عمران خان کا پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے کمیشن سے پیچھے ہٹنا نواز شریف کی اخلاقی فتح ہے، پرویز رشید

عمران خان کا پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے کمیشن سے پیچھے ہٹنا نواز شریف کی ...

رشید لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک، نما ئندہ خصو صی ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریا ت پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کے حوالے سے اپوزیشن کے مطالبے پر لامحدود جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے سپریم کورٹ کو خط لکھا تو انہی لوگوں نے الٹے پاوں پیچھے ہٹنا شروع کردیا۔ شریف خاندان کی تین مرتبہ تحقیقات ہوچکی ہیں۔ عمران خان کا کمیشن سے پیچھے ہٹنا نواز شریف کی اخلاقی فتح ہے، ان کے جلسوں میں ان لوگوں کا پیسہ لگتا ہے جن پر قبرستانوں کی زمینوں پر قبضے کرنے کا الزام ہے۔ لاہورپریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم نے اپنی اخلاقی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا تاکہ اس کمیشن کے ذریعے ان کے خاندان کے جن افراد کا نام آف شور کمپنیز کے حوالے سے منظر عام پر آیا ہے یہ تسلی کرلی جائے کہ وہ آف شور کمپنیز قانونی طور پر اپنے کاروباری مقاصد پورے کرنے کیلئے بنائی گئی تھیں اور ان میں کسی قسم کی کوئی بدعنوانی یا لا قانونیت یا اخلاقی قدروں کو پامال تو نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاناما پیپرز میں وزیر اعظم کا ذاتی طور پر کوئی حوالہ نہیں ہے اور ان کے خاندان کے جن افراد کے نام آف شور کمپنیز کے حوالے سے نام سامنے آئے ہیں ان پر پاناما پیپرز میں کوئی ایسی بات درج نہیں ہے جس میں دنیا کے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ ریٹائرڈ ججز پر مشتمل کمیشن اس لیے بنایا گیا کیونکہ 2014 میں انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی تو اس پر عمران خان کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تضحیک کی گئی جس کی وجہ سے قانونی حلقوں میں یہ تشویش پھیل گئی کہ آئندہ حاضر سروس ججز کو ان معاملات میں نہ الجھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے معزز ترین ریٹائرڈ ججز کا نام دیا گیا لیکن عمران خان کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا کہ نواز شریف کا دامن صاف نہیں ہے جس کیلئے وہ سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز سے خوفزدہ ہیں۔ وزیر اعظم پر وہی الزامات لگائے جارہے ہیں جن کے حوالے سے پہلے بھی تحقیقات ہوچکی ہیں۔ پہلا احتساب اس وقت ہوا جب بے نظیر کو پہلی دفعہ وزارت عظمیٰ ملی جبکہ دوسرے دور میں بھی انہوں نے احتساب کیا اور تیسرا احتساب جنرل (ر) پرویز مشرف نے کیا۔ تینوں دفعہ کی تحقیقات میں کسی بھی قسم کے غیر قانونی کام کا ثبوت ہی نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ جب اپوزیشن کے مطالبے پر کمیشن بنادیا گیا ہے تو اب وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگے اور مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ محدود کمیشن بنایا جائے۔ عمران خان پہلے تو اپنے آپ کو ہر قسم کے احتساب کیلئے پیش کررہے تھے لیکن اب جو ہاتھ سینے پر مارتے تھے انہی ہاتھوں سے دوڑنے کا کام لے رہے ہیں۔پرویز رشید کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے جہاز میں عمران خان سفر کرتے ہیں وہی لوگ منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ ان کے دھرنوں میں جن لوگوں کا پیسہ لگتا ہے ان کیخلاف عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔ جلسوں کے خرچے وہ لوگ برداشت کرتے ہیں جن پر قبرستانوں کی زمینوں پر قبضوں کے الزامات لگتے ہیں۔ جب ہم نے لامحدود کمیشن بنانے کی بات کی تو ان لوگوں نے عمران خان کو رات کو جگایا اور انہیں دوسری پرچی تھمائی جس میں کہا گیا کہ آپ اس کمیشن کو تسلیم کرنے سے انکار کردیں عمران خان کا جوڈیشل کمیشن کو تسلیم نہ کرنا نواز شریف کی اخلاقی فتح ہے

مزید : صفحہ اول