پاناما لیکس کے معاملے پر ’’مٹی پاؤ پالیسی‘‘ نہیں چلے گی ، سراج الحق

پاناما لیکس کے معاملے پر ’’مٹی پاؤ پالیسی‘‘ نہیں چلے گی ، سراج الحق

 مردان (بیو رورپورٹ)جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے پانامہ لیکس کے معاملے پر حکومتی ٹی آراوز کو مستر د کرتے ہوئے کہاہے کہ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ ٹی آراوز سپریم کورٹ میں پیش کرے گی ، رات گئی بات گئی اور مٹی پاؤ پالیسی نہیں چلے گی ،جوڈیشل کمیشن ایک ماہ کے اندراندر تحقیقات مکمل کرکے قوم کو حقائق سے اگاہ کیاجائے وزیراعظم کو اخلاقی طورپر مستعفی ہوجاناچاہئے وہ اتوار کی صبح جامعہ تفہیم القرآن میں ختم بخاری شریف سے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے جماعت اسلامی کے ضلعی امیرمولانا ڈاکٹر عطاء الرحمان ،ضلعی جنرل سیکرٹری عماد اکبرحسان ، ابراہیم بلند اوردیگر بھی اس موقع پر موجود تھے سراج الحق نے کہاکہ پانامالیکس کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کو ایک صفحے پر ہونا چاہئے اور ان کی تقسیم سے حکومت کو فائدہ اور ملک کو نقصان ہوگا انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے استحکام اور ملک کی ترقی کے لئے بے لاگ احتساب ضروری ہے 68سالوں سے کچھ خاندان سیاہ وسفید کے مالک ہیں اور ایسٹ انڈیا کمپنی بنے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ پانامالیکس کے بعد ملک بحران سے گزررہاہے بازاروں ،حجروں ،چوکوں چوراہوں میں یہی باتیں ہورہی ہیں حکومت نے اپنی مرضی کے ٹی آراوز بنائے انہوں نے کہاکہ ملک میں چھ کروڑ عوام صحت کے بنیادی سہولت سے محروم ہیں دو کروڑ بچے تعلیم حاصل نہیں پارہے لاکھوں لوگ بے گھر ہیں ایے میں حکمران اپنی دولت بیرون ممالک منتقل کرکے اپنے بچوں کے مستقبل کو سنواررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کرپشن کے معاملات پر الگ الگ راہ اختیا رکرنے کی بجائے فری کرپشن پاکستان کے لئے متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں تو اس میں ملک وقوم کی بہتری ہوگی ان کا کہناتھاکہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ سے رابطہ کیاہے اوروہ ٹی آراوز کے حوالے سے سپریم کورٹ کو خط لکھیں گے انہوں نے کہاکہ شفا ف احتسا ب کے لئے اچھی شہرت کے حامل بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کی خدمات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ایک ماہ کے اندراندر لیکس کی تحقیقات مکمل کی جائے انہوں نے کہاکہ پانامالیکس کے انکشافات کے بہت سو کے رنگ پیلے پڑ گئے ہیں جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے کہاکہ پانامالیکس کے بعد یورپ کے دو وزراء اعظم مستعفی ہوگئے میاں نوازشریف کو بھی اخلاقی طورپر استعفیٰ دینا چاہئے ۔

مزید : پشاورصفحہ اول