیں جب مَیں اور عباس متعارف ہوئے، وہ نہیں، مَیں زبردستی اُس کی زندگی کا حصہ رہا۔ یہ تحریر اُس کی صحافتی اور سیاسی کارکردگی اور مقام کا احاطہ نہیں کرتی نہ اس کا یہ مقصد ہے۔ اسے آپ ایک دوست کی جانب سے تیمار داری کے خراج تحسین کا نام دے سکتے ہیں۔ وہ چند ماہ سے شدید علیل ہے۔ پہلے اپنی رہائش گاہ تاج پورہ اور اب ہسپتال میں ہے۔ ساری زندگی بھٹو خاندان اور پاکستان پیپلزپارٹی کی جارحانہ اور فیصلہ کن نظریاتی تائید میں گزاری۔ حسب معمول میرا اُس کے پاس آنا جانا لگا رہتا ہے۔بھٹو خاندان اور پیپلزپارٹی کے لئے وہ بلا کسی مبالغے اور ہچکچاہٹ کے ”One man Army“ کے غیر متنازعہ مرتبے پر فائز ہے، مجھے پنجاب پیپلزپارٹی کی جانب سے اُس کی بیماری پر تشویش اور خبر گیری کے سلسلے میں لاپرواہی نے قطعاً حیران نہیں کیا۔ پنجاب پی پی کی قیادت اور پی پی کے متعدد مرکزی لیڈروں کی ایک معقول تعداد ”بونوں“ اور ”باون گزوں“ پر مشتمل ہے۔ پنجاب کی قیادت نے تو ہمیشہ بھٹو خاندان کے لہو سے اپنی سیاسی زندگی کو غسل دیا۔ ایسا قحط الرجال اس صوبے میں نہ ہوتا تو منظور وٹو پنجاب پیپلزپارٹی کی صدارت کیسے سنبھال سکتا تھا؟ یہ لوگ قابل غور ہی نہیں ہیں، پی پی میں بیدار مغز شخصیتیں بھی موجود ہیں، انہیں اپنے اس تحریری سپہ سالار کو مطلوبہ پروٹوکول دینا چاہئے تھا۔ کوتاہی ہوئی وہ اس سے انکار نہیں کر سکتے۔

صدر مملکت سے عباس کے حوالے سے ایک جملہ منسوب کیا جاتا ہے ”وہ ہمارے اپنے ہیں اُن کی فکر نہ کریں“۔ وہ حد درجہ حساس سیکیورٹی اسباب کے نتیجے میں تشریف نہیں لا سکے، کیا فرحت اللہ بابر، رخسانہ بنگش وغیرہ بلاول کی کوشش بھی نہیں کر سکتے تھے، فرصت نہیں، عقل نہیں یا دونوں کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ان لوگوں کی کوڑھ مغزی نے میڈیا میں بھٹو خاندان اور پی پی کی پوزیشن خراب ہی نہیں تباہ کر دی، ان میں سے وہ کم ظرف تو ذہن سے اُترتے ہی نہیں، جو بی بی کی شہادت کے بعد مہنگے ترین تھری پیس سوٹ پہنے، بیس بیس مرلے کے مُنہ اور کلہاڑی کے پھل جیسے چوڑے دانت نکالے وزارتوں کا حلف اُٹھا رہے تھے!

صدر تک بات کا پہنچنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ پی پی میں ہے کوئی ایسا عملی باضمیر جسے صدر کو یاد دہانی کرانے کی توفیق ہو سکے جو انہیں بتا سکے، آپ نے تو عوام کی خدمت میں بالوں کی سفیدی قبول کر لی مگر آپ کے نو رتنوں میں سے کچھ لوگوں کو آپ کے وہ جاں نثار بھی یاد نہیں آئے، محبت کی پھوار میں آپ جن کی ٹائی کی ناٹ درست کرتے اور مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں۔

 

مزید : کالم