اپنے ہی قوانین نظرانداز، ڈی ایچ اے نے متنازعہ اراضی کرید کر خاتون کو جمع پونجی سے محروم کر دیا

اپنے ہی قوانین نظرانداز، ڈی ایچ اے نے متنازعہ اراضی کرید کر خاتون کو جمع ...

ملتان ( ملک اعظم سے ) ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور ملتان چپیٹر بھی روایتی پراپرٹی ڈویلپرز کے راستے پر چل نکلی ہے ۔ ڈی ایچ اے ملتان چیپٹرکے حکام نے اپنے ہی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے متنازعہ زمینوں کی خریداری شروع کردی جس کیوجہ سے شفافیت کے عمل پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے اور اس پروجیکٹ کی اصل شکل سامنے آنے سے قبل تنازعات نے جنم لینا شروع کردیا ہے معلوم ہوا ہے کہ ملتان کے ایک معروف صنعتی گروپ کے قریبی رشتہ دار میاں نشاط نے موضع گاڑھے واہن میں واقع اپنی 8ایکڑ اراضی فروخت کرنے کے لئے بقیہ بی بی نامہ خاتون سے اقرار نامہ نمبر553کیا یہ اقرار نامہ 17فروری 2014ء کو کیا گیا ۔ اس اقرار نامہ کے تحت بقیہ بی بی نامی خاتون نے میاں نشاط کو 17فروری 2014کو سی ڈی آر نمبری 10876242-43-44-45-46-47کے ذریعہ 1کروڑ 50لاکھ ادا کردئیے ۔ ہر ایک سی ڈی آر کی مالیت 25لاکھ روپے تھی ۔ میاں نشاط نے معاہدہ نمبری 553میں اقرار کیا تھا کہ وہ اپنی اراضی بقیہ بی بی کو فروخت کرنے کا پابند رہے گا لیکن بعدازاں وہ اپنے معاہدے سے مکر گیا اور علاقہ پٹواری میاں غفور احمد سے مل کر 8ایکڑ اراضی ڈی ایچ او لاہور ملتان چیپٹر کو فروخت کرنے کی ٹھان لی ۔ جس پر بقیہ بی بی کو میاں نشاط کے ارادے کی بھنک پڑی گئی بقیہ بی بی نے فوری طور پر سول کورٹ ملتان میں دعویٰ تکمیل مختص بیع دائر کردیا اور عدالت سے حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا کی جس پر سول جج ملتان حافظ محمد یوسف نے 22جنوری 2015کو حکم امتناعی جاری کردیا ۔ جس کا ریونیو ریکارڈ میں سے عمل درآمد کرادیا گیا ۔ اس کیس کی سماعت کے دوران میں میاں نشاط عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو فاضل عدالت نے 14جولائی 2015کوایک طرفہ فیصلہ سنادیا لیکن 2ماہ بعد میاں نشاط نے 4ستمبر 2015کو ڈگری کینسل کرنے کی استدعا کردی ۔ اس ساری کارروائی کے دوران عدالت نے حکم امتناعی برقرار کررکھا لیکن لینڈ مافیا نے 28مارچ 2016کو ایک انتقال نمبری 1162کے تحت 8ایکڑ اراضی ڈی ایچ اے ملتان چیپٹر کے نام منتقل کردی ۔ جب ڈی ایچ اے کا عملہ اراضی کا قبضہ لینے موقع پر پہنچا تو اراضی مالکان نے تمام تفصیلات کے سے آگاہ کیا اور اراضی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔معلوم ہوا ہے ڈی ایچ اے کے افسران اور عملہ کو بھی اراضی کی متنازعہ حیثیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ اس اراضی کے بارے سول کورٹ نے حکم امتناعی جاری کررکھا ہے لیکن مدعیوں کی ایک بھی نہ سنی گئی بلکہ ڈی ایچ اے افسران اور عملہ نے اپنے ہی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے 8ایکٹر اراضی اپنے نام منتقل کروانے کے بعد قبضہ بھی کرلیا ۔ اس بارے میں بقیہ بی بی بیوہ باقر شاہ کے بھائی سید وارث شاہ نے کہا ہے کہ میں اس کیس کی پیروی کررہا ہوں جس پر مجھے واپس بھیج دیا گیا انہوں نے کہا ڈی ایچ اے کے ایک لینڈ پرووائیڈر نعیم نے اپنے پاس بلا کر کہا کہ آپ کیا حاصل کرلو گے ساری زندگی عدالتوں میں گذرے گی ۔ ڈی ایچ اے بہت بااثر ادارہ ہے اس لیے اپنی اراضی بھول جاؤ۔ کارروائی کے بعد جب بقیہ بی بی کی جانب سے تھانہ بہاء الدین زکریا میں اندراج مقدمہ کی درخواست دی گئی تو پولیس حکام بھی ڈی ایچ اے کا نام سن کر گم سم ہوکر رہ گئے جس پر بقیہ بی بی نے عدالت سے رجوع کیا ایڈیشنل سیشن جج ملتان کے حکم پر میاں نشاط احمد ولد شیخ فضل الرحمن ، محمد قاسم ولد امیر ، محمد اکرم ولد محمد ہاشم رانا نویدا ختر ولد غلام عباس ، علاقہ پٹواری موضع گاڑھے واہن غفور احمد پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی ملتان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا اور ملزمان کے خلاف تفتیش شروع کردی ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر