سکول میں بارشی پانی کھڑا رہنے سے متعدد بچے موذی امراض کا شکار

سکول میں بارشی پانی کھڑا رہنے سے متعدد بچے موذی امراض کا شکار

لاہور(خبرنگار)گورنمنٹ پرائمری سکول تقی پور کی عمارت جو کہ آبادی سے دو سے تین فٹ گہری ہے۔ بارش ہونے پر بارش کا پانی کئی کئی روز تک عمارت کے اندر اور صحن میں کئی کئی روز تک کھڑا رہنے سے متعدد بچے ہیپاٹائٹس ، یرقان، کھانسی ، نزلہ و زکام اور دیگر متعدد بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ گورنمنٹ پرائمری سکول تقی پور میں زیر تعلیم اس سکول کے رجسٹرڈ بچوں کی تعداد 75 بتائی گئی ہے جبکہ اے ای او اور ڈپٹی ڈی ای او سمیت ڈی ای او کینٹ نے اس سکول کی عمارت ناکارہ ہونے کے باوجود بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کے 80 کے قریب بچوں کو ٹھونس رکھا ہے۔ جس سے اس سکول میں اس وقت بچوں کی تعداد 150 جبکہ اس سکول میں ایک ہیڈ ماسٹر اور صرف دو ٹیچر ہیں اور ہیڈ ماسٹر کو دونوں اساتذہ کے ساتھ دن بھر بچوں کو پڑھانا پڑتا ہے۔ سکول کی عمارت کا ایک پورشن سات سال قبل تعمیر کیا گیا۔ تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال کیا گیا جس کے باعث سکول کا تعمیر ہونے والا نیا پورشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر رہ گیا ہے اور بارش کے گندے پانی کے کئی کئی روز تک کھڑے رہنے کے باعث بچے اور اساتذہ میلیریا ، ٹائی فائیڈ، نزلہ، زکام، کھانسی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس حوالے سے سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد جمیل کا کہنا ہے کہ سکول کی تعمیر کے حوالے سے ڈپٹی ڈی ای او اور دیگر حکام کو متعدد بار درخواستیں دے چکا ہوں۔ اس کے باوجود افسران نے نوٹس نہیں لیا ہے جبکہ ڈی ای او کینٹ حسنات احمد نے بتایا کہ سکول کی عمارت کو تعمیر کیا جا رہا ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1