شاہو ٹیرر کاانجام

شاہو ٹیرر کاانجام

[چھوٹو گینگ کی طرح شاہو ٹیرر بھی ایک کردار ہے۔ بچوں کے لئے لکھی گئی تازہ مطبوعہ کتاب ’’انعامی لیپ ٹاپ ‘‘میں سے ایک مضمون جسے بڑے بھی پڑھ سکتے ہیں۔]

شاہو کے جرائم حد سے زیادہ تھے۔ وہ تاوان برائے اغوا کا مجرم بھی تھا۔ وہ معصوم بچوں کو بھی اغوا کرتا اور پھر اکثر کی لاشیں ہی کسی ویرانے سے ملتیں۔ کسی معاشرے کی بد قسمتی اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ اس میں اس قسم کے جرائم جڑ پکڑ لیں اور مجرموں کو قانون کے مطابق سزا ہی نہ ملے۔ تمام والدین خوف زدہ اور پریشان رہتے تھے، جب تک ان کے بچّے سکول سے یا کھیل کود کے میدان سے واپس بخیریت گھر نہ پہنچ جاتے۔ شاہو حد سے زیادہ بے شرم واقع ہوا تھا۔ وہ ڈینگیں مارتا اور کہتا: ’’میری ماں کو کیا علم ہے کہ بابا شاہ نواز کو صرف چند دیہات ہی کے لوگ جانتے تھے، مجھے ساری دنیا جانتی ہے۔ بابے کے جنازے کو لوگ بڑا اور شان دار جنازہ کہتے تھے، دنیا دیکھے گی جب میرا جنازہ اٹھے گا تو سب کو پہلے کے سارے جنازے بھول جائیں گے‘‘ ۔۔۔ یہ بدبخت نہیں جانتا تھا کہ ماں باپ کی بد دعا کس قدر موثر ہوتی ہے۔ اللہ کے نبیؐ نے اسی لئے تو فرمایا تھا کہ کبھی چھوٹی موٹی باتوں پر ناراض ہو کر والدین بچوں کو بددعا دے ڈالتے ہیں، اس سے ان کو پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ بددعائیں قبول بھی ہو جاتی ہیں۔ شاہو کی ماں بے چاری تو کسی معمولی غلطی پر نہیں، بلکہ اس کے تمام حدیں پھلانگ جانے پر یہ بددعا دیتی ۔

شاہو قتل، ڈکیتی، اغوابرائے تاوان اور ناجائز اسلحے کے کئی کیسوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔ پولیس نے کئی بار ناکے لگائے اور پانچ چھ بار پولیس مقابلے بھی ہوئے، مگر شاہو بچ جاتا رہا۔ اس کے کئی مجرم ساتھی ان مقابلوں میں مارے گئے، جبکہ کئی ایک زخمی حالت میں گرفتار بھی ہوئے جو جیلوں میں پڑے تھے۔ ان مقابلوں میں بہت سے پولیس اہل کاروں کو بھی جانیں قربان کرناپڑیں۔ جب بھی کوئی پولیس مقابلہ ہوتا تو عوام، بالخصوص جن لوگوں کے بچے اغوا ہوئے اور موت کے گھاٹ اتارے گئے تھے،شاہو کو بدعائیں دیتے۔ یا جن کے گھروں پر ڈاکے پڑے اور ان کا جانی و مالی نقصان ہوا ، وہ بھی دعائیں کرتے کہ اللہ کرے یہ ظالم درندہ، شاہو مارا جائے۔ اللہ کے ہاں ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ جب وہ لمحہ آجائے تو پھر اللہ کا حکم نافذ ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ ایک دن پولیس کو معلوم ہوا کہ شاہو گینگ نے ایک بچہ اغوا کیا ہے اور وہ تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جس موبائل سے فون آیا تھا، اس کے مقام کو جدید آلات سے ٹریس کیا گیا تو ایک جنگل کا اتا پتا معلوم ہوا جو دریا کے کنارے دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اس جنگل میں ان مجرموں نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے تھے۔ لوگ دن کے وقت بھی اس جنگل کے پاس سے گزرتے ہوئے ڈرتے تھے۔ اس عرصے میں ایک نیک نام اور بہادر پولیس انسپکٹر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اس خون خوار بھیڑیے کو ٹھکانے لگائے۔ اس سے قبل اللہ نے اسے کئی معرکوں میں ڈاکوؤں پر قابو پانے میں کامیابی عطا کی تھی۔ اتفاق سے پولیس افسر کا نام بھی شاہ نواز تھا۔

پولیس میں بھی بہت زیادہ بدعنوانی اور رشوت ستانی تھی ،مگر کچھ پولیس افسر نیک اور دیانت دار بھی تھے۔ پولیس کپتان مختار احمد جو سارے کام کا نگران تھا، ایک نیک دل ،حد سے زیادہ دیانت دار اور بہادر افسر تھا۔ کپتان صاحب نے انسپکٹر اور اس کے ساتھیوں کو اس مہم پر روانہ کرتے وقت اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ خود اس کارِ خیر میں شریک ہوگا۔مگر وزیراعلیٰ نے دیگر پولیس افسروں کے ساتھ اسے بھی ایک اجلاس میں شرکت کے لئے حاضری کا حکم دیا۔ اس لئے یہ مہم انسپکٹر شاہ نواز کی سربراہی میں بھیجی گئی ۔ شاہ نواز نے کپتان صاحب سے کہا : ’’جناب چودھری صاحب، آپ ہمارے لئے دعا کریں، مجھے اللہ کی رحمت سے یقین ہے کہ ان شاء اللہ ہم آپ کو کل صبح تک کوئی خوشخبری ضرور سنائیں گے‘‘۔۔۔چودھری مختار نے اپنے ساتھیوں کو دعاؤں کے ساتھ اس مہم پر روانہ کیا ،مگر اس نیک افسر نے اس کے ساتھ ان سب سے یہ بھی کہا کہ پہلے تمام لوگ وضو کرکے دو رکعت نفل ادا کریں۔ نفل پڑھ چکے تو کپتان صاحب نے کہا: ’’آؤ ہم سب اللہ سے گڑ گڑا کر دعا کریں کہ ظالم کا خاتمہ ہوسکے اور مظلوم بچہ بخیریت اپنے گھر پہنچ جائے‘‘۔۔۔ چنانچہ نوافل اور دعا کے بعد یہ پولیس نفری اپنی مہم پر روانہ ہوئی۔

آٹھ بجے شب کے قریب اس جنگل کے آس پاس پولیس نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ اتفاق سے پولیس انسپکٹر شاہ نواز کو کسی ذریعے سے معلوم ہوا کہ گینگ اغوا شدہ بچے کے ساتھ فلاں راستے پر آرہا ہے اور گھنے جنگل میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ انسپکٹر بہادر بھی تھا اور نیک دل بھی۔ اس نے اللہ سے ایک بار پھر دعا کی اور اپنے نوجوانوں کو بھی نصیحت کی کہ ایک بے گناہ اور معصوم بچے کی جان بچانے کے لئے سر ہتھیلی پر رکھ لیں اور درود شریف کا ورد بھی کریں۔ رات کے دس بجے پانچ بدمعاشوں کا یہ گینگ شاہو کی قیادت میں اس مقام پر آپہنچا جہاں سے وہ پولیس کی زد میں تھا۔ پولیس انسپکٹر نے بسم اللہ پڑھ کر پہلی گولی چلائی جو شاہو کی دائیں ٹانگ میں لگی۔ اب دونوں جانب سے اندھا دھند گولیاں چلنے لگیں۔ تین ڈاکو تو موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ پولیس کا صرف ایک سپاہی معمولی زخمی ہوا۔ شاہو اور اس کا ایک ساتھی نتھو کانا زخمی حالت میں بھاگے۔ لڑکا بڑا سمجھ دار تھا، اس نے دیکھا کہ اب بدمعاش تقریباً بے بس ہیں تو اس نے دوڑ لگا دی اور جھاڑیوں میں چھپتا ہوا پولیس کی جانب بھاگا۔ جب اس نے محسوس کیا کہ وہ ڈاکوؤں سے محفوظ ہوگیا ہے تو پکار کر کہا: ’’پولیس والو! میں نسیم ہوں جسے اغوا کیا گیا تھا‘‘۔۔۔ پولیس نے فائر روک دیا اور نسیم کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔ نسیم نے بتایا کہ تین ڈاکو ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ شاہو اور ایک ڈاکو شدید زخمی ہیں اور ان کا بچ نکلنا بھی مشکل ہے۔

اگلے روز پولیس نے اغوا شدہ بچہ نسیم اس کے والدین کے سپرد کیا ،مگر ابھی انہیں شاہو اور اس کے ساتھی نتھو کی تلاش کے لئے جنگل کے اندر مزید آپریشن کرنا تھا۔ زخمی سپاہی کو تو رات ہی ہسپتال بھیج دیا گیا تھا۔ اگلی صبح پولیس کپتان چودھری مختار بھی موقع پر پہنچ گئے۔ ان کی ہدایت پر پولیس نے جنگل میں مزید آپریشن کیا تو نتھو کی لاش جھاڑیوں سے مل گئی، جبکہ شاہو کا کافی تلاش کے باوجود اتا پتا نہ چلا۔ اب یہ بات تو یقینی تھی کہ شاہو اکیلا رہ گیا ہے۔ پولیس نے سرِدست واپسی کا فیصلہ کیا، مگر اس جنگل کے گردونواح میں کچھ بہادر پولیس اہل کاروں کی سفید کپڑوں میں ذمہ داری لگا دی گئی کہ وہ شاہو کی تلاش جاری رکھیں۔ ایک ہفتے بعد لوگوں نے دیکھا کہ گھنے جنگل کے اوپر گدھ اڑ رہے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گدھ کسی مردار پر آئے ہیں یا مردار کو کھا کر واپس جارہے ہیں۔ ان کی سیدھ میں جنگل کی چھان بین ہوئی تو ایک جگہ چند ہڈیاں پڑی تھیں۔ جنگلی درندے اور گدھ شاہو ٹیرر کی بوٹی بوٹی نوچ کر کھاگئے تھے۔ ظالم کے بازو کا وہ حصہ جس پر اس نے شاہو ٹیرر گدوایا تھا وہاں موجود پایا گیا۔ یہ بھی محض چمڑی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی تیز دھار آلے سے اس کو جسم سے الگ کرکے اتارا گیا ہو۔ اس کا نام اتنا مکروہ تھا کہ درندوں کو بھی اس سے گھن آئی اور یہ چمڑاا نھوں نے چھوڑ دیا۔ وہ ڈینگیں مارتا تھا کہ اتنا بڑا جنازہ ہوگا کہ لوگ یاد کریں گے۔ بچو! دیکھو کتنا عبرت کا مقام ہے کہ گویا وہ کتے سے بھی بدتر موت مرا۔ اللہ کی نافرمانی، خلق خدا کو اذیت پہنچانا اور والدین کو ناراض کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی معافی نہ دنیا میں ہے، نہ آخرت میں۔ نہ قبر نہ جنازہ نہ کفن، یہ تھا ظالم کا انجام! اللہ ایسے برے کردار اور اس طرح کے برے انجام سے سب کو محفوظ رکھے!۔۔۔بچو! ہمیں اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ بچپن ہی میں اچھی عادتیں اپنالینی چاہئیں، نیک کام کرنے چاہئیں، والدین اور بزرگوں کی کبھی بے ادبی اور نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ نیکی کا راستہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی کی راہ تباہی و بربادی کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے۔

مزید : کالم