مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو مشرف دور کے ناظمین ”پیارے“ لگنے لگے

مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو مشرف دور کے ناظمین ”پیارے“ لگنے لگے
مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو مشرف دور کے ناظمین ”پیارے“ لگنے لگے

  



انتخابات 2013ءکے لئے جوں جوں میدان میں گرمی بڑھ رہی ہے ایسے ایسے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف میں دو بدو جنگ اور ون آن ون مقابلے کے لئے مطلع صاف ہوتا جارہا ہے ان دنوں ”دونوں“ جماعتوں میں ایک دوسرے کے ”بندے“ توڑنے اور ایک دوسرے پر عوامی دباﺅ بڑھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایاجارہا ہے۔ لیکن دونوں اطراف سے سابق صدر اور آرمی چیف کو آئین پاکستان کا دشمن بھی قرار دیا جارہا ہے مگر دونوں پارٹیاں جنرل (ر) پرویز مشرف کے 9 سال کامیابی کے ساتھ چلائے گئے مقامی حکومتوں کے نظام کے بندے یعنی سابق ناظمین کو ساتھ ملایا جارہا ہے ۔ پرویز مشرف سے دشمنی اور ان کے نظام کو چلانے کے لئے ان کی طرف سے لائے گئے سابق ناظمین سے ”دوستی“ کا ”منطق“ سمجھ سے بالاتر ہے۔ جن سابق ناظمین پر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ”صدقے واری“ جارہی ہیں یہ تمام کے تمام پرویز مشرف کے بندے رہے ہیں آخر آج بھی پرویز مشرف ”طاقت“ میں سامنے آجائیں تو قوی امکان ہے کہ یہ تمام ناظمین تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر ان کی چھتری تلے چلے جائیں گے۔ پہلے پرویز مشرف کی شکل میں کوئی اور مشرف نہ ان سے ملتا جلتا نام ہی کیوں نہ سامنے آجائے۔ گزشتہ روز دونوں پارٹیوں نے نظریہ ضرورت کے تحت جن ناظمین کو ساتھ ملایا ایک وہ وقت تھا کہ راقم و حروف گواہ ہے کہ یہ تمام کے تمام پرویز مشرف کی سلیکشن تھے۔ اس وقت نظریہ ضرورت ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا ایک دوسرے کے بندے توڑنے کا، سو لگتا یہی ہے وہ مسلم لیگ ن لاہور ، تحریک انصاف ہو، پیپلزپارٹی ہو ، مسلم لیگ ق ہو، جماعت اسلامی ہویا ایم کیو ایم ہو یا اے این پی سب کے سب نظریہ ضرورت کے تحت انتخاب جیتنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کسی کو یہ غرض نہیں ہے کہ یہ جنہیں وہ لے رہے ہیں یہ آئین توڑنے والے کے سامنے لائے گئے بندے ہیں یا کسی خدانخواستہ غیرملکی دشمن کے انہیں تو صرف الیکشن جیت کر”کرسی“ حاصل کرنی ہے اس طرح کے جوڑ توڑ کے نتیجے سے بننے والی جماعتیں اور حکومتیں دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔ اگر گزشتہ روز لاہور میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والے سابق ناظمین یا ان کے پیچھے بیٹھے ان کے سرپرستوں جن کے ہاتھ میں ان کی بانگیں ہیں ان کی بات کی جائے تو سب کے سب نظریہ ضرورت کے تحت عمران خان اور شہبازشریف کو ”امام“ تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے اگر ان کی پروازوں کا ذکر کیاجائے تو گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستان مسلم لیگ ( ن ) اور پاکستان تحریک انصاف میں ایک دوسرے کے بندے توڑنے کا مقابلہ ہورہا ہے اس سلسلے میں بدھ کا روز بھی دونوں جماعتوں میں خاصااہم رہا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہاتھ پر آخر کار سابق دور حکومت کے سابق ناظمین کی باقی ماندہ ”کھیپ“ نے بھی ”بیت“ کرلیں ہیں۔ 70 سابق ناظمین ،ٹاﺅن ناظمین ،نائب ناظمین نے داتا گنج بخش ٹاﺅن کے سابق ناظم طارق ثناءباجوہ اور سابق صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کی قیادت میں عمران خان سے قبل ازیں ملاقات کی بعدازاں فائیو سٹار ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کو اپنا ”مستقبل“ کے لئے امام تسلیم کرنے کا اعلان کردیا یہ تمام ناظمین پرویز مشرف کے دور میں سامنے آئے ٹکٹوں کی تقسیم تک ان کی اکثریت مسلم لیگ ن میں شمولیت کے لئے کوششیں کرتی رہی۔ مطالبات پورے کرنے کے لئے گرین سگنل نہ ملا تو نظریہ ضرورت کے تحت انہوں نے پی ٹی آئی میں پناہ لے لی۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کو جواب میں سابق ناظمین کی صورت میں ہی عمران خان کی پریس کانفرنس سے ٹھیک ایک گھنٹے بعد دے دیا جواب میں میاں شہباز شریف سے نشترٹاﺅن کے سابق ناظم میجر(ر) رفیق حسرت کی قیادت میں ایک گروپ نے ملاقات کی اور میاں برادران کو اپنا امام تسلیم کرلیا میجر(ر) رفیق حسرت قبل ازیں تحریک میں تھے یہ سلسلہ گزشتہ کئی روز سے جاری ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ دونوں اطراف ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر پرواز کرنے والے درحقیقت ناراض گروپ سے تعلق رکھتے ہیں دونوں اطراف جنہیں ایڈجسٹ نہیں کیاگیا یا انہیں ٹکٹیں نہیں ملیں وہ ایک سے دوسری جماعت میں جا کر اپنا غصہ ٹھنڈا کررہے ہیں ۔ لیکن اگر سچ بات کی جائے تو گزشتہ روز لاہور میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کی طرف سے سابق ناظمین کو ساتھ ملانے میں پی ٹی آئی لاہور کے صدر عبدالعلیم خان اور چیئرمین عمران خان کا پلہ بھاری رہا۔ انہوں نے 70 سابق ناظمین کو ساتھ ملایا مگر جوابی طور پر شہبازشریف 9 سابق ناظمین کو ساتھ ملاسکے۔

مزید : تجزیہ