زہریلی مٹھائی سے 22 اموات ‘ سبب سمگل شدہ ممنوعہ زرعی پاؤڈر نکلا

زہریلی مٹھائی سے 22 اموات ‘ سبب سمگل شدہ ممنوعہ زرعی پاؤڈر نکلا

لیہ +کروڑ لعل عیسن(نامہ نگار)زہریلی مٹھائی کھانے سے جاں بحق افراد کی تعدا 22ہو گئی۔ چک نمبر 105میں جس میں گزشتہ روز تک 22افراد جاں بحق ہو چکے ہیں زہر آلود لڈو اور مٹھائی کے لیباٹری کے تجزیہ سے پتہ چلا کہ ممنوعہ سمگل شدہ زہرسیلفولائل جوکہ فصلات میں استعمال ہوتاہے چائنہ کا یہ(بقیہ نمبر46صفحہ7پر )

زہر پاکستان میں غیر قانونی طور پر فروخت کیا جاتا ہے ماہرین کے مطابق یہ آہستہ آہستہ انسانی جسم کو متاثر کرتا ہے اور ایک ماہ تک بھی اس کا اثر قائم رہتا ہے جس کا کوئی تریاق ممکن نہیں جس سے علاقہ بھر میں مزید تشویش کی لہر دوڑ گئی کیوں کہ مٹھائی کھانے والوں کی تعداد 50سے زائد ہے 30کے قریب مریض زیر علاج ہیں پولیس حراست میں مٹھائی فروشوں نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کے اُن کے قریبی زرعی ڈیلر نے دکان کی مرمت کی وجہ سے اپنی زرعی ادویات ہماری دکان میں رکھ دیں تھیں ان کے ملازم اوع شاگرد نے مٹھائی بناتے وقت غلطی سے زہر کی پوڑیا مٹھائی تیاری کے اجزاء سمجھ کر اس میں ملا دی جس کا خود مالک دکان کو بھی پتہ چل گیا اسے زایہ کرنے کی بجائے اس کا ذائقہ بہتر کرنے کیلئے اس میں مزید ٹاٹری اور دیگر چیزیں شامل کر دیں جس کے باعث اتنا بڑا نقصان ہو گیا پولیس نے مٹھائی فروشوں کا 10روزہ جسمانی رمانڈ حاصل کر لیا دوسر جانب گزشتہ روز لیگی رہنما صاحبزادہ فیض الحسن سابق صوبائی وزیر احمد علی اولکھ،ملک عبدالشکور سواگ جنازوں میں شرکت کے لئے 105چک پہنچے تو احمد علی اولکھ نے کار گزاری بتانا شروع کر دی جس پر وہاں کے لوگوں نے اُن کیخلاف زبر دست نعرے بازی کی اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ فتح پور لیہ اور نشتر ملتان میں اُن کے متاثرہ افراد کا علاج سنجیدگی سے نہیں کیا گیا جس کے باعث اتنا بڑا نقصان ہوا لواحقین کے مطابق انہیں سہولیات نہیں ملی اور اُن کے 8مریضوں کو زبردستی دکھے دے کر نکال دیاگیادوسری جانب 8متاثرہ افراد کو ملتان نشتر سے ڈسچارج کر دیا گیاجوکہ اپنے گھر پہنچ گئے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر