سندھ میں باردانہ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے ، ناصر حسین شاہ

سندھ میں باردانہ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے ، ناصر حسین شاہ

 کراچی (اسٹاف رپورٹر ) وزیر خوراک سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں باردانہ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جارہا ہے، جن جن اضلاع میں چھوٹے اور عام کاشتکاروں کی جانب سے شکایات موصول ہورہی ہیں وہاں کے ڈسٹرکٹ فوڈ انسپکٹر کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ باردانہ کی تقسیم کو سیاسی اشیو بنانے کی سازش کی جارہی ہے تاہم میں خود تمام ڈسٹرکٹ میں موجود سینٹرز کا سرپرائز وزٹ کررہا ہوں اور شکایات کا ازالہ بھی کیا جارہا ہے۔6 کروڑ کی جگہ 1 کروڑ 10 لاکھ بوریوں کی فراہمی پر مسائل ضرور پیدا ہورہے ہیں لیکن حکومت صوبے بھر کی 60 لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکتی۔ اس وقت تک سندھ حکومت کی جانب سے خرید کی جانے والی 11 لاکھ میٹرک ٹن گندم میں سے 40 فیصد سے زائد گندم پروکیومینٹ کی جاچکی ہے جبکہ 85 فیصد باردانہ کاشتکاروں کو فراہم کیا جاچکا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر اس سال بڑے زمینداروں اور بااثر افراد کی بجائے باردانہ چھوٹے اور عام کاشتکاروں کو فراہم کیا جارہا ہے۔ حکومتی گندم خریدنے کے باعث ہی آج صوبے میں گندم کی عام مارکیٹ کی قیمت میں استحکام ہے ورنہ عالمی مارکیٹ کی نسبت یہاں کے کاشتکاروں کو شدید نقصان کا اندیشہ تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ اور اتوار کے روز صوبے کے مختلف اضلاع حیدرآباد، مٹیاری، نوابشاہ، نوشہرو فیروز، گھوٹکی، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، قمبر شہداد کوٹ اور دیگر کے دورے کے موقع پر موجود میڈیا اور کاشتکاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ، ڈائریکٹر فوڈ سندھ محمد بچل راہو، ڈائریکٹر فوڈ سینٹر سکھر جمال الدین جھمن،لاڑکانہ رفیق قاضی، ڈپٹی دائریکٹر فوڈ لاڑکانہ سکندر علی چانڈیو،اور مختلف اضلاع کے ڈی ایف سیز بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے اپنے دورے کے دوران ارکان سندھ اور قومی اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کیں اور ان سے بھی ان کے اضلاع کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر کاشتکاروں اور چھوٹے زمینداروں کی شکایات پر صوبائی وزیر خوراک سید ناصر حسین شاہ نے کئی سینٹرز پر باردانہ کی فراہمی کا ریکارڈ تحویل میں لینے اور گندم کی خریداری کی ادائیگی کو تحقیقات نہ ہونے تک روکنے کے احکامات بھی دئیے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے میں رواں سال پیدا ہونے والی 60 لاکھ میٹرک ٹن گندم میں سے 11 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کررہی ہے اور یہ ٹوٹل کا کم و بیش 20 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی مانندہ گندم کو اوپن مارکیٹ میں ہی جانا ہے تاہم حکومت کی جانب سے 1300 روپے میٹرک ٹن کی قیمت پر خریداری سے آج مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں استحکام ہے اور یہ اس وقت بھی 1150 سے 1200 روپے میں فروخت کی جارہی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ کے تناسب سے اس کی قیمت 800 اور 900 سے زائد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور خود ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی واضح ہدایات ہیں کہ باردانہ بڑے اور بااثر زمینداروں اور افراد کی بجائے چھوٹے اور عام کاشتکاروں کو ہی فراہم کیا جائے اور اس پر مکمل عمل درآمد کیا جارہا ہے البتہ کچھ عناصر اسے سیاسی اشیو بنا کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ اس سال اس میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ فوڈ پالیسی میں ترامیم ہوں اور اس کا واضح نظام سامنے آئے اور اس سلسلے میں جلد سندھ اسمبلی سے قانون سازی کے ذریعے بل کو منظور کرایا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ہو اور یہی وجہ ہے کہ اس سال عام اور چھوٹے کاشتکاروں کی شکایات پر نہ صرف کئی ڈی ایف سیز کو معطل کیا گیا ہے بلکہ کئی سینٹرز کے افسران کو بھی معطل کیا گیا ہے اور میں خود اس سال پورے صوبے میں قائم 450 سے زائد سینٹرز کا دورہ کررہا ہوں اور میری پوری کوشش رہی ہے کہ باردانہ چھوٹے اور عام کاشتکاروں کو ہی ملے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے زمینداروں اور کاشتکاروں کا بھی حق ہے لیکن وہ اپنی فصل عام مارکیٹ میں دفروخت کرسکتے ہیں اور عام مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کے باعث انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ دورے کے دورانسید خورشید احمد شاہ اور صوبائی وزیر خوراک سید ناصر حسین شاہ نے لاڑکانہ میں رکن سندھ اسمبلی خورشید جونیجو کی رہائشگاہ پر ان کی والدہ کے انتقال پر ان سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی بھی کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر