بینظیر قتل کیس ،ایف آئی اے پر ویز مشرف کاریمانڈ حاصل کرے گی

بینظیر قتل کیس ،ایف آئی اے پر ویز مشرف کاریمانڈ حاصل کرے گی

راولپنڈی (ثناءنےوز) وفاقی تحقےقاتی ادارے نے کہا ہے کہ وہ بےنظےر بھٹو کےس مےں سابق صدر پروےز مشرف کو گرفتار کرنے کی پابند ہے ٹرائل کورٹ کی طرف سے جاری کئے گئے وارنٹ گرفتاری ابھی تک موثر ہےںاس لئے کسی اور عدالت سے وارنٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہےں اب اےف آئی اے پروےز مشرف کو اپنی تحوےل مےں لے کر عدالت سے ان کا رےمانڈ حاصل کرے گی لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی بے نظیر بھٹو قتل کیس میں عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست خارج کر دی ہے۔ جسٹس خواجہ امتیاز اور جسٹس عبدالسمیع پر مشتمل 2رکنی بنچ نے پروےز مشرف کے وکلا کی عدم پیروی کی وجہ سے درخواست خارج کی ۔ سابق صدر پروےز مشرف نے عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست کی تھی ۔ جسٹس خواجہ امتیاز اور جسٹس عبدالسمیع خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو پروےز مشرف کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ ان کی جونیئر وکیل افشاں عادل پیش ہوئیں ۔ جسٹس خواجہ امتیاز نے افشاں عادل سے کہا کہ وہ پاور آف اٹارنی دکھائیں اس پر افشاں عادل نے عدالت سے ایک گھنٹے کا وقت مانگا لیکن وہ پاور آف اٹارنی پیش کرنے میں ناکام رہیں عدالت نے افشاں عادل سے کہا کہ پروےز مشرف پہلے ہی گرفتار ہیں ان کی ضمانت میں توسیع کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا وہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں بھی گرفتار دے دیں عدالت کا کہنا تھا کہ وہ پرویز پروےز مشرف کو ایک عام ملزم کے طور پر دیکھے گی جبکہ ایف ائی اے کے پراسیکیوٹر چودھری ذوالفقار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پرویز پروےز مشرف کی گرفتاری کے لئے درخواست کی ضرورت نہیں وہ پہلے ہی گرفتار ہیں ۔ پرویز پروےز مشرف کو بے نظیر بھٹو قتل کیس میں بھی گرفتار لیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ پرویز پروےز مشرف کے خلاف بے نظیر بھٹو قتل کیس میں ملوث ہونے کے کافی ثبوت ہیں ان کاکہنا تھا کہ ایف آئی اے پرویز پروےز مشرف کو بے نظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار کرکے ان کا ریمانڈ حاصل کرے گی ۔ چودھری ذوالفقار کا کہنا تھا کہ غیر معمولی ریلیف اس شخص کو دیا جاتا ہے جو معصوم ہو جبکہ پرویز پروےز مشرف کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے پرویز پروےز مشرف کی بے نظیر قتل کیس میں مدد ثابت ہوتی ہے ۔ عدالت نے عدم پیروی کی بناءپر پروےز مشرف کی درخواست ضمانت خارج کی ان کا کہنا تھا کہ پرویز پروےز مشرف کے وارنٹ گرفتاری کی ضرورت نہیں کیونکہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے وارنٹ گرفتاری ابھی تک موثر ہیں اس لئے کسی اور عدالت سے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ان کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر ایف آئی اے پرویز پروےز مشرف کو گرفتار کرنے کی پابند ہے ۔ ادھر سپرےم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئے ہیں کہ عدالت پرویز پروےز مشرف کے معاملے میں انصاف کرے گی جو بھی ہو گاآئین اور قانون کے مطابق ہی ہو گا انصاف سے کون خوش ہوتا ہے اور کون ناراض اس سے عدالت کو کوئی غرض نہیں جبکہ پرویز پروےز مشرف کے وکلاءنے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ 31جولائی 2009کے فیصلہ پر نظر ثانی کر یں کیونکہ اس 14رکنی بینچ کی سربراہی بھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کی تھی جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے پرویز پروےز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔پرویز پروےز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے دلائل میں کہا کہ پرویز پروےز مشرف والدہ کی تیمارداری کے لیے باہر جانا چاہتے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آپ کے موکل کی ہر قانونی مدد کرینگے۔ نہیں چاہتے کہ آپ کے موکل کو کسی قسم کا تعصب ملے۔ 9 مارچ 2007 ءکے بعد سے سب جانتے ہیں کہ پرویز پروےز مشرف اور چیف جسٹس افتخار چودھری کے درمیان کھلا تنازعہ موجود ہے ۔ چیف جسٹس نے اپنے بیان حلفی میں پرویز پروےز مشرف کے خلاف ذاتی نوعیت کے الزامات عائد کئے تھے اس پر جسٹس جواد خواجہ نے ابراہیم ستی سے کہا کہ وہ اس بیان حلفی کی مصدقہ یا غیر مصدقہ نقول عدالت میں پیش کریں ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ انہوں نے نقول کے حصول کے لئے سپریم کورٹ میں اپلائی کیا ہے تاہم ابھی یہ نقول نہیں ملیں ۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ اگر پرویز پروےز مشرف کے وکلاءکے پاس مصدقہ نقول نہیں لیں تو عدالت اپنے ریکارڈ سے منگوا لے گی جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ یہ عدالت کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ انصاف فراہم کرے اور پرویز پروےز مشرف کو کسی بھی قسم کے تعصب کا شکار نہ ہونے دے ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا چاہے اس فیصلہ سے کوئی خوش ہوتا ہے ، ڈرتا ہے یا تسکین پاتا ہے یہ عدالت کا مسئلہ نہیں عدالت انصاف کرے گی کیس میں انصاف کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا عدالت صرف آئین اور قانون کے مطابق چلے گی جسٹس جواد نے ابراہیم ستی سے کہا کہ وہ اپنے موکل کی مدد کریں ورنہ عدالت مدد کرے گی تو اس سے پرویز پروےز مشرف کو انصاف کے حصول میں مشکل پیش آئے گی ۔ ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر الزام ہے کہ انہوں نے ججز کو کام نہیں کرنے دیا ۔ 1999 ءسے 2000 ءتک ججز کو نہیں چھیڑا گیا کسی مداخلت کے بغیر ججز اپنا کام کرتے رہے ۔ 2000 ءمیں جسٹس سعید الزامان صدیقی سمیت چھ ججوں نے پی سی او کا حلف لیا ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ 31 جولائی کے فیصلہ پر نظرثانی ضروری ہے ۔ نظرثانی بنایا جائے ٹکا اقبال خان کیس میں عدالت نے تین نومبر کے اقدام کو درست قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قرار دادوں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ 31 جولائی کے فیصلہ میں چیف جسٹس شامل تھے کوئی اپنے ہی خلاف ہونے جرم میں جج نہیں ہو سکتا ۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ تعصب والے جج کو بینچ میں شامل بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ جسٹس خلجی نے ابراہیم ستی سے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ موجودہ بینچ میں کوئی ایسا جج تو نہیں جس کو ان کے موکل سے تعصب ہو ۔ ابرہیم ستی کا کہنا تھا کہ پرویز پروےز مشرف زیرحراست ہیں، ان کی کسی ریکارڈ تک رسائی نہیں اور نہ ہی ریکارڈ کی مصدقہ نقول مل رہی ہیں اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ اپنے مکل کی مدد نہیں کر سکتے تو عدالت مدد کرے گی ۔ آئین کے تحت پرویزپروےز مشرف کو انصاف دینا عدالت کا فرض ہے۔ عدالت آئین سامنے رکھ کر فیصلہ کرے گی چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا۔ پرویز پروےز مشرف کے حلف کے بعد بھی ججز نے اپنا کام جاری رکھا۔ افتخار محمد چودھری نے 2000 میں پی سی او حلف لیا۔ نو مارچ 2007 کو چیف جسٹس پرویز پروےز مشرف کیخلاف ہوگئے۔ چیف جسٹس نے بھی بیان حلفی میں پرویز پروےز مشرف پر ذاتی نوعیت کے الزامات لگائے۔ 13 ججز نے ریفرنس سنا اور فیصلہ دیا کہ ریفرنس کا جواز نہیں بنتا اور یہ ذاتی نوعیت کا ہے۔ ابراہیم ستی نے کہا کہ ان مشکلات کے نتیجہ میں تین نومبر کا اقدام ہوا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہم آپ کی بات سمجھ گئے ہیں کہ عدالت 31 جولائی2009 کے فیصلے پر انحصار نہ کرے ۔ ابراہیم ستی نے تعصب اور شفاف ٹرائیل کے حوالے سے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔ دوران سماعت ایک موقع پر سابق صدر پروےز مشرف کے وکیل جذباتی ہوگئے اور آصف علی زرداری کو آصف بھٹو کہہ گئے، جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ پہلے حیران ہوئے اور پھر ان کی تصحیح کی تاہم پروےز مشرف کے دوسرے وکیل احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ آصف زرداری بھی بھٹو کی کھال میں چھپے ہوئے ہیں۔ درےں اثناءوفاقی حکومت نے سیکیورٹی خدشات پر سپریم کورٹ سے سابق صدر پرویزمشرف کے تمام مقدمات ایک جگہ منتقل کرنے کی درخواست کردی ہے۔ذرائع کے مطابق، نگراں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ پرویزمشرف کو مختلف عدالتوں میں پیشی کیلئے لے جانے اور واپس لانے میں شدید سیکیورٹی خدشات ہیں۔ انتخابات قریب ہیں ۔ ایسے میں اتنے زیادہ سیکورٹی اہلکار فراہم کرنا بھی ممکن نہیں ۔ لہذا سابق صدر کیخلاف تمام مقدمات ایک ہی جگہ منتقل کئے جائیں۔

مزید : صفحہ اول