شام میں زمینی فوج بھیجنا بہت بڑی غلطی ہو گی: امریکی صدر اوباما

شام میں زمینی فوج بھیجنا بہت بڑی غلطی ہو گی: امریکی صدر اوباما

لندن (این این آئی)امریکی صدر براک اوباما نے شام میں زمینی افواج کی تعیناتی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف فوجی کارروائی سے ملک کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ٗشام کا مسئلہ قومی حدود اور مفادات سے بالاتر ہے ٗ حل بھی ملکی اور قومی حدود سے بلند ہے ٗ بی بی سی سے گفتگو کرتے انہوں نے کہاکہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے (بشارالاسد کی حکومت ختم کرنے کیلئے زمینی افواج کا روانہ کیا جانا بڑی غلطی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ ان کے آخری نو مہینوں کے دور صدرات میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا قلع قمع نہیں ہو سکے گاتاہم انھوں نے کہاکہ ہم لوگ رفتہ رفتہ ایسے ماحول کو کم کرتے جائیں گے جس میں وہ سرگرم ہیں۔تین دن کے برطانوی دورے میں انھوں نے کہا کہ شام کا مسئلہ دل سوز اور انتہائی پیچیدہ ہے۔انھوں نے کہاکہ میرے خیال میں اس کا کوئی آسان حل نہیں شام کے طویل مسئلے کا واحد حل فوج نہیں اور ہماری جانب سے زمینی فوج کی تعیناتی تو بالکل نہیں ہے اور نہ ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکہ کی قیادت والے اتحاد کی جانب سے دولت اسلامیہ کے خلاف رقہ جیسی جگہوں پر حملے جاری رہیں گے اور ملک کے ان حصوں میں انھیں محدود کر دیا جائیگا اور ان حصوں سے رابطے منقطع کر دئیے جائیں گے جہاں سے وہ یورپ میں غیر ملکی جنگجو بھیجتے ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو روس، ایران اور معتدل حزب اختلاف سمیت تمام فریقین پر دباؤ ڈالتے رہنا ہے کہ ساتھ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کریں۔انھوں نے کہا کہ یہ مشکل امر ہے انھوں نے ایسے ممالک کی تنقید کی جن کی پارلیمان نے شام میں کی جانے والی کارروائی کی توثیق نہیں کی ہے اور پھر یہ بھی چاہتے ہیں کہ امریکہ کچھ کرے۔انھوں نے کہاکہ آپ دونوں طرف سے سرخرو نہیں ہو سکتے۔انھوں نے کہا کہ شام کا مسئلہ قومی حدود اور مفادات سے بالاتر ہے اور اس کا حل بھی ملکی اور قومی حدود سے بلند ہے۔

مزید : عالمی منظر