جرنیلوں کی برطرفیاں:حقیقتِ حال!

جرنیلوں کی برطرفیاں:حقیقتِ حال!
جرنیلوں کی برطرفیاں:حقیقتِ حال!

  

پاکستان آرمی نے اپنے دو جرنیلوں، تین بریگیڈیئروں اور ایک کرنل کو فوج سے نکال دیا ہے۔ سوائے پنشن اور میڈیکل کے، ان سے باقی مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔ ان باقی مراعات میں ان کا رینک، پلاٹ، زمینیں، اعزازات وغیرہ بھی چھین لئے گئے ہیں۔ پاکستان آرمی میں اتنے بڑے پیمانے پر یہ تطہیر (Purge) بے مثال ہے۔حاسدوں کا کہنا ہے کہ مقدس گائے کو آخر ذبح کرنا ہی پڑا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس اقدام کا ردِعمل بھارت میں کیا ہوا ہے اور کیا ہو گا لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت کی مقدس گائے، پاکستانی گائے سے زیادہ فربہ اندام ہے اور زیادہ دودھ دینے والی بھی ہے۔ لہٰذا اس کے گوالوں کو بھی شائد بہت سی گائیوں کو مذبخ کی طرف ہانکنا پڑے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دُنیا بھر کی افواج میں کرپشن، بددیانتی، رشوت، سفارش اور اِسی طرح کی دوسری کئی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ مسلم ممالک (بالخصوص عرب افواج) کا تو ذکر ہی چھوڑیں، چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی کئی موٹی موٹی گائیں بھی سرکاری جھٹکے کی تلوار کا شکار ہو چکی ہیں۔ جو فوج سب سے زیادہ بڑی اور کثیر التعداد ہو گی اس میں جرائم کی شرح بھی کثیر ہو گی تاہم یورپی اور امریکی افواج کو تو ان جرائم کے علاوہ کئی دوسری اخلاقی بیماریاں بھی لاحق ہیں۔ وہاں کرپشن، بددیانتی، وطن فروشی اور سیکس شانہ بشانہ چلتی ہیں۔

بظاہر حکومت کے ایک وزیر باتدبیر (جناب محمد زبیر) نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ جس فوج کے سینئر افسروں کی اخلاقی گراوٹ کا یہ حال ہو کہ اس کے چوٹی کے رینک کے افسران ایڑی سے چوٹی تک کرپشن میں گھرے ہوئے ہوں تو اس کے نچلے درجے کے آفیسر رینکس کا کیا حال ہو گا۔ قوم اپنے بجٹ کا ایک تہائی حصہ جس عسکری تنظیم کو دیتی ہے، اگر اس کی بددیانتی کا گراف اتنا اونچا ہو تو وہ سویلین قیادت اور سویلین معاشرے کے کرپٹ ٹائیکونوں کو کس مُنہ سے کہہ سکتی ہے کہ ’’اگاّ ڈھک‘‘ جبکہ اس کی اپنی شلوار تار تار ہو؟

لیکن شائد بیشتر قارئین کے علم میں یہ بات نہ ہو کہ فوج کی99.99فیصد اکثریت، (کیا اس کے آفیسر اور کیا جوان اور کیا دوسرے عہدیدار) اس جرم(کرپشن) میں شریک نہیں جس میں جنرل راحیل شریف نے اتنے سینئر افسروں کو ’’یکمشت‘‘فارغ کر دیا ہے۔ اگر کسی ہاتھ کی چھنگلی کینسر زدہ ہو تو باقی ہاتھ (اور جسم) کو بچانے کے لئے اس کو کاٹ پھینکنا ہی بہترین آپشن ہوتی ہے۔۔۔۔ قارئین نے یہ تو پڑھ ہی لیا ہو گا کہ یہ سارے آفیسرز جن کو یہ کڑی سزا دی گئی ہے، ان کا تعلق فرنٹیئر کور سے ہے۔۔۔۔ یہ فرنٹیئر کور کیا ہے۔ آیئے پہلے اس کا مختصر احوال جانتے ہیں۔۔۔۔

فرنٹیئر کور وہ نیم عسکری تنظیم ہے جو پاکستان کے شمال مغرب سے لے کر جنوب مغرب کی سرحدوں پر دشمن کے حملوں کے لئے مشاہداتی چوکیوں کا کام کرتی ہے۔ اور اس کا دوسرا کام زمانۂ امن میں سمگلنگ وغیرہ کی روک تھام ہے۔ یعنی جو کام ہماری مشرقی سرحدوں پر رینجرز کرتے ہیں وہی فرائض مغربی سرحدوں پر فرنٹیئر کور (FC) انجام دیتی ہے۔ چونکہ مغربی سرحد خیبرپختونخوا (چترال) سے لے کر بلوچستان(گوادر) تک پھیلی ہوئی ہے اور بہت طویل ہے، اس لئے اس پر نسبتاً زیادہ نفری تعینات ہے۔رینجرز کا بجٹ اور ایف سی کا بجٹ وفاق کی ذمہ داری ہے۔

راقم الحروف کو1971ء کے اوائل میں اس تنظیم میں (قلات سکاؤٹس اور گلگت سکاؤٹس) میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس لئے مجھے کچھ نہ کچھ حقائق کا علم ہے۔ اگرچہ مَیں نیا نیا کپتان پروموٹ ہوا تھا اور فرنٹیئر کور کو زیادہ نہیں جانتا تھا لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ فرنٹیئر کور میں پوسٹنگ کیا معنی رکھتی ہے۔ (چند ذاتی تجربات اگلے کالم میں) اس زمانے میں ایک ہی آئی جی ایف سی(IGFC) ہوا کرتے تھے۔ (میجر جنرل شیریں دل خاں نیازی) جبکہ آج کل دو ہیں۔ ایک کا ہیڈ کوارٹر قلعہ بالا حصار پشاور میں ہے اور دوسرے کا کوئٹہ میں۔ فرنٹیئر کور کی ان یونٹوں کو سکاؤٹس یا ملیشیا کا نام دیا جاتا ہے۔ جیسے قلات سکاؤٹس، نارتھ وزیرستان سکاؤٹس، چاغی ملیشیا وغیرہ۔ ریگولر فوج کے مختلف رینکس کے آفیسرز، فرنٹیئر کور اور رینجرز میں دو دو تین تین سال کے لئے پوسٹ ہوتے ہیں اور پھر واپس ریگولر فوج میں چلے جاتے ہیں۔ یہ تمام آفیسر، آرمی سے لئے جاتے ہیں۔ ائر فورس اور نیوی کا کوئی آفیسر ان میں شامل نہیں ہوتا۔البتہ ہیڈ کوارٹر میں ایک ائر لیزان آفیسر پوسٹ ہوتا ہے تاکہ افغانستان اور ایران کی طرف سے اگر کوئی فضائی کارروائی ہو تو وہ اس میں رابطے (Liaison) کا کام دے سکے۔

1971ء میں چمن اور زاہدان وغیرہ سے بھی اگرچہ سمگلنگ ہوتی تھی لیکن اس کا حجم بہت کم ہوتا تھا۔ الیکٹرانک سازو سامان اور ریشمی پارچات زیادہ تر طور خم کی راہ ہی سے سمگل ہوتے تھے۔ اور ایران سے پلاسٹک کے بنے ہوئے ڈنر سیٹ، رشین ٹیلی ویژن، رشین فریج، وی سی آر، کیمرے اور ایرانی سمر (ایک موٹا گرم کپڑا) عام اشیائے سمگلنگ تھیں۔ کوئٹہ میں لیاقت بازار اور کوچی بازار وغیرہ ان اشیائے خارجی سے بھرے رہتے تھے ۔ یہ سمگل شدہ اشیا زیادہ تر پنجابی اور سندھی مارکیٹوں میں چلی جا تی تھیں۔ یہ پریکٹس آج بھی جاری ہے اور یہی کرپشن کی بنیادی جڑ ہے جو فرنٹیئر کور کے افسروں کے ’’گھٹنوں اور ٹخنوں‘‘ میں بیٹھی ہوئی ہے اور اس سے کوئی جائے فرار نہیں۔۔۔۔پھر جوں جوں وقت آگے بڑھا، سمگلنگ کا حجم بھی بڑھتا چلا گیا اور اس کی گو نا گونی اور انواع و اقسام میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔۔۔ اب ٹیلی ویژن نہیں، بیش قیمت گاڑیاں سمگل ہوتی ہیں۔اور وہ واقعہ جس نے چھ سینئر افسروں کو فوج سے نکال باہر کیا اس کی جڑ بھی ایک گاڑی ہی تھی۔

جنرل اعجاز شاہد سے پہلے جنرل عبید خٹک آئی جی ایف سی بلوچستان تھے۔ جنرل اعجاز کو رپورٹ ملی کہ چمن بارڈر سے ایک قیمتی گاڑی پکڑی گئی ہے جو پاکستان میں سمگل کی جا رہی تھی۔ وہ گاڑی جنرل صاحب کو پیش کی گئی۔ ان کے جواں سال صاحبزادے کا دل اس پر آ گیا اور EME کے دو افسروں کو اس نئی نکور فراری جس کی قیمت4سے5کروڑ بتائی جاتی ہے، کے ابتدائی ٹرائل پر متعین کیا گیا۔ جب یہ ریسنگ فراری ٹیسٹ کی جا رہی تھی تو شائد کرنل صاحب نے ایکسلریٹر پر زیادہ دباؤ ڈال دیا اور جب گاڑی یکدم فراٹے بھرنے لگی تو بریکنگ پیڈل پر اچانک زور سے پاؤں جا پڑا۔ گاڑی اُلٹ گئی اور دونوں آفیسر مارے گئے۔ آئی جی ایف سی کے حکم پر انکوائری کی گئی اور ’’نتیجہ‘‘ یہ نکالا گیا کہ حادثے کے ذمہ دار یہ دونوں آفیسر خود تھے۔ یہ معاملہ یہاں دب جاتا اگر جنرل صاحب حادثے کی ذمہ داری EME کے افسروں پر نہ ڈالتے اور ان کو بعداز وفات مراعات سے محروم کرنے کی سفارش نہ کرتے۔ چنانچہ دونوں افسروں کے اہل خانہ نے آرمی چیف کو درخواست دے دی۔۔۔ اور پھر ’’کھیل‘‘ شروع ہو گیا۔

ایسی چیزیں چھپائے نہیں چھپتیں۔۔۔۔ رفتہ رفتہ باتیں باہر آنے لگیں۔ جنرل اعجاز کو پوسٹ آؤٹ کر دیا گیا اور تازہ (Fresh) انکوائری شروع ہوئی اور پھر فرنٹیئر کور کے ڈھول کے پول کھلتے چلے گئے۔ گاڑیاں سمگل کرنے والے گروہ نے انکشاف کیا کہ ہم تو یہ کام ایک طویل عرصے سے کر رہے ہیں اور اس کاروبار میں FC کا باقاعدہ ایک ’’رول‘‘ ہے جس کے لئے ہم ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ ادا کرتے ہیں۔ اس طرح جرنیلوں، بریگیڈیئروں اور کرنلوں کے کرپشن سکینڈل طشت ازبام ہونے لگے۔ اور نوبت اس برطرفی تک پہنچ گئی۔

فوج میں عام تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ فرنٹیئر کور میں کرپشن کی یہ بیماری جو اول اول برائے نام تھی، جنرل پرویز مشرف اور جنرل کیانی کے پندرہ سالہ ادوار میں انتہا کو پہنچ گئی۔ فوج میں یہ بات بھی عام ہے کہ جس آفیسر کو ایف سی میں پوسٹنگ ملتی ہے اس کے ساتھ ہی میجر کو پانچ کروڑ، لیفٹیننٹ کرنل کو پندرہ کروڑ، کرنل کو بیس کروڑ،بریگیڈیئر کو تیس کروڑ اور میجر جنرل کو ’’اَن گنت‘‘ کروڑ کی ’’بالائی آمدن‘‘ بھی ساتھ ہی مل جاتی ہے۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔

فوج کا اخلاقی اور مالیاتی ڈسپلن جنرل مشرف سے پہلے ٹھیک ٹھاک تھا۔ اِکا دُکا کیس تو معمول کا حصہ تھے۔ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ پہلے بھی فوج میں کالی بھیڑیں ضرور پائی جاتی تھیں۔ لیکن ان کا کڑا احتساب ہوتا تھا، لیکن جب جنرل مشرف تشریف لائے تو انہوں نے مختلف مصلحتوں کے تحت ایسے افسران کو اعلیٰ مناصب سے نوازا جو ان کے ہر گز اہل نہ تھے۔ لیکن آرمی چیف تو ’’خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ‘‘ ہوتا ہے، اس کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔۔۔۔ کسی فیصلہ کن اور اعلیٰ ترین کلیدی منصب پر فائز ہو کر خود کرپشن نہ کرنا لیکن ماتحتوں کو کھلی چھٹی دے دینا، خود کرپشن میں ملوث ہونے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ جنرل مشرف کے ایامِ ذولا کرام کے بعد جب جنرل کیانی تشریف لائے تو ان کی آمد سے تو گویا عالم تمام مطلعِ انوار ہو گیا۔ ان کے بھائیوں کے کیس آپ بھی دیکھ رہے ہیں اور میری بھی نگاہوں سے گزرتے رہتے ہیں۔ خاطر جمع رکھیں وہ وقت دور نہیں جب خود جنرل صاحب اور ان کا پریوار ایک سب سے بڑی خبر بن کر سامنے آئے گا!

فرنٹیئر کور کی درجنوں یونٹوں کے علاوہ فرنٹیئر ورکس آر گنائزیشن(FWO)، نیشنل لاجسٹک سیل(NLC) اور اس نوع کے دورے میگا پراجیکٹس جو فوج کے ڈھیلے ڈھالے انتظام میں چلتے ہیں اور جب ان میں انجینئرز کور کے بیشتر افسران کو تعینات کر دیا جاتا ہے تو ان کی دیانت و امانت کا کڑا امتحان ہوتا ہے۔ کرپشن خواہ مالی ہو، اخلاقی ہو، سیاسی ہو یا سماجی یا مذہبی ایک ایسی خوبرو حسینہ ہے جو نیم برہنہ ہو کر آپ کے سامنے آتی ہے، پہلے اشاروں کنایوں سے آپ کا دل برماتی ہے اور پھر یکایک آپ کی گود میں گر کر ’’دعوتِ مبارزت‘‘ دیتی ہے۔ فرنٹیئر کور میں پوسٹنگ ایسی ہی خوبرو حسیناؤں کے اتوار بازار میں پوسٹنگ ہے۔ اس بازار سے کوئی شاذ ہی بچ نکلتا ہے اور جو بچتا ہے اس پر اپنے والدین کی خاص تربیت، کملی والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاص نگاہِ شفقت اور خداوند ِ عزو جل کی خاص نظرِ عنایت ہوتی ہے جو ہر کسی کا مقدر نہیں ہوتی!

دہد حق عشقِ احمدؐ بندگانِ چیدۂ خود را

بہ خاصاں شاہ مے بخشد مئے نوشیدۂ خود را

مزید : کالم