کرپشن، احتساب اور اسامہ بن لادن؟

کرپشن، احتساب اور اسامہ بن لادن؟
کرپشن، احتساب اور اسامہ بن لادن؟

  

سرخی میں جو شُترگُربہ ہے وہ پورا کالم پڑھنے کے بعد نہیں رہے گا۔ خبر ہے ’’آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے اپنے ہی ادارے سے احتساب کا آغاز کر دیا۔ جنرل راحیل شریف نے تاریخ رقم کرتے ہوئے، بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر ایک لیفٹیننٹ جنرل، ایک میجر جنرل، پانچ بریگیڈیئرز، ایک کرنل ،تین لیفٹیننٹ کرنلز اور ایک میجر سمیت تیرہ افسران اور ایک فوجی جوان کو برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ برطرف ہونے والوں کو صرف پنشن اور میڈیکل کی سہولت میسر رہے گی‘‘۔ غالباً ایک میجر جنرل (ر) خالد ظہیر کی پنشن اور میڈیکل سہولیات بھی ختم کر دی گئی تھیں۔

جنرل راحیل شریف کو تاریخ رقم کرنے پر میں بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں، لیکن میرا دل نہیں مانتا کہ ان مذکورہ افسران کو ان کے کئے کی سزا دی گئی ہے۔ میں نے ایک گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ اب کرپشن کرنے والے پہلے سے حساب کتاب جوڑ کر کرپشن کرتے ہیں، تاکہ بطور سزا بغیر پنشن اور طبی سہولیات کے بھی برطرف ہوں تو نقصان میں نہ رہیں اور جن افسروں کو پنشن بھی ملتی رہے اور میڈیکل کی سہولتیں بھی میسر ہوں، ان کا برطرف ہونے سے کیا بگڑا؟ جس ایک میجر جنرل کو بغیر پنشن برطرف کیا گیا ہے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ وہ گھاٹے میں نہیں رہا ہو گا اور میڈیکل سہولیات تو اس کی کوئی بند ہی نہیں کر سکتا۔ آئین توڑنے کے مجرم کو جو عسکری ادارہ امراض قلب کئی دنوں تک پناہ دیئے رکھتا ہے۔ وہ ایک برطرف میجر جنرل کو بھی طبی سہولتیں فراہم کرتا رہے گا تو اس سے کون باز پُرس کر سکے گا؟

میں یہ بات محض کسی وسوسے یا مفروضے پر نہیں کہہ رہا ہوں۔ خبر ہے۔ ’’لیفٹیننٹ جنرل (ر) زاہد علی اکبر جو راولپنڈی کے کورکمانڈر اور 1987ء سے 1992ء تک واپڈا کے چیئرمین رہے تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ ان پر ان کی استطاعت سے بڑھ کر اثاثے رکھنے کی بنا پر کرپشن کے الزامات تھے۔ اب انہوں نے نیب کے سامنے اقبال جرم کرتے ہوئے دو سو ملین روپے قومی خزانے میں جمع کرا دیئے ہیں‘‘۔ خبر کی تفصیل یوں ہے کہ جنرل موصوف کو انٹرپول کے ذریعے بوسنیا سے گرفتار کیا گیا، لیکن موصوف چونکہ برطانیہ کی شہریت حاصل کر چکے ہیں اور برطانیہ پاکستان کے تمام مجرموں کو کھلی باہوں سے خوش آمدید کہتا اور شہریت بطور انعام دیتا ہے۔اس لئے جنرل صاحب کو برطانیہ بھیج دینا پڑا۔ تفصیل میں یہ بھی ذکر ہے کہ یہ دو سو ملین روپے وہ رقم ہے جو ان کے نام بیرون ملک بینکوں میں جمع تھے یا ان کے قریبی عزیزوں کے نام پر تھے۔ اس خبر کا ذریعہ نیب ہے اور نیب نے اس پر فخریہ انداز میں کہا ہے کہ نیب نے ریٹائرد جرنیلوں اور ججوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا تاثر غلط ثابت کر دیا ہے۔ جنرل (ر) زاہد علی اکبر کی عمر اس وقت اکیانوے برس ہے اور نیب کے مطابق انہوں نے نیب سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ زندگی کے بقیہ دن پاکستان میں گزارنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے انہیں اس وطن کی مٹی سے محبت تو ہوگی جہاں سے وہ اربوں روپے لوٹ کر لے گئے تھے اور اس وطن کے ذمہ داروں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اب انہوں نے اپنی مرضی سے دو سو ملین روپے قومی خزانے میں جمع کرا کر اس وطن کی مٹی پر مزید احسان کر دیا ہے۔ اب ان کا حق بنتا ہے کہ وہ اس وطن کی مٹی میں دفن ہو کر حب وطن کا ثبوت دیں۔ نیب کی جاری کردہ اس خبر میں کہیں ذکر نہیں ہے کہ ان پر کتنی کرپشن کے الزامات تھے۔ وہ پچیس چھبیس سال تک اس رقم سے عیاشی کرتے رہے، دولت سے مزید دولت پیدا کرتے رہے اور اب جو کچھ واپس کر رہے ہیں، وہ اصل زر کا کتنے فیصد ہے اور اس کا کل منافع کیا اتنا ہی ہے؟ مجھ جیسے کچھ لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ نیب کی ’’پلی بارگین‘‘ سزا تو کیا سرے سے احتساب ہی نہیں یہ تو بلیک منی کو وائٹ کرنے کا ڈٹرجینٹ ہے۔ تو کیا یہ سوچ غلط ہے؟

جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف جب مقدمات کی سماعت شروع ہوئی اور ان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات آئیں تو ان کے ممالک غیر میں کئی اکاؤنٹوں کے بارے میں خبریں آئیں۔ نہ میڈیا کو کوئی بخار چڑھا نہ ’’نیب‘‘ نے جھرجھری لی۔ کیا کسی نے یہ حساب لگایا کہ امریکہ میں انہوں نے کتنے لیکچر دیئے اور ہر ایک سے کتنے پیسے ملے اور اکاؤنٹس میں پڑے ہوئے پیسے کتنے ہیں۔ اپنی کتاب میں انہوں نے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے کے عوض جن ڈالروں کی کمائی کا ذکر کیا ہے کیا وہ جائز کمائی تھی؟ اب ایک ذرا دیر کے لئے مالیاتی کرپشن کو بھول جائیے اور ایک اور طرح کی کرپشن کا بھی جائزہ لے لیں۔ مشہور و معروف امریکی صحافی سیمورہرش کی کتاب طبع ہو کر آ گئی ہے "The killing of Osama Bin Laden" کے بارے میں سیمور ہرش سے ایک اور امریکی صحافی کین کلپنسٹائین نے گفتگو کی ہے۔ ہرش کا دعویٰ ہے کہ بعض اہم اور بڑے معاملات کے بارے میں سرکاری طورپر دیئے گئے تاثر کی اس نے تصحیح کی ہے۔وہ کہتا ہے کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ اسامہ بن لادن کے پاکستان میں قیام کے بارے میں حکومتِ پاکستان بے خبر تھی۔ سعودی عرب کی حکومت پاکستانیوں کو خاموش رہنے کے لئے رشوت (یہ ہرش کے الفاظ ہیں) دیتی رہی، کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بن لادن سے تفتیش ہو۔(ہرش نے اسے اپنا بہترین اندازہ قرار دیا ہے)۔ اس کا کہنا ہے کہ میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ ہم نائن الیون کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہمیں کچھ علم نہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ کس نے کیا کردار ادا کیا تھا۔(ہرش کو ان پاکستانی صحافیوں کا نقطہ ء نظر تسلیم کر لینا چاہیے جو امریکی حکومت کے بتائے واقعات اور ذمہ داران کو حرف بحرف صحیح تسلیم کرتے ہیں اور انہیں صحیح تسلیم نہ کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں) سوال کیا گیا، رقوم سعودی حکومت دے رہی تھی یا پرائیویٹ ذرائع سے آ رہی تھیں۔ ہرش کہتا ہے کہ یہ سرکاری سطح پر ہو رہا تھا۔ مجھے معتبر ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ (ہرش کہتا ہے ،حالانکہ میں نے اسے کتاب میں نہیں لکھا) کہ پاکستانیوں کو تیل کے ٹینکر ’’ری سیل‘‘ کرنے کے لئے دیئے جاتے تھے اور یہ بہت بڑی رقم بنتی تھی۔ سوال کیا گیا سعودی عرب نے کتنی رقم ادا کی ہوگی۔ ہرش کا جواب تھا مجھے کچھ اعدادوشمار بتائے گئے تھے، لیکن میں ان کی تصدیق نہیں کر سکا، لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ یہ بہت بڑی رقم ہوگی، کیونکہ اس لین دین کا معاملہ چارپانچ سال پر محیط تھا، تاہم میں اس سلسلے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں دے سکتا۔

آپ نے ایک سابق (ریٹائرڈ) امریکی افسر کا حوالہ دیا ہے کہ بن لادن کا قتل واضح اور مکمل طور پر منصوبہ بندی کے تحت ایک ’’قتل‘‘ تھا۔آپ نے ایک سابق ’’سیل‘‘ کمانڈر کا بھی حوالہ دیا ہے، جس کے مطابق اس کا کہنا تھا کہ ’’قانون کے مطابق ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ پاکستان کے اندر ہم ایک قتل کا ارتکاب کرنے جا رہے ہیں‘‘۔ آپ (ہرش) کا کیا خیال ہے کہ بن لادن کو قانونی طریق کار سے محروم رکھا گیا؟ ہرش (ہنستے ہوئے) وہ جنگی قیدی تھا (یعنی اسامہ بن لادن سے جنگی قیدیوں کے قانون کے تحت سلوک ہونا چاہیے تھا) اور جن ’’سیلز‘‘ نے یہ مشن انجام دیا، انہیں اس پر ذرا بھی فخر نہیں تھا۔ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ یہ سیلز کیا سوچتے تھے اور انہیں بتایا کیا گیا تھا۔ وہ اس بات پر خوش نہیں تھے کہ وہ وہاں گئے اور ان کا ہدف ان کا نشانہ بننے کے لئے تیار تھا۔ دیکھو یہ بات نہیں کہ انہوں (سیلز) نے پہلے کبھی ایسا کیا نہیں تھا ہم (امریکہ) ٹارگٹ قتل کرتے رہے ہیں۔ یہی ہم کرتے آئے ہیں اور سیلز یہ سمجھتے تھے کہ اگر پاکستانی پولیس کے ہاتھ چڑھ گئے تو ان پر قتل کا مقدمہ ہی بنے گا، وہ اچھی طرح اس بات کو سمجھتے تھے۔ پاکستانی ہائی کمانڈ نے کہہ دیا تھا کہ جاؤ اسے قتل کر دو، لیکن خدا کے لئے اس کی لاش یہیں مت چھوڑنا، گرفتار بھی نہ کرنا، ہفتہ بھر بعد اعلان کر دیا کہ اسے کوہ ہندوکش میں نشانہ بنایا گیا۔ گویا یہ ایک منصوبہ تھا۔ پاکستان میں متعدد حلقے اسامہ بن لادن کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔ بالخصوص اردو بولنے والے، اگر انہیں یہ یقین ہو جاتا کہ حکومت پاکستان نے اسامہ کے قتل میں تعاون کیا ہے تو حکومت کو مشکلات پیش آ سکتی تھیں۔

کین کلپنسٹائین نے ایک اور سوال کیا۔ جب اوباما نے پاکستانی حکومت کے تعاون کا بھانڈا پھوڑ دیا تو تعلقات میں کوئی ترشی نہیں آئی؟ ہرش: ہم نے (امریکہ نے) پاکستانی جرنیلوں پاشا اور کیانی کے ساتھ بہت وقت گزارا ہے۔ ہم (امریکہ) پاکستان کے بارے میں تشویش میں مبتلا رہتے ہیں، کیونکہ پاکستان کے پاس سویا اس سے زیادہ جوہری بم ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی جو کچھ جانتے ہوں گے ، وہ ہمارے ساتھ شیئر کریں گے اور وہ ہم سے کچھ نہیں چھپائیں گے، لیکن حقیقت میں ہم سب کچھ نہیں جانتے اور نہ وہ ہمیں سب کچھ بتاتے ہیں۔ اس لئے اوباما نے جو کچھ کہا وہ اسی شیطانی کا ردعمل تھا۔ ہرش نے ایک اور سوال اٹھایاجو اکثر مجھے بھی پریشان کرتا تھا، لیکن مجھے معلوم نہیں کہ پاکستان میں میڈیا کے کسی عنصر نے یہ سوال اٹھایا ہو۔ہرش کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کے بیوی بچے بھی وہیں تھے، لیکن ہم نے ان تک رسائی کی کوئی کوشش نہیں کی اور ذرا سوچیں ہم نے اور کیا کیا نہیں کیا۔ اسامہ کی بیویوں سے کوئی تفتیش نہیں ہوئی، بس انہیں جانے دیا گیا۔ اگر ان سے بات کی جاتی تو وہ بہت کچھ جانتی تھیں، اگر وہ بولتیں ،لیکن ایسا نہیں ہوا۔

میں سیمور ہرش کو فرشتہ سمجھتا ہوں نہ عالم بالا کی خبریں لانے والا خیال کرتا ہوں وہ ایک انسان بھی ہے اور امریکی بھی ۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ تعصبات سے کس قدر پاک ہے، تاہم ویت نام میں ’’مائی لائی‘‘ کے قتل عام کے بارے میں اس نے انکشافات کئے تھے اور ابو غریب کی جیل میں قیدیوں پر تشدد کی کہانی بھی اسی نے بیان کی تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو نائن الیون کے بارے میں بھی سرکاری موقف کو من و عن تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ میں اپنے قارئین سے گزارش کروں گا کہ وہ کسی مسلمان کے کسی عمل کو اسلام سے منسوب نہ کریں، کسی پاکستانی کی خرابی کو پاکستان کی خرابی نہ جانیں۔ حکومت اور ریاست میں جو فرق ہے، اسے بھی مدنظر رکھیں اور جرنیل اور فوج میں بھی جو فرق ہے، اسے بھی ملحوظ رکھیں۔ کچھ یا کسی جرنیل کے کرپٹ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ فوج کرپٹ ہے۔

مزید : کالم