دہرے عدالتی نظام سے فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا: رضا ربانی

دہرے عدالتی نظام سے فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا: رضا ربانی

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) چیئر مین سینٹ آف پاکستان میاں رضا ربانی نے کہا کہ طلبہ اور مزدوریونین پر پابندی جمہوریت کے منافی ہے کیونکہ طالبعلم اور مزدور معاشرے میں برپاہونے والی تبدیلی کا ہر اول دستہ ہوتے ہیں۔ پروسیکیوشن میں ناکامی کے باعث اگر دہشت گرد رہاہوجائیں تو اس کا الزام عدالتوں کودینا غلط ہے ،ملکی قوانین جتنے بھی سخت اور کڑے بنادیئے جائیں جب تک اشرافیہ کے لئے الگ قانون اور عام آدمی کے لئے الگ قانون ہوگا اس وقت تک ایک فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔آئین کے آرٹیکل 05 کے تحت قانون ہرشہری کے لئے برابرہوگا مگر اس شق پر عملدرآمد نہیں ہورہاہے ۔اشرافیہ اور بیوروکریسی کروڑوں روپے کے قرضے لینے کے باوجود ڈیفالٹرقرارنہیں دیئے جاتے بلکہ ان کے قرضے معاف تک کردیئے جاتے ہیں اور اگر ہم جیسا کوئی عام آدمی چند لاکھ روپے کا مقروض ہو تو فوراً اس کو ڈیفالٹر قراردے دیا جاتاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے سردار یاسین ملک پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر کے زیر اہتمام منعقد سیمینار بعنوان : ’’بینکوں اور کارپوریٹ سیکٹر کو درپیش قانونی پیچیدگیاں اور ان کے حل ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر بریگیڈیئر(ر)مظفر الحسن ،کرنل(ر) ایاز انصاری ،ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان سالم سلیم انصاری ،معروف بینکر آصف امین اور چیئر مین شعبہ تاریخ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طحہٰ بھی موجودتھے۔چیئر مین سینٹ نے مزید کہا کہ میری چیئر مین شپ کے دور میں پہلی دفعہ پارلیمان کے عوام سے رابطے کے لئے مثبت کوششیں کی گئیں ہیں اور قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں اس شعبہ کے ایکسپرٹس کو بھی مدعو کیا جاتا ہے تاکہ قانون سازی کا عمل مزید شفاف اور بہتر ہوسکے ۔یہ تاثر غلط ہے کہ کسی بھی ایوان کا اسپیکر یا چیئر مین ایوان میں پیش کردہ کسی قرارداد یا بل پر کسی صورت اثر انداز ہوسکتا ہے ،پیش کیا جانے والا بل یا قرارداد چاہے حکومت کی جانب سے یا اپوزیشن کی جانب سے وہ ضابطے کی کاروائی کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹی کو ارسال کردیاجاتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تاریخ کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے کہ اب ان چالاکیوں کو نہ عوام برداشت کرے گی اور نہ ریاست اور ہماری عوام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر قوانین کی برابری کی بنیاد پر عملدرآمد اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا مثبت کردار اداکرناہوگا۔موثر قوانین بن رہے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہورہاہے جو لمحہ فکریہ ہے۔انہوں بریگیڈیئر (ر)مظفر الحسن اور کرنل(ر) ایاز انصاری کا جامعہ کراچی میں مدعو کرنے پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ میں جامعہ کراچی آتے ہوئے فخر محسوس کرتاہوں ۔

مزید : صفحہ آخر