شادمان اتوار بازار میں ناقص اشیاء کی من مانے نرخوں پر فروخت عام ، سیکورٹی بھی ناقص

شادمان اتوار بازار میں ناقص اشیاء کی من مانے نرخوں پر فروخت عام ، سیکورٹی ...

 لاہور(اپنے نمائندے سے)ناقص ،مضر صحت سبزیاں، گھریلو استعمال کی چیزوں پر من مانے ریٹ،ناکافی سکیورٹی انتظامات،شادمان اتوار بازار ضلعی انتظامیہ کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت بن گیا،پرائس کنٹرول مجسٹریٹس چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے میں ناکام ہو گئے ،بد انتظامی ،لوٹ مار ،گراں فروشی،سستے اتوار بازار میں آنے والے شہری مہنگے داموں اشیاء خوردو نوش خریدنے پر مجبور ،روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے جانے واے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے صوبائی دارلحکومت کے علاقہ شادمان میں قائم سستے اتوار بازار کی انتظامیہ عوام اور خریداروں کے لئے وبال جان بن گئی ،منہ مانگی قیمت پر ناقص اور حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف اشیا ء خوردونوش کی فروخت معمول بن گئی ہے ، پرائیس کنٹرول اور اشیاء کی کوالٹی چیک کرنے آنے والے سرکاری اہلکاروں کو بھی بازار میں میں کھلے عام چیکنگ کی اجازت نہ ہے اور خاص نوازشات کے ذریعے ان کو مطمعن کر دیا جاتا ہے ،ایڈمنسٹریٹر ماڈل بازار سرکاری اہلکاروں کو بھی خاطر میں نہ لاتا ہے اور ماڈل بازار کو اپنی جاگیر بنا کر اپنے رشتہ داروں ،دوستوں کو نوازنے کے لئے سٹال اور دکانیں دے رکھیں ہیں ،ماڈل بازار میں آنے والی خواتین کی اکثریت نے کہا ہے کہ یہ ماڈل بازار کم اور سیاسی اکھاڑہ زیادہ لگتاہے ،پنجاب حکومت نے پورے پنجاب میں ماڈل بازار صرف اس لئے قائم کئے ہیں عوام کو سستی اشیاء خوردونوش کی چیزیں آسانی سے دستیاب ہو سکیں لیکن اس ماڈل بازار میں آکر لگتا ہے کہ عوام کو سستے داموں اشیاء خوردونوش مہیاکرنے کا دعوٰی ہمارے حکمرانوں کی سیاسی قلابازی اورسیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے ،ہم خواتین کو ادھر آکر عدم تحفظ کا شدید احساس ہوتا ہے کیونکہ ادھر سب چیزوں کے من مانے ریٹ مقرر ہیں جن پر ریٹ لسٹ بھی آویزاں نہ ہے ،پوچھنے پر بدتمیزی اور انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ،اگر اسی کا نام جمہوریت ہے تو پھر اس سے ڈکٹیٹرشپ ہی اچھی تھی کم از کم خواتین کا عزت اور وقار تھا بحال تھا ،خریدا ر شاہد محمود،قاسم علی،خرم شہزاد،علی وقار نے بتایا کہ اس بازار میں ہر چیز کا اپنی مرضی کا ریٹ کا مقرر کیا گیا ہے ،مہنگائی کم کرنے کا دعوٰی کرنے والے حکمران کبھی ادھر کا بھی وزت کر لیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ عوام کس حال میں ہیں اور ان کو ووٹ دے کر منتخب کرنے کی کیا سزا مل رہی ہے ،اس ماڈل بازار کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی اجارہ داری ہے جس کی بناء پر ادھر دوکاندار بھی اپنے آپ کو ان داتا سمجھتے ہیں اور انتہائی غلط طریقے سے پیش آتے ہیں ،پھلوں ،سبزیوں کا یہ میعار ہے کہ کئی کئی دن کی باسی سبزیاں اور پھل فریج میں رکھ کر دوبارہ انہیں سٹال پر سجا کر فروخت کیا جارہا ہے ان زائد المیعاد سبزیوں اور پھل کھانے سے فوڈ پوازننگ اور دوسری بیماریاں بھی لاحق ہونے کا خدشہ ہے ،کئی بار ایڈمنسٹریٹر بازار سے شکائت کرنے کو گئے ہیں لیکن ہر دفعہ ادھر ایڈمنسٹریٹر کی بجائے اس کے پرائیویٹ غنڈے ہاتھوں میں اسلحہ لئے ملتے ہیں ،جنہوں نے بازار میں اپنی علیحدہ دھونس اور زبردستی قائم کر رکھی ہے ، اصغر علی،خیام حسین،مراتب علی،سید شاہد حسین شاہ اور غلام رسول نے کہا کہ کیونکہ اس ماڈل بازار کا ایڈمنسٹریٹر ہر قانون اور ضابطے سے آزاد ہے اسی کے بل بوتے پر اس کے کارندے بھی ہر قانون ،ٖضابطے اور لحاظ شرم سے آزاد ہیں ،ہم ادھر صرف مجبور ی میں آتے ہیں اور لاوارثوں کی طرح اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کر ساتھ میں مفت کی بے عزتی کروا کر گھر چلے جاتے ہیں ،دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور کی جانب سے گلشن راوی اتوار بازار کی پرائس کنٹرول چیکنگ کے لئے تعینات کئے جانے والا سٹاف اور افسران کو بھی پرائس کنٹرول چیکنگ کی ذمہ داری سے روک دیا گیا ہے ،پرائیویٹ مسلح گارڈز کی جانب سے گراں فروشوں کو تحفظ فراہم کرنا اور مختلف سیاسی امیدواران کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے گراں فروشوں کو قانون و ضوابط سے بری الذمہ قرار دیئے جانے پر زور دیا جا رہا ہے علاقہ کے مقامی شہریوں کی کثیر تعداد اور غنڈہ گردی اور اور چارجنگ اور انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی،ڈی سی او لاہور اور چیئرمین ماڈل بازار پنجاب افضل کھوکھر سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1