بھارتی چیف جسٹس مودی کے سامنے رو پڑے ،کئی حکومتیں عدلیہ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے میں ناکام رہی:جسٹس ٹی ایس ٹھاکر

بھارتی چیف جسٹس مودی کے سامنے رو پڑے ،کئی حکومتیں عدلیہ میں ججوں کی تعداد ...
بھارتی چیف جسٹس مودی کے سامنے رو پڑے ،کئی حکومتیں عدلیہ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے میں ناکام رہی:جسٹس ٹی ایس ٹھاکر

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ہونے والی تقریب میں ججوں کی کمی کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔

بھارتی ٹی وی چینل‘‘این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکرنے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ بڑی مشکل سے سمجھ پاتے ہیں کہ ہم کتنی مشکل میں کام کرتے ہیں،انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کئی حکومتیں  عدلیہ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہیں ،کیسز کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ججز کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافے کی ضرورت ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کیسوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے لئے صرف جسٹس سسٹم کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا،ججوں کو بے حد دباؤ کے ماحول میں کیسوں پر فیصلہ لینا پڑتا ہے۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کے جج اس بات پر حیران رہ جاتے ہیں کہ کس طرح ہم ججوں کی اتنی کم تعداد کے باوجود اتنے زیادہ کیسسز کو نبٹا لیتے ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ ایک امریکی جج مجموعی طور پر 81کیس نبٹاتا ہے جبکہ بھارت میں ایک جج کو اوسطا 2600کیس سن کر فیصلہ کرنا پڑتا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ کوئی یہ بات نہیں کرتا کہ ججوں نے اتنے زیادہ کیس کس مشکل میں اور کس طرح نبٹائے ؟ججوں کے کام کرنے کی بھی کوئی لمٹ ہوتی ہے ،بھارت میں جج اپنی استعداد سے بہت زیادہ کام کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت سارا الزام عدلیہ پر نہیں ڈال سکتی ،ہمارے پاس مقدمات کا پہاڑ کھڑا ہے ،اورہم اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے بہترین کام کر رہے ہیں ۔اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر سے مل کر عدلیہ کو انصاف کی فراہمی میں درپیش مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت اور عدلیہ کو عوامی سطح پر انصاف کی جلد از جلد اور بے لاگ فراہمی کے لئے مل کر اقدامات کرنے ہوں گے تبھی ہم بھارت میں عوامی خوشحالی کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں ۔

مزید : بین الاقوامی