متحدہ عرب امارات میں ہر ملازمت کیساتھ رہائش فراہم کرنا کفیل کا کام نہیں ، معاملات الگ طے ہوسکتے ہیں :رپورٹ

متحدہ عرب امارات میں ہر ملازمت کیساتھ رہائش فراہم کرنا کفیل کا کام نہیں ، ...
متحدہ عرب امارات میں ہر ملازمت کیساتھ رہائش فراہم کرنا کفیل کا کام نہیں ، معاملات الگ طے ہوسکتے ہیں :رپورٹ

  

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)دبئی میں ملازمت کے حصول کے خواہشمند افراد کیلئے اہم خبر ہے کہ وہاں موجود کمپنیاں ہر ملازمت کیساتھ رہائش گاہ فراہم کرنے کی پابند نہیں ، یو اے ای کے لیبر کے قوانین میں بنیادی اجرت اور مجوعی اجرت میں فرق واضح کیا ہے تاہم رہائش گاہ کے معاملات کفیل یا کمپنی کیساتھ الگ طے کیے جاسکتے ہیں کیونکہ پردیس میں رہائش کا مسئلہ زیادہ ہی گھمبیر ہوجاتاہے اور ایسی صورتحال میں مجبور تارکین وطن کا لوگ غیرضروری فائدہ بھی اٹھاتے ہیں ۔ 

نیوزویب سائٹ ایمریٹس 24/7 کے مطابق پہلے کنٹریکٹ میں ملازم کو دی جانے والی مراعات میں تمام مراعات شامل نہیں ہوتی تھی،جبکہ ٹوٹل اجرت میں تمام الاﺅنسز بشمول رہائش اور سفری اخراجات مہیا کیئے جاتے ہیں۔دبئی میں موجود ایم آئی او لا فرم کے لیگل کنسلٹنٹ احمد اودیع کا کہنا ہے کہ یو اے ا ی کے لیبر لا کے مطابق سفری اخراجات،رہائش،ٹیلی فون اور ٹرانسپورٹیشن جیسے اخراجات ملازمت کے کنٹریکٹ میں عموماًشامل نہیں ہوتے اس حوالے سے کمپنی اور ملازم میں الگ سے بات چیت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا ہاﺅسنگ کے حوالے سے ملازم کو دو طرح کی سہولیات دی جاتی ہیں۔یا تو کمپنی ملازم و باقاعدہ چیک یا کیش کی صورت میں رقم دیتی ہے یا پھر کمپنی اپنے طور پر رہائش کا انتطام کرکے فراہم کرتی ہے۔متحدہ عرب امارات کے لیبرلا میں رہائش مہیا کرنا لازمی قرار نہیں دیا گیا یہ ہر کمپنی کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کسے فراہم کرتی ہے اور کس کو نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا متحدہ عرب امارات کے لیبر قوانین کے وفاقی، میونسپل اور دیگر محکموں کے ملازمین،مسلح افواج کے ارکان،گھریلو ملازمین،مالی ،کسانوں کو رہائش مہیا کی جاتی ہے باقی ادارو ں ،کمپنیوں کی ذاتی صوابدید پر منحصر ہے وہ جسے چاہیں رہائش فراہم کرنے کا معاہدہ کرسکتے ہیں۔

مزید : عرب دنیا /اہم خبریں