چلتی دکان کون بند کرتا ہے

چلتی دکان کون بند کرتا ہے
چلتی دکان کون بند کرتا ہے

  

مجھے کوئی اور ملک بتائیں جو ہماری طرح کولہو کے بیل کی مانند ایک ہی مدار میں گھوم رہا ہو؟ ایسے معاملات میں بھی ایک ہی دائرے کے گرد محو رقص ہو، جو ایک سے زائد بار پیش آ چکے ہیں۔ چیونٹیاں بھی ایک بار کے خطرے کو بھانپ کر راستہ بدل لیتی ہیں۔ ہم نے بار بار نقصان اٹھانے اور خطرات سے گزرنے کے باوجود نہ کوئی سبق سیکھا ہے اور نہ روش بدلی ہے۔ اب پھر احتجاجی سیاست شروع ہونے جا رہی ہے اور اس کے جواب میں وزیر اعظم نوازشریف نے بھی عوامی جلسے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ گویا معمول کے سارے کام معطل ہو کر رہ جائیں گے۔ عوام جو ہر بار یہ امید لگا لیتے ہیں کہ اب ان کی باری آئے گی اور ان کی سنی جائے گی وہ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ سرکاری مشینری میں اتنا جذبہ ہے اور نہ دم خم کہ سیاست کی اس گرم بازاری کے باوجود عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے، اس کی تو احتجاجی سیاست کے دنوں میں عیش ہو جاتی ہے، پانچوں اُنگلیاں گھی میں چلی جاتی ہیں حکمرانوں کو اپنی پڑی ہوتی ہے اور اپوزیشن جلسے جلوسوں میں لگ جاتی ہے، کسی کو کچھ خبر نہیں ہوتی کہ خلقِ خدا پر کیا عذاب نازل ہو رہا ہے یا سرکاری دفاتر میں کس قدر رشوت و بدعنوانی کا بازار گرم ہو چکا ہے۔

پاکستان میں یہ آج کا نہیں ہمیشہ ہی کا معاملہ ہے کہ اسمبلیاں موجود ہوتی ہیں، مگر فیصلے اور مطالبے سڑکوں پر کئے جاتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نوازشریف تک کوئی بھی منتخب وزیر اعظم صورتِ حال کو پارلیمینٹ تک محدود نہیں رکھ سکا۔ پارلیمینٹ ہمیشہ ایک غیر متعلقہ فورم بن کر رہ جاتی ہے اور سب کچھ سڑکوں اور عوامی مقامات پر زیادہ سے زیادہ عددی طاقت دکھانے میں سمٹ کر رہ جاتا ہے۔ یہ روایت نجانے کب پڑے گی کہ سیاسی معاملات کو اسمبلیوں کے فورم پر حل کرنے کی کوشش کی جائے، وہاں حل نہ ہوں تو سڑکوں پر احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے۔ خود حکومتوں کے رویے بھی اس سلسلے میں پارلیمینٹ کو غیر متعلقہ فورم بناتے رہے ہیں۔ اب زمانہ حال کی صورتِ حال کو ہی لیجئے۔ پانامہ لیکس کے مسئلے پر برطانوی وزیر اعظم نے اپنی صفائی کے لئے پارلیمینٹ کو منتخب کیا، لیکن ہمارے وزیر اعظم نے ٹی وی کے ذریعے خطاب کا راستہ مناسب جانا، اگر نوازشریف بھی پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر وہاں اپنی صفائی دیتے تو آج شاید یہ صورتِ حال نہ ہوتی۔

اب بھی انہوں نے عوامی جلسوں کے ذریعے اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے، حالانکہ سیاسی پنڈت بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ جو اقتدار میں ہوتا ہے، اسے عوامی طاقت کو اسمبلی کے اندر ثابت کرنا چاہئے، باہر کی عوامی طاقت حکومتی وسائل اور مشینری کی مرہون منت سمجھی جاتی ہے۔ ویسے بھی اپوزیشن کی تو مرضی و منشا ہی یہ ہوتی ہے کہ ملک میں سیاسی سطح پر ہلچل مچی رہے، کیونکہ اس طرح اس کا وجود برقرار رہتا ہے۔ حکومت کی تو ساری توجہ سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے پر مرکوز ہونی چاہئے۔ نجانے وزیر اعظم کی ٹیم نے انہیں یہ مشورہ کیوں دیا ہے کہ وہ اپنے جلسوں کے ذریعے ملک میں انتخابات کا ماحول پیدا کر دیں۔ اس کی بجائے مناسب تو یہ تھا کہ وزیر اعظم زیادہ سے زیادہ ایسے منصوبے اور شارٹ ٹرم پالیسیاں متعارف کراتے جن سے عوام کو فوری ریلیف ملتا۔ خاص طور پر معاشی سطح پر عوام کو ریلیف کی اشد ضرورت ہے۔ گرمی کے موسم میں لوڈشیڈنگ اذیت ناک ہو چکی ہے، اس میں فوری کمی لا کر عوام کے دل جیتے جا سکتے ہیں، اسی طرح ہسپتالوں، تھانوں اور دفاتر میں گورننس کو بہتر بنا کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں تو وہ اپوزیشن کے دباؤ کو کم کرنے میں کہیں زیادہ سود مند ثابت ہوں گی۔

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جب دینی جماعتوں کی تحریک عروج پر تھی تو انہوں نے اس کا توڑ کرنے کے لئے عوامی جلسوں کی راہ اختیار نہیں کی تھی، بلکہ ایسے فیصلے کئے تھے جن کے گہرے اثرات مرتب ہوئے تھے۔جن کا اثر یہ ہوا کہ وہ اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہے اور ان کے اپوزیشن سے تمام معاملات طے پا چکے تھے کہ جنرل ضیاء الحق نے شب خون مار کر ان کی حکومت ختم کر دی قابل غور نکتہ یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف اپنی دو دو مرتبہ کی حکومتیں بھی اسی لئے گنواتے رہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے عوامی طاقت کے مظاہرے کرنے کی راہ اختیار کی، جس سے افراتفری پھیلی اور ملک کا نظم و نسق چلانا دشوار ہو گیا۔ اپوزیشن کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ حکومتِ وقت کو ایوانِ اقتدار سے گھسیٹ کر عوامی پنڈال میں لانا چاہتی ہے جو حکومتیں یہ غلطی کرتی ہیں اور اپوزیشن کے بچھائے ہوئے جال میں آ جاتی ہیں، وہ اس دلیل کو کھو بیٹھتی ہیں کہ انہیں پارلیمینٹ میں اکثریت حاصل ہے، کیونکہ پارلیمینٹ کی اکثریت کو تو وہ خود عوامی جلسوں کے ذریعے ایک غیر متعلقہ چیز بنا دیتی ہیں۔

مَیں ایک غیر جانبدار مبصر کے طور پر یہ بھی سوچتا ہوں کہ حکومتی وزراء اور ارکانِ اسمبلی عمران خان کا تمسخر اڑانے کی جو راہ اپنائے ہوئے ہیں، کیا اس کا حکومت کو کوئی فائدہ بھی ہے۔؟ کیا پرویز رشید، رانا ثناء اللہ، طلال چودھری، دانیال عزیز یا سعد رفیق عمران خان پر تضحیک آمیز اور تمسخرانہ جملے کس کر حکومت کے لئے کوئی بہتر کام کر رہے ہیں؟ کوئی مجھ سے پوچھے تو مَیں نہ صرف اس کا جواب نفی میں دوں گا، بلکہ یہ کہوں گا کہ اس سے اُلٹا عمران خان کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اپوزیشن کی طرف سے حکومت پر کوئی الزام لگایا جاتا ہے تو بہترین راستہ یہی ہے کہ اس الزام کا مثبت جواب دیا جائے۔ الزام لگانے والے کو مسخرہ ثابت کرنے سے بات نہیں بنتی۔ مثلاً اگر وزراء یہی موقف اپنا لیں کہ عمران خان سڑکوں پر دھرنے دینے اور جلسے کرنے کی بجائے اسمبلی کے اندر جو پوچھنا چاہتے ہیں پوچھیں ہم اس کا جواب دیں گے اور اس مؤقف پر رائے عامہ ہموار کریں اور خود وزیر اعظم بھی گاہے بہ گاہے اسمبلی میں آتے رہیں تو سڑکوں کی سیاست ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائے گی، کیونکہ پھر عمران خان سمیت اپوزیشن کے ہر رہنما پر یہ دباؤ بڑھے گا کہ وہ سڑیٹ پالیٹکس کی بجائے پارلیمینٹ کی سیاست کریں۔ اگر خود حکومت ہی یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے اسمبلی کی بجائے جلسوں میں اپوزیشن کا مقابلہ کرنا ہے تو پھر اس سیاسی افراتفری کو کون روکے گا جو دونوں طرف کے جلسوں اور جواب الجواب انتظامات سے پھیلے گی؟

میری رائے میں حکومت کے لئے موجودہ بھنور سے نکلنے کا سب سے محفوظ راستہ یہی ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کو بھیجے گئے ریفرنس کو متفقہ بنانے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنا دے، جو پانامہ لیکس کے الزامات کا جائزہ لینے کے لئے ٹی او آرز تیار کرے۔ فی الوقت اپوزیشن کی تقریباً سبھی جماعتوں نے ان ٹی او آرز کو رد کر دیا ہے، جو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو وزارتِ قانون کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ حکومت پارلیمانی کمیٹی میں اپنے بہتر اور سیاسی و قانونی حوالے سے مضبوط ممبران کو نامزد کر کے ممکن ہے اسی قسم کا ریفرنس متفقہ طور پر بنانے میں کامیاب رہے، جو اب یکطرفہ طور پر بھیجا گیا ہے۔ اس راستے کو اپنا کر ایک طرف تو حکومت فوری طور پر اپنے خلاف بننے والی فضا کو کمزور کر سکے گی اور دوسری طرف یہ معاملہ فوری نوعیت کا نہیں رہے گا، مگر سوال یہ ہے کہ نوازشریف کو مقبولیت کا عوامی راستہ دکھانے والے کیا انہیں یہ راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیں گے؟ میرا خیال ہے نہیں، کیونکہ کاری گروں کو اپنی فنکاری دکھانے سے غرض ہوتی ہے۔ اسی بات سے اُن کی دکان چلتی ہے اور چلتی دکان کون بند کرتا ہے؟

مزید : کالم