مسئلہ کشمیر کے حل کا روڈ میپ

مسئلہ کشمیر کے حل کا روڈ میپ

چین کی حکومت نے پاکستان اور بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے روڈ میپ تیار کریں۔ چینی حکومت نے چین کے دورے پر گئے ہوئے بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر سے کہا ہے کہ چین کا کوئی بھی فوجی آزاد کشمیر میں نہیں اور چین صرف پاکستان میں ترقیاتی پراجیکٹوں کی تعمیر کے لئے مدد فراہم کر رہا ہے، جو بھارت کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔ بھارت گزشتہ مہینوں میں مسلسل یہ منفی پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے کہ چینی فوجی آزاد کشمیر میں موجود ہیں، حالانکہ چین اِس سلسلے میں پہلے بھی متعدد بار اِس پروپیگنڈے کی تردید کر چکا ہے۔

چین دُنیا کی بڑی سیاسی طاقت، دوسری بڑی معاشی قوت اور خطے کا طاقتور ترین مُلک ہے، چین اور پاکستان دوستی کے اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کی خیر خواہی کے جذبے سے سرشار ہیں، چینی قیادت نے بھارتی وزیر دفاع کو مسئلہ کشمیر کے حل کا روڈ میپ تیار کرنے کا جو مشورہ دیا ہے، بھارت کو وہ محض اِس خیال سے نظر انداز نہیں کر دینا چاہئے کہ چین، پاکستان کا دوست ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو فائدہ پہنچانا ہی ہو سکتا ہے۔ چینی قیادت کا یہ مشورہ بہت بروقت اور تدبر کا ثبوت ہے۔ چین اِس وقت اگر دُنیا کی بڑی معاشی قوت ہے اور تیزی سے آگے بڑھنے کی راہ پر گامزن ہے تو اِس کی وجہ یہ ہے کہ چین کئی عشروں سے جنگ و جدل سے کنارہ کش ہو کر اپنی ساری توجہ معاشی ترقی پر مبذول کئے ہوئے ہے۔ہانگ کانگ تاریخی طور پر ہمیشہ چین کا حصہ رہا ہے، لیکن اپنی سرزمین کا یہ حصہ واپس لینے کے لئے چین نے برطانیہ سے کوئی جنگ نہیں لڑی، نہ اپنے تعلقات خراب کئے، بس اتنا کیا کہ ایسی مدبرانہ پالیسیاں اختیار کیں کہ برطانیہ نے خود ہی اِس خطے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا اور یہ علاقہ پکے ہوئے پھل کی طرح چین کی جھولی میں آ گرا۔

ہانگ کانگ میں انگریزوں کی عملداری کی وجہ سے چین کی نسبت مختلف طرز کا نظام حکومت قائم تھا۔ چین نے اِس خطے کا انتظام سنبھالنے کے بعد اس کے طرزِ حکمرانی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی اور جس نظام کے تحت ہانگ کانگ کے باشندے زندگی گزار رہے تھے اب بھی وہ ایسے ہی نظام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اِسی طرح عوامی جمہوریہ چین کے بانیوں کے چیانگ کائی شیک سے اختلافات تھے اور چین نہ صرف اقوام متحدہ کا رُکن نہیں تھا، بلکہ ایک وسیع مُلک کی نمائندگی چھوٹے سے جزائر فارموسا پر مشتمل چیانگ کائی شیک کی حکومت کر رہی تھی، لیکن چین نے تدبر و حکمت کے ساتھ ہی یہ مسئلہ حل کیا،عالمی ادارے کی رکنیت اور سلامتی کونسل میں ویٹو پاور حاصل کی، اِس سلسلے میں پاکستان کی کوششیں بھی قابلِ تحسین رہی ہیں۔ چین امریکہ تعلقات کے لئے بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اب اگر چین ، پاکستان اور بھارت کو یہ مشورہ دے رہا ہے کہ دونوں مُلک کشمیر کے تنازعے کے حل کا روڈ میپ تیار کریں تو اِس میں یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ جس طرح چین نے اپنے تمام حقوق بغیر کوئی جنگ لڑے حاصل کر لئے ہیں اور اب دُنیا میں بڑی جرأت کے ساتھ قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، اِسی طرح پاکستان اور بھارت کو بھی مسئلہ کشمیر حل کر کے خطے کو ترقی دینے کی راہ پرگامزن ہونا چاہئے۔ یہ مسئلہ پون صدی سے حل طلب ہے تو سود و زیاں کا حساب کر کے دیکھنا چاہئے کہ اس طویل عرصے میں عوام کی زندگیوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور اگر یہ مسئلہ حل ہوگیا ہوتا تو کیا عوام کی زندگیاں مثبت طور پر تبدیل نہ ہوئی ہوتیں؟ کشمیر جنت نظیر وادی ہے جسے بھارت کی افواج نے جہنم زار بنا کر رکھ دیا ہے، لاکھوں فوجی اِس مختصر سے علاقے میں تعینات ہیں، اِس کے باوجود کشمیری عوام اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت آخر کب تک ریاست کے عوام کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ سکتا ہے؟ بھارت اپنے وسائل اگر کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو کچلنے کے لئے صرف کرتا رہے گا تو نتیجہ وہی نکلے گا،جو اب تک نکلتا رہا ہے اور لاکھوں، بلکہ کروڑوں بھارتی عوام پسماندگی اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرے ہوئے ہیں، خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور اگر بھارت نے اپنے وسائل جنگ کی بھٹی میں نہ جھونک رکھے ہوتے تو ان لوگوں کی حالت ضرور بہتر ہوتی۔

چین کے قیام سے لے کر اب تک اس کے معاشرے کی جھلکیوں پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو تدریجاً چینی عوام کی زندگیوں میں انقلاب آیا ہے۔ ایک زمانے میں قیادت کا سارا زور عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر تھا پھر آہستہ آہستہ چینی عوام خوشحالی کا ذائقہ چکھنے لگے اور اب وہاں کے عوام زندگی کی ہر آسائش سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔ چینی قیادت نے اپنے مُلک میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ایسا نظام متعارف کرا دیا ہے جو اگرچہ مغربی جمہوری نظام سے مطابقت تو نہیں رکھتا، لیکن ہر دس سال بعد چینی قیادت بدل جاتی ہے اور جس نئی قیادت نے پرانی قیادت کی جگہ اقتدار سنبھالنا ہوتا ہے وہ پانچ سال تک ’’زیر تربیت‘‘ رہتی ہے اور جب باقاعدہ اقتدار سنبھال کر کاروبارِ حکومت چلانا شروع کر دیتی ہے تو اس کے پاس تجربے کی ایسی دولت ہوتی ہے، جس سے کام لے کر وہ ایک بڑے مُلک کو عزت و وقار کی نئی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔ یوں ہر دس سال بعد چہرے بھی بدل جاتے ہیں، نئی قیادت بھی آ جاتی ہے اور ’’یک جماعتی آمریت‘‘ کا منفی تاثر بھی قائم نہیں ہوتا، اس کے برعکس جن ملکوں نے روایتی کمیونزم کے ساتھ چمٹے رہنا پسند کیا اور اپنے حکومتی نظاموں میں ردوبدل کے لئے تیار نہ ہوئے، وہاں کئی کئی عشروں تک ایک ہی شخص کی حکمرانی کی وجہ سے مُلک کی ترقی جامد ہو کر رہ گئی اور یہ مُلک اقتصادی طور پر آگے نہ بڑھ سکے۔

چین نے پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کا جو مشورہ دیا ہے اس کی روشنی میں دونوں ملکوں کو باہم مل کر اپنے تنازعات حل کر کے آگے بڑھنا چاہئے۔ اگرچہ مذاکرات کا سلسلہ اس وقت معطل ہے تاہم سفارتی نزاکتوں کو سمجھنے والے حلقوں کو یقین ہے کہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا، تاہم اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادتیں مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے اپنی دانش و حکمت کا بھرپور استعمال کریں، کیونکہ ماضی کے تجربات شاہد ہیں کہ اس سلسلے میں جب بھی مذاکرات ہوئے، نتیجہ خیز نہیں رہے۔ چنانچہ دونوں ملکوں کی کشیدگی نہ صرف برقرارہے، بلکہ بعض اوقات نازک صورتِ حال بھی پیدا ہو جاتی ہے، جس کا اثر خطے کے ملکوں کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے، جنہیں غربت، جہالت، بے روز گاری اور پسماندگی کے مسائل نے جکڑ رکھا ہے، یورپی ملکوں کو دیکھا جائے تو بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں نے بھی مزید ترقی کا راز اتحاد میں تلاش کیا اور یہ مُلک اپنے اختلافات کو بھلا کر متحد ہو گئے اب برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کے لئے ریفرنڈم ہو رہا ہے، تو امریکہ کے صدر اوباما نے برطانیہ کو مشورہ دیا ہے کہ اس نے یورپی یونین کی وجہ سے ترقی کی ہے اِس لئے وہ یونین سے علیحدگی کا فیصلہ نہ کرے۔ دُنیا کی سوچ بدل رہی ہے تو پاکستان اور بھارت کے عوام کو بھی اپنی روایتی سوچ کے دائرے سے باہر نکل کر فیصلے کرنا ہوں گے اور چینی قیادت کے مشورے پر کان دھرنا ہو گا۔

مزید : اداریہ