A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

جنات کا غلام ۔۔۔ چونتیسویں قسط

جنات کا غلام ۔۔۔ چونتیسویں قسط

Apr 25, 2016 | 15:23:PM

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

تیتیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

میرے اندر طمانیت کے لڈو پھوٹنے لگے تھے خدشہ بہرحال تھا کہ اگر شاہ صاحب کو معلوم ہو گیا تو کیا ہو گا۔ لیکن جب ملک صاحب اٹل فیصلہ کر چکے تھے تو مجھے اپنی جاں سے گزر کر اپنی جاں تک پہنچنے کا حق حاصل ہو گیا تھا۔ بہت سے جذبات میرے خوف کو اپنے پیروں تلے روند کر آگے ہی آگے بڑھ گئے تھے۔ ہم نے کسی کو نہیں بتایا ہم کہاں جا رہے ہیں۔ زلیخا ہمارے ساتھ تھی‘ ہم کار میں بیٹھے اور کوٹلی بہرام سے ہوتے ہوئے حضرت جی کی مسجد میں پہنچ گئے۔ نماز ظہر ان کی امامت میں ادا کی۔ نماز کے بعد ایک جمِ غفیر ان کی زیارت اور دعاؤں سے فیض یاب ہونے کے لئے امڈ آیا۔ ہم بہت پیچھے بیٹھے تھے۔ زلیخا کو ہم نے کار میں بٹھا دیا تھا۔ حضرت جی نے خواتین کو اپنے حجرے کی طرف بٹھا رکھا تھا۔ میں زلیخا کو اندر لے آیا اور اسے بھی حجرے میں بٹھا دیا۔ مجھے بے قراری تھی کہ جلد از جلد حضرت جی سے ملاقات ہو۔ اس لئے میں بار بار اس امید پر کھڑا ہو جاتا تاکہ ان کی نظر مجھ پر پڑے تو ممکن ہے صبح کی شناسائی کام آ جائے اور وہ مجھے بلا لیں۔ لیکن نماز عصر تک ہماری باری نہ آئی۔ ملک صاحب بار بار پہلو بدلتے رہے۔ عصر کی اذان کے ساتھ ہی لوگ وضو کرنے کے لئے اٹھے تو میں نے موقع غنیمت جانا اور فوراً حضرت جی کے پاس پہنچ کر ان کے دست مبارک کو تھام لیا۔ میں جذبات سے مغلوب ہو رہا تھا۔ حضرت جی نے مجھے دیکھا تو ایسے بولے جیسے مجھے جانتے ہی نہ ہوں ’’نماز پڑھ لو بھئی ۔۔۔ پھر ملاقات کریں گے‘‘

عصر کی نماز پڑھنے کے بعد میں اور ملک صاحب حضرت جی کے پاس پہنچے تو انہیں دیکھتے ہی ملک صاحب کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔

’’صبر کرو میرے بیٹے ۔۔۔ اللہ اپنے بندوں کو امتحان میں مبتلا کرتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بندے کو سزا دے کر خوش ہو رہا ہے۔ بس تمہاری استقامت اور تمہارے ایمان کو آزمانا مقصود ہوتا ہے۔ اگر تو شاکر نکلا تو شکر سے مالامال ہو جائے گا اور اگر بہک گیا تو گر گیا‘‘ حضرت جی ملک صاحب کے ہاتھ پر اپنا دست مبارک رکھ کر بولتے رہے۔ ’’لاؤ کہاں ہے ہماری بیٹی‘‘ ۔حضرت جی نے ہمارے دلوں کی زبان سمجھتے ہوئے پوچھا۔

میں اٹھنے لگا تو حضرت جی خود اٹھ پڑے اور حجرے کی طرف کھلنے والے دروازے کی طرف رخ کرکے بیٹھ گئے۔ ’’زلیخا بیٹی‘‘ ملک صاحب نے اسے آواز دی تو وہ چادر میں لپٹی معصوم سی گڑیا حضرت جی کے پاس آ گئی۔

حضرت جی کی محفل ایک سادہ پوش صاحب شریعت کی مجلس تھی۔ نہ اگربتی جل رہی تھی‘ لوبان‘ عطر اور کافور کی مہک سے محروم اس فضا میں صرف انسانوں کی سانسیں گھلی ہوئی تھیں۔

زلیخا چادر میں لپٹی حضرت جی کے سامنے آئی۔ حضرت جی نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر نظریں حیا سے نیچے کرکے زیرِ لب کچھ پڑھنے لگے۔

’’زلیخا بیٹی دل پر بوجھ سا محسوس کرو تو مجھے خبردار کر دینا‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ہلکی سی آواز میں بولی ’’جی‘‘

حضرت جی دوبارہ پڑھائی کرنے لگے۔ پانچ منٹ تک مسلسل پڑھتے رہنے کے بعد انہوں نے نظریں اٹھائیں اور زلیخا کی پیشانی اور دائیں بائیں کاندھے پر پھونک مار کر باآواز بلند پڑھنے لگے ’’یا شافی بحق یا حفیظ علی کلِ شئی قدیر‘‘ وہ مسلسل اس وظیفہ کی گردان کرتے رہے۔ اس لمحہ مجھے احساس ہوا زلیخا کے چہرے پر کھنچاؤ کے تاثرات ابھر رہے اور لب پھڑک رہے ہیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن کسی طاقت نے اس کے ہونٹ پکڑ رکھے ہیں۔ اس کی یہ کیفیت دیکھ کر میرا دل ہانپنے لگا۔ حضرت جی آنکھیں بند کئے پڑھائی کرتے جا رہے تھے ان کی پیشانی بھی شکنوں سے آلودہ ہو رہی تھی۔ میں نے چاہا کہ حضرت جی کو زلیخا کی کیفیت سے آگاہ کر دوں۔ اس کے دل پر پڑنے والا دباؤ مجھے اپنے قلب پر محسوس ہو رہا تھا۔ میں آگے بڑھ کر حضرت جی سے کہنے ہی لگا تھا کہ حضرت جی نے آنکھیں بند کئے ہوئے ہی دست مبارک بلند کرکے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا۔ اس کا مطلب تھا ان کی روشن خیالی اردگرد کے ماحول سے باخبر تھی۔

ادھر زلیخا کی حالت بگڑتی چلی جا رہی تھی۔ اس کے لب کسی مرئی طاقت نے اس قدر مضبوطی سے سی دئیے تھے کہ اس کے اندر ہونے والی جنگ سینے سے چہرے تک پھیل گئی تھی۔ دونوں جبڑے بار بار پھیل رہے تھے۔ آنکھیں دباؤ سے ابل پڑنے کو تھیں حتیٰ کہ اس کے گوندھے ہوئے سیاہ گیسو بھی بکھرنے لگے تھے۔ اس کی حالت دیکھ کر اس کے پاس بیٹھی عورتیں ڈر کر پیچھے ہٹ گئیں بلکہ ایک آدھ تو حجرے سے بھاگ بھی گئی تھیں۔ زلیخا نے دونوں ہاتھوں سے اپنے جبڑوں کو تھام لیا تھا۔ لگتا تھا جیسے اس کے اندر طوفان برپا کرنے والی قوت اس کے جبڑوں کا قیدخانہ توڑ کر باہر نکل جانا چاہتی ہے۔ میں ہی نہیں ملک صاحب بھی اس کی یہ حالت دیکھ کر لرز اٹھے تھے۔ اس کی حالت دیکھ کر وہ غبارہ یاد آ رہا تھا جس میں حد سے زیادہ ہوا بھر دی جائے تو وہ پھٹ جاتا ہے۔ زلیخا کے چہرے کو دیکھ کر یہی لگتا تھا کہیں اندرونی دباؤ اس کے پرخچے نہ اڑا دے۔ اس کے چہرے کے خدوخال بگڑتے چلے جا رہے تھے اور ادھر حضرت جی مسلسل پڑھتے جا رہے تھے۔ پھر اس کے بعد وہ ہوا جس کا آج بھی تصور کرتا ہوں تو پاؤں تک مجھ پر کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ بدن کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسا دلخراش اور خوفناک منظر میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔

زلیخا کی قوت برداشت جواب دے گئی تھی یا اس کے اندر شورش برپا کرنے والی طاقت کا غضب آخری حد کو چھو چکا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر ایک دم کھڑی ہو گئی اور اس کا بدن ایکا ایکی پھیلنے لگا۔ اس لمحہ حضرت جی پورے جاہ و جلال کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے زور سے اپنا دایاں ہاتھ زلیخا کے سر پر مارا اور اس کے سلے ہوئے لب اندرونی طوفان کے ریلے نے ایسے توڑ دئیے جیسے کسی ڈیم کے بند پانی کے دباؤ کی وجہ سے ایک دم کھول دئیے جائیں تو پانی پوری رفتار سے بہہ نکلتا ہے۔ زلیخا نے زوردار غرغراہٹ کے ساتھ خون بھری قے کی جو دور دور تک پھیل گئی۔ حضرت جی کے کپڑے خونی قے سے آلودہ ہو گئے۔ اس لمحہ انہوں نے قادر بخش کو آواز دے کر پانی لانے کے لئے کہا تھا۔ وہ بھاگتا ہوا گیا لمحوں میں ایک کٹورے میں پانی بھر لایا۔

زلیخا قے کرکے پیچھے کو گر گئی تھی‘ بری طرح ہانپ رہی تھی۔ پورا ماحول اس کی قے کے تعفن سے آلودہ ہو گیا تھا۔ سیاہی مائل قے کے کچھ چھینٹے مجھ پر بھی پڑے تھے۔ یہ دیکھ کر بہت سے سائل بھاگ گئے تھے۔

حضرت جی نے پانی لے کر اس پر دم کیا اور زلیخا چہرے کو اس پانی سے دھو دیا۔ ان کے چہرے پر اب اطمینان نظر آ رہا تھا۔ ’’شکر ہے اس ذات کریم کا جو انسان کو خناس کے سحر سے پاک کرنے میں ہماری مدد فرماتی ہے‘‘ حضرت جی نے چلو بھر پانی اپنے چہرے پر ڈالا اور اپنے سائلوں کی طرف دیکھ کر بولے ’’کیا ممکن ہے آپ لوگ آج چلے جائیں ۔

حضرت جی کے معتقد بڑے فرمانبردار تھے سب واپس چلے گئے۔ اب میرے اور ملک صاحب کے سوا کوئی اور سائل نہیں تھا۔

’’شاہد میاں‘‘ حضرت جی مجھ سے مخاطب ہوئے ’’میں غسل کرکے آتا ہوں‘ زلیخا بیٹی کچھ دیر بعد ہوش میں آ جائے گی‘‘ پھر وہ قادر بخش کی طرف رخ کرکے بولے ’’قادر بخش صفائی کر دینا‘‘

ملک صاحب بے ہوش زلیخا کے پاس بیٹھ گئے۔ ان کی آنکھیں تشکر بھرے آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں۔ بیٹی کا سر گود میں رکھ کر وہ ممتا بھرے انداز میں اس کے بکھرے بال سنوار رہے تھے ’’میرے مولا میری سختیاں معاف کر دے‘‘ وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر بار بار اللہ میاں جی سے دعا کر رہے تھے۔

میں نے قادر بخش کے ساتھ مل کر مسجد کے ہال کو پانی سے صاف کیا۔ طاق میں ایک گلاس رکھا ہوا تھا جس میں آٹا ڈال کر اس میں اگربتیاں لگائی ہوئی تھیں۔ فضا میں ابھی تک قے کی ناگوار بو رچی ہوئی تھی۔ میں نے اگربتیاں جلا دیں۔ تھوڑی دیر بعد ہی خوشگوار مہک پھیلنے سے بدبو ختم ہو گئی۔

حضرت جی غسل کرکے آ گئے تھے مگر ابھی تک زلیخا ہوش میں نہیں آئی تھی۔ حضرت جی نے اس کی نبض چیک کی اور اطمینان بھرے انداز میں سر ہلا کر بولے ’’اللہ کا شکر ہے بیٹی کی حالت سنبھل رہی ہے‘‘ وہ شفقت پدرانہ کے ساتھ زلیخا کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے بیدار کرنے لگے ’’اٹھو میری بہادر بیٹی دیکھو تمہارے والد محترم غمزدہ کھڑے ہیں۔ اٹھو اور انہیں خوشخبری سنا دو کہ اب تاریک راتوں کا سفر ختم ہو چکا ہے۔ کہہ دو کہ اب تمہارے من میں نور کی پاکیزہ کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ اٹھو میری پاک دامن بیٹی اٹھو۔ تم کتنے ہی پہروں میں جلی ہو لیکن میرے رب ذوالجلال کی رحمت نے اب تمہیں اپنی پناہ دی ہے‘‘ حضرت جی کے الفاظ ہیرے موتیوں جیسے تھے تو جذبات جنت کی پرسکون فضاؤں جیسے تھے۔ یہ ان کے الفاظ کی تاثیر کی کرامت تھی کہ زلیخا آنکھیں کھولنے لگی اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے چادر سے سر ڈھانپ لیا اور حضرت جی کی طرف عقیدت و احترام سے دیکھنے لگی۔ اس کے چہرے پر اطمینان نور کی طرح برس رہا تھا۔ آنکھوں میں زندگی بیدار ہو گئی تھی۔

’’حضرت جی دل کو بڑا ہی سکون مل رہا ہے‘‘

’’بیٹی اللہ تمہارے قرار کو ہمیشہ برقرار رکھے۔ اب تو سکون ہی محسوس کرتی رہے گی ، لیکن میری بیٹی نماز باقاعدگی سے پڑھتی رہنا۔ میں تمہیں ایک سورۃ مبارکہ کا تحفہ دوں گا۔ اس کو پڑھتے رہنا اللہ اس کے ذاکر کو کبھی غیر مطمئن نہیں ہونے دیتا‘‘

حضرت جی نے زلیخا کے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ’’سورہ الرحمن فجر کی نماز کے بعد باقاعدگی سے پڑھنا اور اس عاصی کے لئے دعائے خیر کرنا۔ میرے مولا کریم کی صفات اس کی عنایات اور انسانوں کی ناشکریوں کا ذکر تمہیں اس سورہ مبارکہ میں ملے گا۔ اللہ کے نیک بندے فرماتے ہیں کہ سورہ الرحمن کے ذاکر کو اطمینان قلب نصیب ہوتا اور اس کے نصیب کے مقفل دریچے کھل جاتے ہیں۔ جہاں تقدیر کا لکھا بے بسی کا نوحہ پڑھتا ہے وہاں ایک ذاکر کو اللہ تعالیٰ اپنی عطا سے نوازتا ہے اور بے شک اللہ کی عطا مقدر کی پابندیوں سے افضل ہے‘‘

’’سبحان اللہ‘‘ میرے دل سے نکلا۔ حضرت جی نے طائرانہ انداز میں میری طرف دیکھا اور پھر ملک صاحب سے مخاطب ہوئے ’’کوشش کریں کہ ہماری بیٹی کی شادی جلد از جلد ہو جائے‘‘

زلیخا شادی کا ذکر سن کر شرما گئی لیکن ایک انجانا سا خوف دوبارہ اس کے چہرے پر منحوس پرچھائیاں ڈالنے لگا۔ میرے دل میں بھی میٹھا سااحساس تقویت پانے لگا یہ سراب سے نکل کر حقیقتوں کو پانے کا جذبہ تھا۔

’’دعا کریں اچھا سا رشتہ مل جائے تو میں اپنی بیٹی کے ہاتھ فوراً پیلے کر دوں‘‘ ملک صاحب نے کہا اور پھر کرب ناگہانی سے ان کی جبیں آلودہ ہو گئی ۔ وہ ریاض شاہ کا معاملہ حضرت جی کے ساتھ ڈسکس کرنے لگے۔

’’ملک صاحب آپ اپنے ایمان کی پوری قوت کے ساتھ ڈٹ جائیں انشاء اللہ وہ آپ کے راستے میں نہیں آئے گا۔ میں نے اس کی ہوس اور شیطانی کو ختم کر دیا ہے۔ اسے فوراً اپنے گھر سے نکال دیں جو بندہ شریعت کا پابند نہیں وہ اللہ کا دوست یعنی پیر اور ولی نہیں ہو سکتا‘‘

’’لیکن کچھ بزرگ کہتے ہیں کہ ریاض شاہ کے پاس روحانی قوتیں ہیں‘‘ میں نے کہا

’’روحانی قوتیں حاصل کر لینا ایک الگ بحث ہے لیکن جو مسلمان ایک بزرگ کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی علوم سے استفادہ کرتا اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ پہنچا ہوا بزرگ ہے مگر نماز اور دیگر شرعی احکامات کو ملحوظ نہیں رکھتا وہ کامل پیر اور ولی نہیں ہو سکتا۔ شاہد میاں ایک بات ذہن میں رکھ لو۔ نماز افضل ترین عبادت ہے۔ اس کی چھوٹ نہیں ہے۔ میرے آقا سرکار دوجہاںؐ سے بڑھ کر متقی پرہیزگار کون ہے۔ آپؐ کے ایک اشارہ پر چاند دو ٹکڑے ہو سکتا ہے‘ اللہ پاک اپنے محبوب کالی کمبلیؐ والے کی کسی بات کو رد نہیں کر سکتا لیکن سرکار دوجہاںؐ اللہ کے حضور سجدے میں رہتے اور اپنے اللہ کے شکرگزار بنے رہے۔ خلفائے اسلام اور صحابہ کرامؓ کی کوئی ایسی مثال بتا دو مجھے کہ انہوں نے کبھی نماز اور دیگر شرعی احکامات سے غفلت برتی۔ اللہ کے بندے، یہ سارے اعلیٰ و افضل انسان روحانیت کے درجہ افضل پر فائز تھے بلکہ میرے جیسے خاکسار تو کسی صحابی رسولؐ کے قدموں کی خاک بھی نہیں ہیں۔ جب ایسے اعلیٰ و ارفع مسلمانوں نے شریعت کا دامن نہیں چھوڑا تو ہم کون ہوتے ہیں یہ دعوے کرنے والے۔ کسی کامل ولی کی داستان حیات پڑھ لو۔ اللہ کی عبادت اور شریعت کے پابند تھے وہ۔ اس لئے تم اپنے دل کو سمجھا لو کہ ریاض شاہ ایک کامل انسان نہیں ہے۔ وہ ہوس کا غلام ہے۔ جنات کا غلام ہے۔ جو لوگ ریاض شاہ کو نیک و بدکار کے درمیانی درجات سے نوازتے ہیں ان کے اپنے مسائل ہوں گے۔ لیکن میں نے جو دیکھا اور سنا ہے اس کے مطابق تو اس کو ایک پراگندہ خیال اور سفلی قوتوں کا ماہر سمجھتا ہوں ۔ایک مسلمان کی شان یہ نہیں کہ ایسے جھوٹے خداؤں کے سامنے جھک جائے۔‘‘

ملک صاحب پر حضرت جی کی باتوں کا گہرا اثر ہوا۔ وہ بولے ’’میں اسے جوتے مار کر نکال دوں گا حضرت جی ۔۔۔میں تو پہلے دن سے اس سے بدگمان ہوں لیکن میرے بچوں اور بیوی کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں‘‘

’’خیر جوتے مار کر نہ نکالئے۔ امن و سکون سے جان چھڑوا لیں۔ میں نے جو تجویز پیش کی ہے اس پر عمل ضرور کریں۔ زلیخا کی شادی فی الفور کر دیں اور ہاں‘‘ حضرت جی کچھ کہتے کہتے رک گئے اور قادر بخش کو بلا کر پوچھنے لگے ’’اس روز جو کپتان صاحب کی والدہ آئی تھیں کیا نام تھا ان کا‘‘

قادر بخش کا حافظہ بلا کا تھا اس نے نام اور اس خاتون کا شجرہ نصب بھی منٹوں میں بتا دیا۔ قادر بخش تم ایڈریس ملک صاحب کو لکھ کر دے دو۔ ملک صاحب یہ خاندانی اور بہت نیک لوگ ہیں۔ مدتوں سے انہیں جانتا ہوں۔ وہ اپنے بیٹے کی شادی کے لئے زلیخا جیسی بیٹی کی تلاش میں ہیں اور انہوں نے یہ ذمہ داری مجھ پر چھوڑ رکھی تھی۔ کہتی تھیں سرمد بیٹے کا رشتہ میرے ہاتھوں سے ہی ہو گا۔ یہ ان کی محبت ہے کہ مجھ پر اعتماد کرتی ہیں آپ خود ان سے ملئے میرا حوالہ دیں ،اللہ نے چاہا تو بہتری ہی ہو گی۔‘‘

حضرت جی کی بات سن کر میرا دل اضمحلال سے بیٹھ گیا۔

’’حضرت جی آپ نے یہ کیا کر دیا‘‘ میرا دل ڈوبنے لگا کیا زلیخا اب بھی مجھے نہیں ملے گی۔ زلیخا نے حضرت جی کی بات سننے کے بعد ایک ثانئے کے لئے میری طرف دیکھا تھا۔ میری تو دنیا ہی لٹ گئی تھی میں کیسا بدنصیب تھا جسے گوہر محبت نصیب نہیں ہو رہا تھا۔

حضرت جی کے التفاقات سمیٹ کر ہم واپس آنے لگے تومیرا حال شکست خوردہ سپاہی جیسا تھا‘ پاؤں من من کے ہو رہے تھے اور من میں ہول اٹھ رہے تھے۔ ایک بار تو بے اختیار ہو کے میں نے حضرت جی کے ہاتھ پکڑ لئے تھے۔ دل نے بہت چاہا کہ ان سے کہوں ’’دلوں کے حال آپ جان لیتے ہیں تو حضرت جی میری حالت پر رحم کیوں نہیں کھاتے‘‘ لیکن دل اپنی زبان نہ کھول سکا۔ مسجد سے نکلنے سے پہلے حضرت جی نے میرے کاندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور ہلکا سا تھپتھپا کر کہا ’’حوصلہ کرو اللہ بہتر کرے گا‘‘

میری آنکھیں غم سے سلگ رہی تھیں۔ لیکن اب میں نے اپنے جذبات پر قابو پا لیا تھا ۔یہی شرافت کا تقاضا بھی تھا۔میں نے صرف اثبات میں سر ہلا کر حضرت جی کے اشارے کو سمجھنے کی تصدیق کر دی۔

’’شاہد میاں ۔۔۔ زلیخا کو سخت قسم کے جادو سے اسیر بنایا گیا تھا۔ اپنے بابا جی سے کہنا جس زبان سے اللہ رسولؐ کا نام لیتے ہیں اس کو شیطانی اعمال کے لئے استعمال نہ کریں اور اگر اب بھی تمہارا ریاض شاہ باز نہ آیا تو رب ذوالجلال کی قسم میں اسے کہیں کا نہ چھوڑوں گا‘‘

میں نے انہیں یقین دلایا کہ ایسا ہی کہوں گا۔

رات گئے ہم ملکوال پہنچے۔ راستے بھر ہم تینوں نے کوئی بات نہیں کی تھی۔ حویلی پہنچ کر میں سیدھا اپنے کمرے میں جا کر بستر پر گر گیا اور تکیہ اپنے منہ پر رکھ کر حزن و ملال کی برکھا میں نہانے لگا۔ ساری رات میں نے یونہی گزار دی۔ مجھے نہیں معلوم اس رات حویلی میں کیا کچھ ہوا ہو گا۔ شکستگی اور رنج نے مجھے اندر سے اس قدر بے خوف اور لاتعلق کر دیا تھا کہ بے حسی کے سوتے میرے اندر دھڑا دھڑ پھوٹنے لگے۔ نماز فجر کے وقت چاچی نے آ کر مجھے بیدار کیا تھا۔ اس کا رنگ اترا ہوا تھا۔

’’پتر تو ادھر پڑا ہے اور ادھر قیامت مچی ہوئی ہے‘‘

’’کیا ہوا ہے چاچی‘‘ میں بے تاثر جذبات سے انہیں دیکھنے لگا

’’شاہ صاحب آگ کا گولا بنے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں ساری حویلی کو جلا کر راکھ کر دوں گا۔ بابا جی بھی ناراض ہیں۔ وہ جا رہے ہیں۔ ملک صاحب نے کہا ہے کہ انہیں نہ روکنا لیکن پتر جی اگر وہ ناراض ہو کر چلے گئے تو اچھا نہیں ہو گا‘‘

’’چاچی میں کیا کر سکتا ہوں۔ اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو انہیں جانے دیں۔ ملک صاحب جو کہتے ہیں اس پر عمل کریں‘‘ میرے دل میں بے حسی کا یہ عالم برپا تھا کہ مجھے حویلی سے اٹھتے ہوئے شعلوں کا منظر اچھا لگ رہا تھا۔ جب میرا نشیمن الفت ہی جل گیا تو مجھے اس کے دروبام سے کیا رغبت تھی۔ خود غرضی نے اکسایا کہ آج حویلی والوں کو جلنے دو۔ انہیں مرنے دو۔ شاہ صاحب کے راستے میں کھڑے نہیں ہونا۔ جو ہوتا ہے آج ہو جانے دو۔ تم اپنے لب سی لو اور دیکھو تماشا۔ زلیخا مجھے نہیں ملے گی تو کسی کو نہیں ملے گی۔ خود غرضی کی یہ جنگ میرے اعصاب پر بری طرح سوار ہو گئی تھی اور اس وقت میں بھول گیا کہ میں بھی تو ہوس کا غلام بن گیا ہوں۔ مجھ میں اور ریاض شاہ میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ لیکن یہ سوچ میرے ذہن میں ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں آئی لیکن جب پشیمانی کا ریلہ اٹھا اس وقت تک پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا تھا۔ نشیمن اجڑ گیا تھا اور صدائے یاراں نہ جانے کہاں کھو گئی تھی۔

میں چاچی کے ساتھ شاہ صاحب کے حضور پیش ہوا تو وہ دیکھتے ہی نفرت سے بولے ’’یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔ تم زلیخا کو چاہتے تھے اس لئے تم نے نفرت کا یہ بیج بویا ہے‘‘

یہ سن کر چاچی حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگی ’’ہیں اس کا کیا قصور ہے شاہ صاحب‘‘

’’اس نے پٹی پڑھائی ہے ملک صاحب کو۔ اس نے بڑا ظلم کیا ہے۔ حضرت جی کے پاس یہی لے کر گیا تھا انہیں‘‘

’’ہاں ہاں میں ہی لے کر گیا تھا‘‘ جذبات کے سیل رواں میں بہتے ہوئے میں نے کہا ’’کیا برا کیا ہے میں نے ۔تم جیسے انسان کو نہیں بلکہ انسان کے روپ میں ایک شیطان کو پکڑنے کے لئے ہمارے پاس کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا۔ تم نے روحانیت اور نیکی کی آڑ میں ہم لوگوں کے ایمان کو بیچ ڈالا۔ ہمیں بیچوں بیچ چوراہے میں ننگا کرکے مارا ہے۔ تم ایک بے غیرت انسان ہو ریاض شاہ۔ ہم نے حویلی کی عزت بچانے کے لئے اللہ کے ایک سچے اور کامل بزرگ سے مدد لی ہے اور سچائی سامنے آ گئی ہے۔ تم نے زلیخا پر جادو کیا اور اس کی سوچوں پر اپنے پہرے بٹھا دئیے۔ بتاؤ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں۔ تمہیں جس نے حضرت جی کے بارے میں بتایا ہے ان سے یہ بھی پوچھ لینا تھا کہ زلیخا نے خون کی جو قے کی ہے وہ کس کا دیا ہوا زہر تھا‘‘ میں بولتا ہی چلا گیا ’’کہاں ہیں بابا جی بلاؤ انہیں۔ میں انہیں اللہ کی عدالت میں کھینچ کر رہوں گا۔ ہم تم لوگوں کو نیک اور اسلامی سمجھتے رہے لیکن تم نے ہمیں گمراہ کیا۔ تم کہتے تھے کہ بابا جی اور ان کے بزرگ صحابی رسولؐ تھے۔ اللہ مارے تم جیسے انسان کو ریاض شاہ۔ تم نے ان بزرگوں کو بھی بیچ ڈالا، اللہ تمہیں نہیں چھوڑے گا۔ کان کھول کر سن لو تمہارا یہ معاملہ یہاں کے بزرگوں کے علم میں آ چکا ہے۔ تم جناتی قوتوں کو انسانی معاملات کے لئے استعمال کر رہے ہو۔ تم نے جنات کو بھی اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ تم نے اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں کو توڑا ہے ریاض شاہ اللہ تمہیں نہیں چھوڑے گا‘‘

میری باتیں سن کر ریاض شاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

’’میں جھوٹا مکار اور شیطان ہوں اگر یہی ہے تو پھر اس کا نتیجہ تم جلد بھگت لو گے‘‘

’’ریاض شاہ۔ بہتری اسی میں ہے کہ خاموشی سے چلے جاؤ۔ تمہاری عزت اسی میں ہے۔ ہم نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ تمہارے ہر قہر کا سامنا کر لیں گے لیکن تمہیں بھی اس قابل نہیں چھوڑیں گے کہ آئندہ کسی عزت دار اور معصوم گھرانے کو تباہ کر دو‘‘

میں نے ریاض شاہ کو حضرت جی کا پیغام سنایا تو وہ سیخ پا ہو کر بولا ’’میں اس بڈھے کو دیکھ لوں گا‘‘ وہ نتھنے پھیلا کر اپنے اندر کے سفلی انسان کی بھڑاس نکالتا رہا۔ اپنا سامان جلدی سے سمیٹا اور سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی حویلی سے رخصت ہو گیا۔ لیکن جاتے جاتے اس کے جنات دو عبرتناک نشانیاں حویلی والوں کو دے گئے۔جنات نے حویلی کے سارے پودے جڑوں سے اکھیڑ دئیے اور کئی کمروں کے شہتیر گرا دئیے۔ حویلی کے مکینوں نے بڑی مشکل سے جان بچائی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ میری باتیں اسے برانگیختہ کر دیں گی اور یہی ہوا۔ ملک صاحب کے سارے جانور بھی ہلاک ہو گئے تھے چند لمحوں میں حویلی کھنڈر بن کر رہ گئی تھی۔

دوپہر تک ہم سہمے رہے کہ نہ جانے اب کیا ہو۔ اللہ کا شکر تھا کہ کسی کو کوئی جسمانی تکلیف نہیں پہنچی تھی ملک صاحب اور میں اسی دوپہر کو کپتان کے گھر گئے۔ اس کی والدہ حضرت جی کے بھیجے ہوئے رشتے پر اس قدر نہال ہو گئی تھی کہ بیان خوشی سے باہر ہے۔ وہ کہنے لگی ’’میرے بیٹے کو چند روز پر محاذ پر جانا ہے۔ میں تو چاہوں گی اس کا نکاح اور رخصتی ابھی ہو جائے‘‘ میں نے شاید ہی زندگی میں کسی کی شادی اس قدر تیزی سے ہوتے دیکھی ہو گی ملک صاحب نے مصلحت کے تحت حویلی کی خستہ حالی کو نظرانداز کر دیا اور دو روز میں ہی حضرت جی کی موجودگی میں زلیخا پیا گھر سدھار گئی۔

میں نے زلیخا کی ڈولی کو کاندھا دے کر رخصت کیا تھا۔ میں اپنے جذبات کو بیان نہیں کر سکتا۔ منتقم مزاجی اور بے حسی نے مجھے دونوں میں عام سا انسان بنا دیا تھا۔ جس شام زلیخا کی ڈولی اٹھی میں اپنا جنازہ اٹھا کر قبرستان چلا گیا۔ اپنے ارمانوں کو بے گور و کفن دفن کرنے کے لئے۔ اچھا بھلا لباس زیب تن کیا ہوا تھا میں نے۔ میں نے اسے ہی بہترین کفن سمجھا۔ خوشبو لگا رکھی تھی‘ سوچا یہ کافور سے بہتر ہو گی۔ بیری اور کیکر کے درختوں کے بیچوں بیچ خود کو خود کو گھسیٹتا ہوا میں قبرستان میں اس جگہ پر جا کر ڈھیر ہو گیا جہاں ٹاہلی والی سرکار بیٹھا کرتی تھیں۔ میں ان کے والد کی قبر کے سرہانے جا کر گر گیا۔ ’’بابا مجھے معاف کر دینا۔ میں اپنے اندر کے انسان کو نہیں مار سکا‘‘

’’تم نے ایک عشق کرکے دیکھ لیا۔ اب اس ذات سے عشق کرکے بھی دیکھ لے‘‘ مجھے اپنے اندر کسی نے گویا ایک نشتر چبھو کر تڑپا دیا تھا ’’تجھ سے کہا تھا یہ ترے نصیب میں نہیں ہے تو پھر کیوں اس آگ میں جلتا رہا‘‘ مجھے لگا میرے آس پاس کوئی کھڑا ہے اور مجھے طنز کر رہا ہے۔ میری حالت پر ہنس رہا ہے۔

میں دکھ کی چتا میں جل رہا تھا۔ نہ جانے یہ کیسی اگن تھی جو بجھنے کو نہیں آ رہی تھی۔ ہزاروں آوازیں میرے تعاقب میں تھیں۔ بابا جی‘ غازی اور ان کے جنات کے عکس قہقہے لگاتے میرے آگے پیچھے سے گزر رہے تھے اور میں ٹاہلی والی سرکار کے والد گرامی کی قبر پر ٹکریں مار مار کرکسی معجزہ ،کرامت کا منتظر تھا۔

’’او خدایا تو کہاں ہے۔ میری حالت پر رحم فرما۔ مجھے اس آگ سے نجات دلا دے‘‘ میں جانتا تھا اس ذات اعلیٰ و برتر کے سوا میرا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ لیکن اللہ میاں جی نے مجھ پر رحم نہیں کھایا۔ میں نے ساری رات غموں کے بوجھ تلے دب کر گزار دی۔ میرے اندر پیدا ہونے والی بے حسی نے مجھے سجدہ میں نہیں گرنے دیا۔ میں تو بزرگوں کی تعلیمات کو بھی بھول گیا تھا۔

میں آج اس رات کے بارے میں سوچتا ہوں تو اپنی اس حالت پر مجھے ترس بھی آتا ہے اور حیرانی بھی۔ مجھے یاد ہے اس کے بعد میں کبھی کسی بھی قبرستان میں نہیں ٹھہرا۔ اگر کوئی عزیز وغیرہ فوت بھی ہو گیا اور اسے دفنانے کے لئے قبرستان جانا بھی پڑا تو میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ ہی ٹھہرا ہوں گا۔ کیونکہ قبرستان داخل ہوتے ہی میں یادوں کی برسات میں بھیگنے لگتا ہوں۔ مجھ پر وحشت اور خوف طاری ہو جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے مردے قبروں سے نکل کر مجھ پر جھپٹنے لگتے ہیں۔ اللہ گواہ ہے میں وہم و خیال کا شکار ہونے والا انسان نہیں ہوں۔ ایک انسان جن حالات سے گزرتا ہے اس کے درد کی کیفیات کوئی دوسرا کیونکر لگا سکتا ہے۔ اس رات میں قبرستان میں یوں پڑا رہا تھا جیسے میں بھی مردہ ہوں۔ یہ اتفاق ہی تھا یا اللہ نے میری حفاظت کی خاطر مجھے اس خوفناک ویرانے میں مجھے تنگ کرنے کے لئے کسی شے کو میری طرف نہیں آنے دیا تھا۔ بہرحال صبح ہوئی ،دوپہر ہونے کو آ گئی، میں بے ہوش پڑا رہا۔ مکھیاں اور کیڑے میرے اوپر رینگتے اور اڑتے رہے۔ کوئی بارہ بجے کی بات ہے۔ گاؤں کے کسی شخص نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو بھاگتا ہوا ملک صاحب کے پاس گیا۔ اس وقت وہ زلیخا کے پاس شہر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ اور نصیر بھاگتے ہوئے میرے پاس آئے۔ مجھے ہوش میں لانے کی کوشش کرتے رہے لیکن میں ہوش میں نہیں آیا تو دونوں مجھے تانگے میں لاد کر حویلی لے آئے۔ وہ زلیخا کا مکلاوا لینے جانا بھول گئے اور مجھے ہوش میں لانے کی تدابیر کرتے رہے۔ وہ کس قدر پریشان تھے اس کا اندازہ تو مجھے ہوش میں آنے کے بعد ہوا۔ انہوں نے جس اپنائیت کا ثبوت دیا تھا اور میری خاطر اپنے خون کے رشتوں کو بھول گئے تھے اس کی مثال نہیں ملتی۔ مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ چاچی نے انہیں یہ بتا دیا تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور چاچی نے ہماری شادی کا عندیہ بھی ظاہر کر دیا تھا لیکن حالات اس قدر تیزی سے بدل گئے تھے کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکا تھا۔ ملک صاحب چاچی پر بہت زیادہ برسے تھے بلکہ انہوں نے رنج و ملال کے ساتھ کہا تھا۔

’’اوئے کم عقلی عورت‘ اگر تو نے یہ بات مجھے پہلے ہی بتا دی ہوتی تو میں حضرت جی کے پاؤں پکڑ کر ان سے پوچھ لیتا کہ اپنے شاہد پتر کے ساتھ زلیخا کی شادی کیوں نہ کر دوں۔ مجھے اس سے زیادہ پیارا کون ہو سکتا تھا‘‘

ملک صاحب نے نصیر اور چاچی کو دوسرے عزیزوں کے ساتھ زلیخا کے ہاں بھجوا دیا تھا۔ اگر انہیں زیادہ دیر ہو جاتی تو ولیمہ برباد ہو جاتا اور وہ لوگ پریشان ہو جاتے۔ ملک صاحب نے ایک رقعہ لکھ کر نصیر کے حوالے کر دیا تھا کہ وہ حضرت جی کو جا کر دے آئے۔

پینتیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں