عمران خان جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر کے اب راہ فرار اختیار کر رہے ہیں: مسلم لیگ (ن)

عمران خان جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر کے اب راہ فرار اختیار کر رہے ہیں: مسلم لیگ ...

لاہور( شہزاد ملک ) حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)نے قرار دیا ہے کہ عمران خان جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کرکے وزیراعظم کی جانب سے اس کے قیام کے بعد اب راہ فرار اختیار کر رہے ہیں وزیراعظم کی طرف سے اعلان کردہ کمیشن کے ٹی آر آوز میں ہر قسم کی کرپشن کے خاتمے کا پورا انتظام موجود ہے لیکن اب ٹی او آرز کو بنیاد بنا کر حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی جارہی ہے ان کا مقصد پاکستان کی ترقی کو روکنا ہے ان کی منفی سیاست کی مذمت کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما طلال چودھری نے کہا کہ عمران خان اپنی اے ٹی ایم مشینوں کا احتساب ہونے سے گھبرا رہے ہیں آج عمران خان کی اے ٹی ایم مشینیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا مظاہرہ کررہی ہیں عمران خان جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرکے اب راہ فرار اختیار کر رہے ہیں کمیشن کے ٹی آر اوز میں ہر قسم کی کرپشن کے خاتمے کا پورا انتظام موجود ہے لیکن اب اس کو بنیاد بنا کر میں نہ مانوں والی سیاست کی جارہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما دانیال عزیز نے کہا کہ عمران خان کا مقصد ملک میں انارکی پھیلانا ہے وہ ہر وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی ایشو کو بنیاد بنایا جائے اور عوام کو اس پر حکومت کے خلاف اکسایہ جائے وہ اس سے پہلے اسلام آباد کے دھرنے کے دوران بھی عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانے کی ناکام کوشیشیں کرتے رہے لیکن عوام ان کے بہکاوے میں نہیں آئے اور ان کی منفی سیاست کو انہوں نے اس وقت بھی مسترد کیا اور اب بھی مسترد کردیں گے قوم انتشار پسندوں کو پہلے بھی مسترد کر چکی ہے اور اب بھی کرے گی ۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ عمران خان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے یہ مشترکہ مطالبہ تھا کہ وزیراعظم چیف جسٹس کی نگرانی میں کمیشن بنانے کا اعلان کریں جس پر وزیراعظم نے ان کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے قوم سے خطاب کے دوران چیف جسٹس کو خط لکھنے کا اعلان کیا جب وزیراعظم نے خط لکھ دیا ہے معزز چیف جسٹس صاحب کو تو پھر اس کے بعد عمران خان کا حکومت کے خلاف احتجاجی جلسے جلوس کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا ہے انہیں انتشار کی سیاست کو ترک کرنا ہو گا۔

مزید : صفحہ آخر